جی پی فنڈز کو سی پی فنڈ میں تبدیل کرنے کے عمل کو روکتے ہوئے متعلقہ حکام سے جواب طلب 

 جی پی فنڈز کو سی پی فنڈ میں تبدیل کرنے کے عمل کو روکتے ہوئے متعلقہ حکام سے ...

  

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاور ہائی کورٹ نے پشاور پبلک سکول اینڈ کالج کی ملازمین کے جی پی فنڈز کو سی پی فنڈ میں تبدیل کرنے کے عمل کو روکتے ہوئے متعلقہ حکام سے جواب طلب کرلیاہے، گزشتہ روز پشاور ہائی کورٹ نے پشاور پبلک سکول اینڈ کالج کے ملازمین الطاف احمد اور محمد نوید کی جانب سے ایڈوکیٹ نور محمد خٹک کی وساطت سے دائر رٹ کی سماعت کی، رٹ میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ادارے کی انتظامیہ نے  ملازمین کے جی پی فنڈز کو سی پی فنڈز میں تبدیل کرلیا ہے اور اس حوالے ادارے کے بورڈ آف گورنرز کا 37واں اجلاس منعقد ہوا جس میں ملازمین کے جی پی فنڈزکو سی پی فنڈ میں تبدیل کردیا ہے جس کے مطابق میں ادارہ ملازمین کے فنڈ میں رقم جمع کریگا  اور یوں ادارے اور ملازمین کی ایک مشترکہ فنڈ جمع ہوگا اورپنشن کی بجائے مستقل ملازمین کو سی پی فنڈ یا مشترکہ فنڈ سے پیسے دیئے جائینگے جو کہ رولز کے خلاف ہے اور آئین کے آرٹیکل 37اور 38کے بھی خلاف کیونکہ مستقل ملازمین کو  جی پی فنڈ دیا جاتا ہے یہ قانون ہے اور اس کا اختیار پرنسپل اور بورڈ آف گورنرز کے اختیار میں نہیں ہے بلکہ گورنمنٹ رولز ہیں لہذا عدالت فیصلہ آنے تک جی پی فنڈ کو سی پی فنڈ میں تبدیل کرنے کے عمل کو روکنے احکامات جاری کریں عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد رٹ پرحتمی فیصلے تک پشاور پبلک سکول اینڈ کالج  انتظامیہ کے ملازمین کے جی پی فنڈ کو سی پی فنڈ میں تبدیل کرنے کے عمل کو روکتے ہوئے متعلقہ حکام سے جواب طلب کردی ہے۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -