سینیٹ کمیٹی نے ہشتگردی سے متاثر ہ علاقوں میں امداد کیلئے سروے نا کافی قرار دید یا 

  سینیٹ کمیٹی نے ہشتگردی سے متاثر ہ علاقوں میں امداد کیلئے سروے نا کافی قرار ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،آئی این پی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سیفران نے سابقہ فاٹا کے دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں میں امدادی رقوم کی تقسیم کیلئے کئے گئے سروے کو ناکافی قرار دیدیا اور کہا  ہے کہ آج بھی ہزاروں کی تعداد میں متاثرین امداد کے منتظر ہیں ان کا نہ تو سروے ہوا ہے اور نہ انہیں سرکاری اداوشمار میں شامل کیا گیا ہے۔کمیٹی نے مجموعی طور پر ہونے والے نقصانات، مسمار کی جانے والی مارکیٹوں کا  مجموعی تخمینہ  اورحکومت کی طرف سے دی گئی امداد کی تفصیلات طلب کر لیں۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر تاج آفریدی نے کہا کہ متاثرین کی بحالی، ان کی باعزت واپسی اور ا ن کی روز مرہ زندگی کو دوبارہ بحال کرنے کیلئے ہنگامی بنیادو ں پر اقدامات اٹھانے چاہئے تھے۔منگل کو کمیٹی کا اجلاس  چیئرمین سینیٹر تاج آفریدی  کی زیر صدارت ہوا،اجلاس میں سینیٹرز اورنگزیب خان، شمیم آفریدی، محسن عزیز، انور لال دین، محمد عثمان خان کاکڑ کے علاوہ سیکرٹری سیفران، صوبائی حکام، قبائلی عمائدین اور دیگر نے شرکت کی۔کمیٹی کو متاثرین کے نمائندوں نے آگاہ کیا۔ ضلع خیبر، شمالی و جنوبی وزیرستان اور دیگر قبائلی اضلاع سے متاثرین کے نمائندوں نے بتایا کہ زمینی حقائق سرکاری ادادو شمار سے بالکل مختلف ہیں،ہزاروں کی تعداد میں خاندان اپنی مدد کے تحت یا تو اپنے علاقوں کو واپس چلے گئے ہیں اور یا بھر آج بھی کیمپوں میں زندگی گزار کر در بدر ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ کمیٹی کو متعلقہ حکام نے متاثرین کے نقصانات کے ازالے کیلئے اختیار کئے گئے لائحہ عمل کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔ کمیٹی نے اس بات کا اعا دہ کیا کہ متاثرین نے ملک اور قوم کیلئے قربانی دی ہے ان کیلئے ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے گی۔ سینیٹر اورنگزیب خان اورکزئی نے تجویز دی کہ کمیٹی متاثرہ علاقوں کا خود دورہ کرے اور متاثرہ خاندانوں کو موقع پر جا کر سنے تا کہ حالات کا بہتر انداز میں جائزہ لیا جا سکے اور اس کی روشنی میں سفارشات مرتب کی جا سکیں۔ سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ فاٹا کے عوام کا نقصان اربوں میں ہے انہوں نے تجویز دی کہ سروے کا عمل پورے فاٹا میں پھیلایا جائے اور سروے کا عمل تیز کیا جائے۔ کمیٹی نے ہدایات دیں کہ مجموعی طور پر نقصانات کے ازالے کی تفصیلات، مسمار کی جانے والی مارکیٹوں کا کل تخمینہ حکومت کی طرف سے دی گئی امداد اور اس سے متعلقہ دیگر تفصیلات طلب کر لیں۔ سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ نادرا کا ڈیٹا، خاندان اور خاندان کے افراد کے حوالے سے مستند ہوتا ہے اور اداروں کو چاہئے کہ وہ نادرا کے ڈیٹا کے مطابق خاندانوں میں امدادی رقوم کی تقسیم کو یقینی بنائیں۔  کمیٹی چیئرمین نے کہا کہ سابقہ فاٹا کے تمام اضلاع کی فیزبلیٹی رپورٹ تیار کرنے کی ہدایات دیں گئی تھیں کمیٹی نے اس سلسلے میں تفصیلی روپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو اس بنیاد ی سہولت سے محروم نہ رکھا جائے اور اس پر کام کو مزید تیز کیا جائے۔

سینیٹ کمیٹی

مزید :

پشاورصفحہ آخر -