”ملزمان ڈاکٹر ماہاعلی کو بلیک میل کرتے اور فحش حرکتیں کرتے تھے“ڈاکٹر ماہا علی کے والد کی مدعیت میں 3ملزمان کے خلاف مقدمہ درج 

”ملزمان ڈاکٹر ماہاعلی کو بلیک میل کرتے اور فحش حرکتیں کرتے تھے“ڈاکٹر ماہا ...
”ملزمان ڈاکٹر ماہاعلی کو بلیک میل کرتے اور فحش حرکتیں کرتے تھے“ڈاکٹر ماہا علی کے والد کی مدعیت میں 3ملزمان کے خلاف مقدمہ درج 

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن ) ڈیفنس میں خودکشی کرنے والی ڈاکٹر ماہا علی شاہ کے والد سید آصف علی شاہ کی مدعیت میں 3 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے ایک ملزم معروف ڈینٹسٹ کو گرفتار کر لیا گیا۔ایس ایس پی انویسٹی گیشن ساو¿تھ بشیر بروہی کے مطابق خودکشی کرنے والی ڈاکٹر ماہا علی کے والد سید آصف علی شاہ نے گزری تھانے میں مبینہ طور پر اپنی بیٹی کی موت کی وجہ بننے والے تین ملزمان کے خلاف درخواست جمع کرائی تھی۔اس درخواست پر آصف علی شاہ کی مدعیت میں گزری تھانے میں ایف آئی آر نمبر 433/2020 درج کرلی گئی ہے۔بشیر بروہی کے مطابق زیر دفعہ 354، 337 جے، 506 اور 34 درج ایف آئی آر میں تین ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق ایف آئی آر میں نامزد مقامی معروف اسپتال کے ڈینٹسٹ کو گرفتار کر لیا گیاہے جبکہ مقدمے میں نامزد ماہا کے دوست جنید خان اور ایک اور ڈاکٹر کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔بشیر بروہی کے مطابق نامزد ملزم جنید خان پر ماہا علی پر تشدد کرنے، زخمی کرنے اور دانت توڑنے کا الزام ہے۔پولیس کے مطابق گرفتار ہونے والے ڈینٹسٹ پر ماہا علی کو اپنے دفتر میں بلا کر نشہ اور شراب پلانے کا الزام ہے۔ملزمان پر لڑکی کو بلیک میل کرنے اور اس سے فحش حرکات کرنے کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق مدعی کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کو مبینہ طور پر ان افراد نے ایسے حالات کا شکار کیا کہ وہ جان دینے پر مجبور ہوئی۔پولیس کے مطابق اس سلسلے میں تفتیش کی جارہی ہے۔

مزید :

جرم و انصاف -