کورنا کے مریضوں میں کمی مگرخطرہ ابھی باقی ہے، پروفیسرڈاکٹر اسد اسلم خان 

کورنا کے مریضوں میں کمی مگرخطرہ ابھی باقی ہے، پروفیسرڈاکٹر اسد اسلم خان 

  

لاہور (جاوید اقبال) صوبائی دارلحکومت سمیت ملک کے طول و عرض میں کورونا وائرس کے مریضوں میں کمی آرہی ہے تاہم یہ خطرہ ابھی باقی ہے۔ لاہور کی طرز پر دیگر شہروں میں بھی جہاں کورونا وائرس کے خطرات موجود ہیں اور شواہد بھی موجود ہیں۔ وہاں مائکرو سمارٹ لاک ڈاؤن کی طرف جانا پڑے گا۔اس امر کا اظہار پنجاب کورونا ایکسپرٹ ایڈوائزری گروپ کے وائس چیئرمین پروفیسرڈاکٹر اسد اسلم خان ”پاکستان“ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں کورونا وائر س کے باعث سندھ میں چھ اموات ہوئیں ہیں لیکن اللہ کے کرم سے پنجاب محفوظ ہے اور یہاں روز بروز کورونا کے مریضوں میں کمی آرہی ہے۔ صرف صوبے میں پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران35 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔لیکن میں پھر کہتا ہوں کہ خطرہ ابھی ٹلا نہیں محرم الحرام بڑی اہمیت کا حامل ہے اور خطرات بھی موجود ہیں حکومت اور عوام دونوں کو ایک پیج پر آکر ایس او پیز پر عمل کروانا ہو گا۔اگر کوتاہی ہوئی تو محرم الحرام کے پندرہ روز کے بعد کورونا کی ایک بڑی لہر سامنے آسکتی ہے اور لوگوں کو بڑی تعداد میں کورونا متاثر کر سکتا ہے اور یہ لہر پھیلاؤ کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں پروفیسر اسد اسلم خان نے کہا کہ حکومت کی کورونا کے حوالے سے پالیسی کامیاب رہی۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 54ہزار آٹھ سو افراد کے کورونا ٹیسٹ کروائے گئے جن میں صرف 95 لوگوں کا کورونا پازیٹو آیا اور اوسطاًنتیجہ0.16فیصد رہا جو کہ انتہائی حوصلہ افزاء بات ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نالوں میں سے جو سیمپل لئے گئے ان میں ستر فیصد علاقوں کے پانی کے ٹیسٹ میں کرونا پازیٹو آیا اس رپورٹ کی مدد سے ان علاقوں کے مریضوں تک پہنچا جا سکتا ہے جو گھروں میں موجود ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر محرم الحرام کے دوران لوگ ایس او پیز پر عمل کرتے ہیں تو اس کے بعد ہونے والے ٹیسٹوں میں کیسزسامنے نہیں آتے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم بڑی حد تک محفوط تو ہو گئے ہیں لیکن وائرس ابھی موجود ہے جس کے لئے پوری قوم کو مل کر ساتھ دینا ہو گا۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -