عثمان بزدار کا نیا لاہور

عثمان بزدار کا نیا لاہور
 عثمان بزدار کا نیا لاہور

  

ماضی کے ایک خاندان کے علاوہ پنجاب اور لاہور پر حکمرانی کرنے والا کوئی دوسرا حکمران لاہوریوں کو کبھی نہیں بھایا،جس کا ثبوت ماضی کے انتخابات ہیں۔شریف فیملی کے علاوہ جس بھی دوسری بڑی سیاسی فیملی نے لاہور کو فتح کرنے کی کوشش کی، یہاں سے انتخاب میں حصہ لیا،کامیابی اس کا مقدر نہ بنی۔شریف فیملی نے پچاسی کے بعد لاہور میں جو ترقیاتی منصوبے دیے،ان پر لاہور میں واہ واہ تو ہوئی انگلیاں بھی اٹھیں، جنوبی پنجاب کے نامور صحافی ظفر آہیر اور ملتان پریس کلب کے صدر شکیل انجم جب بھی ملتے وہ سرائیکی وسیب کے ساتھ زیادتیوں کی بات کرتے،ان کے شکوے گلے بالکل بجا تھے۔ یقینا ضرورت اس امر کی ہے کہ بڑے شہروں کو ترقی دی جائے مگر اس طرح کہ اس سے عوام کو فائدہ ہو صرف چند لوگوں کا فائدہ نہ ہو۔

 لاہور ماضی قریب میں غیرملکی سیاحوں،گردو نواح کے دیہات قصبات سے آنے والوں کیلئے ایک رومانس تھا،بلند وبالا،سایہ دار درختوں سے ڈھکا یہ شہر جس میں پھلدار درختوں اور پھل دار پودوں کی بہتات ہوتی تھی،باغات کے اس شہر کو سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھا کر اس کا اصل حسن غارت کر دیا گیا،لاہور کا ہر علاقہ اپنی ایک الگ شناخت رکھتا تھا،قدیم لاہور جسے اب والڈ سٹی کہا جاتا ہے میں بھی سایہ دار وسیع رقبہ پر پھیلے درختوں کی بہار ہوتی تھی،انگریز دور کا سیوریج کا بہترین نظام تھا جس کی بدولت بارش یا استعمال شدہ پانی فوری نکل جاتا،واٹر سپلائی کا نظام بھی بہترین تھا،شہر کے تمام علاقوں میں درختوں،باغات کی سیرابی شہر کے درمیان میں بہنے والی نہر کے پانی سے کیا جاتا،جس کے باعث زیر زمین پانی کی سطح بھی نیچے نہیں جاتی تھی اور بجلی کا ضیاع بھی نہیں ہوتا تھا،مال روڈ کو ٹھنڈی سڑک کا نا م اس لئے نہیں دیا گیا کہ یہاں کوئی کولنگ سسٹم فٹ تھا،بلکہ سڑک کے اطراف میں لگے درخت اس کو شدید گرمی کے موسم میں بھی ٹھنڈا رکھتے،مال روڈ ہی کیا شہر کی تمام شاہراہیں سبزہ و گل سے لہلہاتی اور مہکتی رہتی تھیں،تب درختوں کی کٹائی ممنوع تھی اور سڑکوں پر لگے درخت سرکاری ملکیت تھے،باقاعدہ شجر شماری ہوتی تھی۔

  آہستہ آہستہ لاہور کے ارد گرد بھی لاہور بستا گیا،اطراف و نواح سے لہلہاتی فصلیں غائب ہو گئیں اور ہاؤسنگ سوسائٹیاں تعمیر ہونے لگیں، شریف حکومتوں کی شعبہ زراعت سے عدم دلچسپی کے باعث صوبہ کے دیگر شہروں سے لاہور کی طرف منتقلی میں تیزی آئی،جس سے آبادی کا بوجھ بڑھا مگر اس پر توجہ نہ دی گئی،پنجاب کا دارالخلافہ ہونے کی وجہ سے تمام بڑے ہسپتال،تعلیمی ادارے،سرکاری دفاتر بھی لاہور میں واقع تھے،صنعتیں بھی اسی شہر میں تھیں لوگ روزگار کی تلاش میں بھی اسی شہر کا رخ کرتے،راقم نے بھی اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ لیا،تب لاہور کی شان ہی جدا تھی،یونیورسٹی کے گردونواح کا نظارہ بہت دلفریب تھا اس پر نہر کی روانی،ٹھنڈا پانی،سبک ہوا اور خوشگوار فضا سے نشہ طاری ہو جا تا،مگر اس شہر کو جانے کس کی نظر کھا گئی،افسوس حکمرانوں نے لاہور کو پیرس بنانے کے چکر میں شہر نا پرساں بنا ڈالا،اندھا دھند درختوں کی کٹائی کر کے سڑکوں کو توسیع دی گئی،اور متبادل بندوبست نہ کیا گیا،گرین بیلٹس کا خاتمہ کر دیا گیا،غیر قانونی پلازوں کی تعمیر کی اجازت دی گئی،سیاسی دباؤ میں نقشہ کی خلاف ورزی کر کے عمارتوں کو وسعت دی گئی،رہائشی علاقے کمرشل کر دئے گئے،مگر ماحول، پارکنگ، تجاوزات بارے کچھ نہ سوچا گیا،نتیجہ نکلا افراتفری،آج اس شہر کی ٹریفک سڑکوں کی توسیع،انڈر پاسز،اوور ہیڈ کی تعمیر کے باوجود جام رہتی ہے جس کے باعث زہریلی گیسیں ماحول آلودہ کرتی ہیں اور ایندھن کا بے تحاشا ضیاع ہوتا ہے۔

  وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اس حوالے سے قابل تحسین ہیں کہ ان کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے مگر انہوں نے جنوبی پنجاب کے ساتھ ساتھ لاہور شہر کے مسائل حل کرنے کی طرف سنجیدگی سے توجہ دی ہے،وہ خود کو سب کچھ سمجھنے کی بجائے سب کے مشورے سے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس حوالے سے مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل کیلئے ایک کثیرالجہتی بڑی کمیٹی تشکیل دی جس نے اپنی سفارشات مرتب کر نا شروع کر دی ہیں،شہر سے آبادی کا بوجھ کم کرنے کیلئے راوی کنارے ایک نئے شہر کو بسانے کیلئے ایک پرانے منصوبے پر کام شروع کرنے کا حکم دیا ہے،جس پر عملی کام شروع ہو چکا ہے،برسات کے دنوں میں شہر کو بارش کے پانی میں ڈوبنے سے بچانے کیلئے بارشی پانی کو سٹور کرنے کے منصوبہ پر بھی کام شروع ہو چکا ہے ٹینڈر جلد طلب کئے جائیں گے،اس پانی کو ذخیرہ کر کے ایک طرف شہریوں کو محفوظ کیا جائے گا مالی نقصان سے بچا جا سکے گا اور اس پانی کو شہر کے پارکوں کی آبپاشی کیلئے استعمال کر کے وسائل اور بجلی کے ساتھ زیر زمین پانی کو بچایا اور سطح کو مزید نیچے گرنے سے روکا جا سکے گا۔انہوں نے۔ایل ڈی اے کو احمد عزیز تارڑ کی شکل میں ایک فعال اور محنتی ڈی جی دیا ہے جو ہر وقت اپنے کام میں مگن رہتا ہے،اگراسے اسکی جیسی ایک محنتی ٹیم دے دی جائے تو وہ لاہور کو پیرس تو نہیں مگر لاہور ضرور بنا دے گا۔  کہا جاتا ہے کہ لاہور کے مسائل نئے نہیں ایسے ہی مسائل کا کراچی کو بھی سامنا ہے،مگر کراچی میں بندر گاہ ہونے کی وجہ سے روزگار کے بہت وسائل موجود ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کا شہری حکومت پر انحصار کم ہو جا تا ہے جبکہ لاہور میں ایسا نہیں،آبادی کے دبا? کی وجہ سے معاشی مسائل جنم لیتے ہیں جن کے بطن سے لا قانونیت پیدا ہوتی ہے،عثمان بزدار پہلے وزیر اعلیٰ ہیں جن کی نظر آبادی،معاشی مسائل اور امن و امان پر بھی ہے،نئے شہر کی آبادکاری سے یہ تینوں مسئلے ازخود ختم نہیں تو کم ضرور ہو جائیں گے،شہر میں پینے کے شفاف پانی کی قلت دور کرنے کیلئے بھی اقدامات جاری ہیں اس حوالے سے زیر زمین پانی کو محفوظ رکھنے اور پانی کی سطح کو مزید گرنے سے بچانے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔

  لاہور سیاسی کے ساتھ صنعتی اور اقتصادی مرکز بھی ہے اس لئے صرف صوبہ سے ہی نہیں دیگر صوبوں سے بھی لوگ روزگار کیلئے اسی شہر کا رخ کرتے ہیں،اس روش کو روکنے کیلئے عثمان بزدار نے پنجاب کے دیگر شہروں میں صنعتی فروغ اور شعبہ زراعت سے وابستہ افراد کو سہولیات دینے کے منصوبہ پر کام شروع کر دیا ہے،جس سے روزگار لوگوں کو ان کے گھر کے قریب ملے گا اور شہر لاہور پر آبادی کا بوجھ کم ہو گا جو شہر کے مسائل کی اصل جڑ اور ضروریات زندگی میں خود کفالت کیلئے ناگزیر ہے،جنوبی پنجاب صوبے کا قیام بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے،وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے کاموں کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا کہ اپنی حکومت کی ابتداء میں جو چو مکھی لڑائی وہ لڑ رہے تھے،وزراء اور بیوروکریسی میں جو اتھل پتھل ہو رہی تھی وہ شائد اسی مقصد کیلئے تھی کہ ایک کار آمد ٹیم بنائی جائے۔انکی رفتار اگرچہ تیز نہیں ہے مگر منزل کی نشاندہی ہو چکی اور راستوں کا تعین کر لیا گیا ہے،میں لاہور کی بہتر ی دیکھنا چاہتا ہوں،یہاں ترقی کے ساتھ ساتھ سکون کے ساتھ بھی رہنا چاہتا۔لاہور سب کا ہے دیکھتے ہیں عثمان بزدار کا نیا لاہور کیسا ہو گا؟

مزید :

رائے -کالم -