”مجھے اس طرح کی کرکٹ پسند نہیں آتی اور۔۔۔“ انضمام الحق نے بھی مایوسی کا اظہار کر دیا

”مجھے اس طرح کی کرکٹ پسند نہیں آتی اور۔۔۔“ انضمام الحق نے بھی مایوسی کا ...
”مجھے اس طرح کی کرکٹ پسند نہیں آتی اور۔۔۔“ انضمام الحق نے بھی مایوسی کا اظہار کر دیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز سابق کپتان اور چیف سلیکٹر انضمام الحق انگلینڈ کیخلاف ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کی حد سے زیادہ دفاعی حکمت عملی پر افسردگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے اس طرح کی کرکٹ پسند نہیں آتی، جارحانہ کھیل ہی پاکستانی کرکٹ کی پہچان ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق سابق کپتان انضمام الحق نے کہا ہے کہ ساﺅتھمپٹن ٹیسٹ میں پاکستان نے حد سے زیادہ دفاعی حکمت عملی اپنائی جس پر بہت مایوسی ہوئی، میں خود بھی انگلینڈ میں کھیلتا رہا ہوں اور مجھے اس طرح کی کرکٹ کبھی پسند نہیں آتی، میچ بچانے کیلئے کریز پر رکنا ضروری ہے مگر اتنا بھی محتاط نہیں ہونا چاہیے کہ 50 سے زائد اوور کھیل کر صرف100 رنز بنائے جائیں۔ میں نے زندگی میں کبھی پاکستان کی اننگز میں اتنی گیندیں وکٹوں کے پیچھے جاتی نہیں دیکھیں، جارحانہ کھیل پاکستانی کرکٹ کی پہچان ہے،کھلاڑی سراور بیٹ کو پیچھے ہٹانے کے بجائے کمزور گیندوں پر سٹروکس بھی کھیلیں تو باﺅلر کی لائن و لینتھ خراب ہوتی ہے، انہیں اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا پڑتی ہے۔

سابق کپتان نے کہا ہے اگر بیٹسمین ایک ہی جگہ پر کھیلتا رہے تو باﺅلرز حاوی رہیں گے، یہی صورتحال پاکستان کی اننگز میں نظر آئی، جوفرا آرچر کے سوا کسی نے ایسی برق رفتار گیندیں بھی نہیں کروائیں کہ کھیلنا مشکل ہو جاتا، گیلی ہونے کی وجہ سے گیند سوئنگ بھی نہیں ہو رہی تھی۔ مہمان بیٹسمینوں کو دیکھ کر لگا کہ وہ شارٹ بالزکھیل ہی نہیں سکتے، کریز پر موجود بیٹسمین ڈرے سہمے نظر آئیں تو ڈریسنگ روم میں باری کا انتظار کرنے والے پہلے سے ہی نفسیاتی دباﺅ کا شکار ہو جاتے ہیں،انہی کھلاڑیوں کا رویہ تبدیل کر دیا جائے تو بہت بہتر کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

سابق چیف سلیکٹر نے کہا کہ حد سے زیادہ دفاعی حکمت عملی کی وجہ سے پاکستان ٹیم نے مشکلات کو آواز دے دی تھی اور اگر بارش مداخلت نہ کرتی اور انگلینڈ کے پاس کوئی اعلیٰ معیار کا سپنر ہوتا تو پاکستان بہت تیزی سے شکست کی طرف بڑھتا مگر بارش نے کم از کم ایک اور ٹیسٹ میچ میں شکست سے بچا لیا۔ 

مزید :

کھیل -