عمران خان، نوازشریف کو جانے کی اجازت دے کر پچھتا رہے ہیں، شیخ رشید

عمران خان، نوازشریف کو جانے کی اجازت دے کر پچھتا رہے ہیں، شیخ رشید
عمران خان، نوازشریف کو جانے کی اجازت دے کر پچھتا رہے ہیں، شیخ رشید

  

وفاقی وزیر ریلوے اور تحریک انصاف حکومت کے حلیف شیخ رشید کی ہفتہ وار لاہور آمد اور میڈیا سے گفتگو بھی معمول ہے۔ تاہم اس ہفتے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب اور داخلہ بیرسٹر شہزاد اکبر بھی تشریف لائے اور اپنے دائیں طرف شہباز گل اور بائیں جانب صوبائی سیکریٹری اطلاعات فیاض الحسن چوہان کو بٹھا کر پریس کانفرنس کی ایسا احساس ہوا کہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ جن کے حوالے سے بات کرنا ہے انہی کے شہر میں جا کر کریں تو زیادہ سود مند ہو گی۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی لندن سے وائرل ہونے والی حالیہ ایک تصویر کو موضوع سخن بنایا جو پہلے ہی سے زیر بحث ہے اور تحریک انصاف کی طرف سے اسے بنیاد بنا کر کہا جا رہا ہے کہ محمد  نواز شریف صحت مند نظر آتے ہیں اور ان کے خاندان سمیت مسلم لیگ (ن) والوں کے علم میں ہے، بیرسٹر شہزاد اکبر نے بھی اسی حوالے سے بات کی  اور انہوں نے محمد نواز شریف کو مفرور قرار دے دیا اور موقف اختیار کیا کہ ان کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر علاج کے لئے جانے کی اجازت دی گئی، ان کو گئے آٹھ ماہ ہو گئے اور وہ واپس نہیں آئے اور نہ ہی انہوں نے علاج کرایا وہ اچھے بھلے لندن میں گھوم پھر رہے اور وہاں بیٹھ کر سیاست کر رہے ہیں۔ بیرسٹر شہزاد کا کہنا تھا کہ حکومت نے ان کو واپس لانے کا فیصلہ کیا ہے، اور اس کے لئے دفتر خارجہ سے کہا گیاہے کہ وہ برطانوی حکومت سے رابطہ کرے، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نیب سے بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ بھی کارروائی کریں، ان کا دعویٰ تھا کہ بیماری کے علاج کے لئے ان کو ضمانت دی گئی تھی وہ مقررہ وقت میں واپس نہیں آئے تو یہ ضمانت از خود منسوخ ہو گئی ہے۔

جہاں تک محمد نوازشریف کی لندن روانگی کا مسئلہ ہے تو عدالت نے صوبائی حکومت کی صوابدید پر ضمانت دی اور صوبائی حکومت کی طرف سے آٹھ ہفتے کی اجازت دی گئی تھی، اب صوبائی حکومت کا موقف ہے کہ محمد نواز شریف کی یہ رعایت مکمل ہو گئی وہ واپس نہیں آئے تو ضمانت از خود ختم ہو گئی جبکہ سابق وزیر اعظم کے ڈاکٹر نے بیان دیا کہ محمد  نواز شریف کی طبی رپورٹیں پنجاب حکومت کے پاس جمع کرا دی گئی ہوئی ہیں، ان کا علاج کورونا کی وجہ سے شروع نہیں ہوا، مسلم لیگ (ن) کے راہنماؤں نے حکومت کی طرف سے اعتراض اور الزام کے جواب میں کہا کہ قائد مسلم لیگ (ن) کی تمام طبی رپورٹیں دیکھ کر ہی ان کو جانے کی اجازت دی گئی اور یہ عدالتی حکم کے تحت توہین عدالت ہے جو ان کو مفرور کہا گیا، ایسا کسی کے کہنے سے تو نہیں ہوتا۔ عدالت ہی فیصلہ کر سکتی ہے، ادھر اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک دو رکنی بینچ یکم ستمبر کو نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزاؤں کے خلاف اپیل کی سماعت کرے گا اور یہی بنچ نیب کی اپیلیں بھی ساتھ ہی سنے گا جن کے ذریعے ضمانت کی منسوخی،سزا میں اضافہ اور بری ہونے والے کیس میں بھی سزا دینے کی استدعا کی گئی ہے، یوں اب یکم ستمبر کا اتنظار ہونا چاہئے لیکن یہاں سیاسی سوال، جواب جاری ہیں۔

