”سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے آئندہ ہفتے وائٹ ہاﺅس میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کا منصوبہ منسوخ کر دیا کیونکہ ۔۔“غیر ملکی میڈیا نے حیران کن دعویٰ کر دیا

”سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے آئندہ ہفتے وائٹ ہاﺅس میں اسرائیلی وزیراعظم ...
”سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے آئندہ ہفتے وائٹ ہاﺅس میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کا منصوبہ منسوخ کر دیا کیونکہ ۔۔“غیر ملکی میڈیا نے حیران کن دعویٰ کر دیا

  

ریاض (ڈیلی پاکستان آن لائن )غیرملکی میڈیا کی جانب سے دعویٰ کیا جارہاہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے آئندہ ہفتے وائٹ ہاﺅس میں اسرائیلی وزیراعظم ” نیتن یاہو “ سے ملاقات کا منصوبہ منسوخ کر دیاہے ، محمد بن سلمان نے امریکہ میں موجودگی کوخفیہ رکھنے کی مبینہ شرط پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے دورہ منسوخ کیا  ۔

 سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور اسرائیلی وزیراعظم کے درمیان ملاقات کا پروگرام صرف مصافحے تک محدود تھا ، انہوں نے رپبلکن کنونشن کے اختتام کے بعد 31 اگست کو واشنگٹن دورے پر جانا تھا ، میڈیا رپورٹس کے مطابق محمد بن سلمان نے امریکہ میں موجودگی کوخفیہ رکھنے  کی شرط پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے دورہ منسوخ کیاہے ۔

مڈل ایسٹ آئی کا اپنی رپورٹ میں کہناہے کہ محمد بن سلمان نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کیلئے اگلے ہفتے طے شدہ امریکہ کا دورہ اس لیے منسوخ کیا کیونکہ انہیں مبینہ طور پر یہ خدشہ لاحق تھا کہ خبر لیک ہو چکی ہے اور ایسی صورتحال میں ان کی امریکہ میں موجودگی ایک ڈراﺅنا خواب بھی ثابت ہو سکتی ہے ۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ابھی اس چیز پر اتفاق نہیں ہو سکا تھا کہ آیا ولی عہد محمد بن سلمان اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی ملاقات کو ریکارڈ کر کے بعد میں اعلان کیا جائے یا پھر یہ میٹنگ لائیو دکھائی جائے ۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیاہے کہ جولوگ اس ملاقات کیلئے دباﺅ ڈالتے آ رہے تھے ان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر شامل تھے ۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات بحالی کا معاہدہ طے پا گیاہے جبکہ امریکہ کی جانب سے یہ بھی دعویٰ کیا جاتا رہاہے کہ مزید عرب ممالک کا بھی مبینہ طور پر اس طرز کے معاہدے کی طرف آنے کاامکان ہے ۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ امریکہ کی تاریخ پر اتفاق ہو چکا تھا اور ایک پروٹوکول ٹیم پہلے ہی روانہ کر دی گئی تھی ۔ مڈل ایسٹ آئی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ محمد بن سلمان نہ تو سعودی سفارتخانے رہنا چاہتے تھے اور نہ ہی وہ سفارتکار کی رہائشگاہ پر کیونکہ معروف مقامات پر مظاہروں کا امکان ہوتا ہے اور اس مسئلے کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کے قیام کیلئے خفیہ مقام پر چار گھروں کو خریدا گیا تھا ۔تاہم دورے کا منصوبہ اس وقت منسوخ کر دیا گیا جب ولی عہد کو رپورٹس موصول ہوئیں کہ دورے کی اطلاعات لیک ہو گئیں ہیں ۔

مزید :

عرب دنیا -اہم خبریں -