کراچی شہر کا انفراسٹرکچر تباہ، شہر کچرے کا ڈھیر بن چکا ہے: شمشاد علی صدیقی

کراچی شہر کا انفراسٹرکچر تباہ، شہر کچرے کا ڈھیر بن چکا ہے: شمشاد علی صدیقی
کراچی شہر کا انفراسٹرکچر تباہ، شہر کچرے کا ڈھیر بن چکا ہے: شمشاد علی صدیقی

  

دبئی (طاہر منیر طاہر) پاک سر زمین پارٹی کی مجلس عاملہ کے کارکن، اوورسیز چیپٹر کے انچارج شمشاد علی صدیقی نے کہا ہے کہ 1947ءمیں پاکستان آزاد تو ہوگیا ، انگریز بھی واپس چلے گئے لیکن ہم لوگ تاحال غلامی کی زندگی بسر کررہے ہیں، پاکستان کو بنے 73 سال گزرچکے لیکن ہم ابھی تک ذہنی طور پر غلام ہی ہیں۔ آزاد ملک میں رہتے ہوئے بھی ہمارے فیصلے کوءی اور ہی کرتا ہے۔ کراچی شہر کے محلوں اور گلیوں کے فیصلے آج بھی اسلام آباد یا وزیراعلیٰ ہاﺅس میں بیٹھ کر کئے جارہے ہیں۔ فیصلے وہ لوگ کررہے ہیں جو بنیادی طور پر مسائل سے آگاہ ہی نہیں ہیں۔

حالیہ بارشوں کے دوران کراچی شہر کا ہی حال دیکھ لیں پورے شہر کا انفراسٹرکچر تباہ ہوچکا ہے، بارشوں اور سیلاب کا پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہوگیا ہے، لوگوں کے گھر تباہ ہورہے ہیں۔ متعدی وبائی امراض پھیل رہی ہیں۔ شہر کچرے کے ڈھیر میں تبدیلی ہوگیا ہے اور جگہ جگہ تعفن پھیل گیا ہے۔ پاک سرزمین پارٹی متحدہ عرب امارات کے زیر اہتمام ہونے والی یوم آزادی کی تقریب میں پی ایس پی یو اے ای کے صدر عاطف خان، سینئر نائب صدر ڈاکٹر اکرم چودھری، حسیب احسن ہاشمی، مرزا حمید، فیضان عثمانی، عمیر کلیم اور یاسین شہزاد موجود تھے۔

اس تقریب کے شرکاءسے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے شمشاد علی صدیقی نے مزید کہا کہ جب تک کراچی مصطفی کمال کے پاس تھا اس وقت یہ شہر تیزی سے ترقی کرنے والا دنیا کا بارہواں شہر تھا۔ کراچی میں ترقیاتی کام ہورہے تھے ج بکہ اب تو بیڑہ ہی غرق ہوچکا ہے۔ پورا شہر پانی میں ڈوبا ہوا ہے، بجلی کا نظام تباہ ہوچکا ہے جبکہ مواصلات کا نظام بھی خراب ہے۔ شمشاد علی صدیقی نے کہا کہ کراچی کے عوام کو ریلیف دینے کے لئے متاثرین بن کر خصوصی ریلیف دیاجائے۔ شمشاد صدیقی نے کہا کہ پی ایس پی کا مقصد بھی عوام الناس کو ریلیف دینا اور کراچی کا انفراسٹرکچر بہتر کرنا ہے۔

مزید :

عرب دنیا -تارکین پاکستان -