فرزند راولپنڈی شیخ رشید نے بھی معمول کے مطابق اس مسئلہ پر اظہار خیال کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ  نوازشریف کی واپسی مشکل ہے، عمران خان اب پچھتا رہے ہیں کہ انہوں نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جانے کی اجازت ہی کیوں دی؟ شیخ رشید نے بھی پھر دہرایا کہ عمران خان کو کوئی خطرہ نہیں، وہ پانچ سال پورے کریں گے اور اپوزیشن کو این آر او چاہئے جو نہیں ملے گا کہ عمران خان ایسا نہیں کریں گے۔ بظاہر لندن کی ایک تصویر کے وائرل ہونے سے یہ مسئلہ پیدا ہوا لیکن بات ذرا مختلف ہے کہ مسلم لیگ کے مرکزی صدر اور قائد حزب اختلاف محمد شہباز شریف پس منظر میں چلے گئے۔ مریم نواز نے نیب کی پیشی کے موقع پر بات کی اور بعد میں محمد نوازشریف کی طرف سے مختلف فون کالوں کی اطلاعات چلیں کہ انہوں نے بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمن سے فون پر بات کی اور ان کو مسلم لیگ (ن) کے تعاون کی مکمل یقین دہانی کرائی کہ متحدہ اپوزیشن جو فیصلہ کرے اس پر عمل کیا جائے گا، لہٰذا کل جماعتی کانفرنس بلائی جائے اور یہ بات بہت ناگوار گزری ہے اور یہی الزام لگایا گیا کہ وہ کیسے بیمار ہیں کہ سیاسی طور پر سرگرم اور لندن بیٹھ کر ڈوریاں ہلا رہے ہیں۔

پیپلزپارٹی مرکزی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے بھی اے پی سی کے انعقاد کی بات کی اور لاہور ہی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عاشورہ محرم کے بعد کل جماعتی کانفرنس ہو گی اور متحدہ اپوزیشن کے فیصلے ہوں گے تاہم مولانا فضل الرحمن کی طرف سے ایسی اطلاعات آ رہی ہیں کہ وہ عاشورہ محرم کے بعد مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے بغیر اپوزیشن اتحاد بنانے جا رہے ہیں اور اے پی سی بلائیں گے دیکھیں کیا ہوتا ہے۔

پنجاب اور خصوصاً لاہور میں چینی اور آٹے کی مہنگائی، اشیاء ضروریہ اور خوردنی کی گرانی کے ساتھ لوڈشیڈنگ اور شہری مسائل سے عوام پریشان ہیں تاہم احتجاج کی بجائے لاتعلق سے نظر آ رہے ہیں،  ان حضرات نے کورونا کو شاید شکست دے دی اور لوگ کسی خوف اور احتیاط کے بغیر معمول کی سرگرمیاں شروع کر چکے ہوئے ہیں۔ اللہ خیر کرے سیاحتی مقامات سے اچھی خبریں نہیں ہیں، بہر حال عاشورہ محرم کیلئے بھی حفاظتی اقدامات کے لئے اہم فیصلے کئے گئے۔ دعا گو ہیں کہ سب خیریت رہے اور کورونا کا جو سلسلہ رکا ہے وہ آگے نہ بڑھے۔ برسات کے پانی کی وجہ سے ڈینگی بخار کا سلسلہ شروع ہو چکا وزیر اعلی کی طرف سے ان مسائل کے حل کا اعلان اور خود نگرانی کرنے کی خبر جاری کی گئی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -