صنعتی یونٹس کے ٹیکس معاملات پشاور کے ریجنل ٹیکس آفس سے اسلام آباد ایف بی آر منتقل کرنے کے احکامات معطل

 صنعتی یونٹس کے ٹیکس معاملات پشاور کے ریجنل ٹیکس آفس سے اسلام آباد ایف بی آر ...

  

پشاور(نیوزرپورٹر) پشاورہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا میں قائم دوسوسے زائد صنعتی یونٹس کے ٹیکس معاملات پشاور کے ریجنل ٹیکس آفس سے اسلام آباد ایف بی آر منتقل کرنے کے احکامات معطل کرتے ہوئے چیف کمشنر انکم ٹیکس، ریجنل ٹیکس آفس پشاوراور دیگر متعلقہ حکام سے دوہفتوں کے اندرجواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 10ستمبرتک ملتوی کردی۔ عدالت عالیہ کے جسٹس قیصر رشید اور جسٹس اعجازانورپرمشتمل دورکنی بنچ نے اسحاق علی قاضی، قاضی غلام دستگیرایڈوکیٹس کی وساطت سے دائر درخواست گزارعثمان اوردیگر صنعتی یونٹس کے مالکان کی رٹ پر سماعت کی۔ دوران سماعت اسحاق علی قاضی ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایاکہ 340میجرٹیکس پیئرز کے ٹیکس معاملات اسلام آباد منتقل کردیئے گئے جسکی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی اورقانونادیگرصوبوں کی طرح صوبے کے ٹیکس معاملات یہاں پر نمٹانے چاہیے لیکن اب لارجرٹیکس پیئرز یونٹس کے مالکان کووہاں ٹیکس معاملات نمٹانے کیلئے بلایاجائے گاانہوں نے بتایا کہ لاہور، گجرانوالہ ودیگرعلاقوں میں بھی متعلقہ دفاترموجود ہیں لیکن پشاور سے یہ معاملات ختم کردیئے گئے قاضی غلام دستگیر ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ خیبرپختونخوا میں حالیہ دہشتگردی کے باعث صنعتوں کو شدید نقصان پہنچا اور زیادہ تر صنعتیں دیوالیہ ہوگئیں تاہم 5اگست 2020کو ایف بی آر نے اعلامیہ جاری کرکے ملک بھر سے 340صنعتی یونٹس کے ٹیکس معاملات اسلام آباد منتقل کئے ہیں جس میں خیبرپختونخوا میں قائم 200سے زائد صنعتی یونٹس بھی شامل ہیں۔ اس اقدام سے خیبرپختونخو امیں قائم صنعتی یونٹس کے ٹیکس معاملات کے مقدمات کا اختیار بھی پشاورہائیکورٹ سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے دائرہ اختیارمیں شامل ہوجائیگاجوایک آئینی مسئلہ ہے۔اس موقع پر پشاورہائیکورٹ بار کے سابق صدرعبدالطیف آفریدی نے عدالت کو بتایا کہ ایسے اقدام سے صوبوں کی حق تلفی ہوتی ہے لہذا اسے کالعدم قراردیاجائے انہو ں نے عدالت کو بتایا کہ دہشتگردی سے متاثرہ صنعتوں کے مالکان کواسلام آباد ٹیکس کے چکرلگانے پڑیں تو یہ حالات مزید خراب ہونگے اوریہاں سے سرمایہ دوسرے علاقوں میں منتقل ہوجائیگا۔ دورکنی بنچ نے کیس میں دلائل مکمل ہونے پر ٹیکس معاملات اسلام آباد منتقل کرنے کے حکم نامہ کو معطل کرتے ہوئے ایف بی آر اور چیف کمشنر انکم ٹیکس سے دوہفتوں میں جواب مانگ لیا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -