بے بس ریاست 

 بے بس ریاست 
 بے بس ریاست 

  

 ایشیائی ممالک پاکستان، ہندوستان چین، بنگلہ دیش سمیت بہت سے ممالک 13جون سے طوفانی  بارشوں کی وجہ سے سیلاب کی زد میں ہیں لیکن بدقسمتی سے اس بار بارشوں کے سپل کا مرکز پاکستان بلوچستان، اندرون سندھ اور جنوبی پنجاب رہا، کے پی کے میں بھی بارشوں کا سلسلہ رہا لیکن پہاڑی علاقے ہونے کی وجہ سے پانی تیزی سے نکل گیا راستے میں کوئی ڈ یم نہ ہونے کی وجہ سے سیلابی ریلوں نے سندھ پہنچ کر تباہی اور بربادی کی انمٹ داستانیں چھوڑیں لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز ستی (چیئرمین این ڈی ایم اے) کے مطابق اس سال  بارشوں نے گزشتہ تیس سال کا ریکارڈ توڑ دیا ہے اس  سال بارشیں گزشتہ سالوں کی نسبت  دو سو انچاس فیصد زیادہ ہوئی ہیں افسوس کے ساتھ بلوچستان کی جغرافیائی حیثیت کچھ ایسی ہے کہ  نہ تو ان بارشوں کے لئے تیار تھا اور نہ ہی اس کا مقابلہ کر سکتا تھا بارشیں اس قدر زیادہ اور تیز تھیں  کہ چند ہی گھنٹوں میں ندی نالوں میں طغیانی آ گئی گزشتہ دنوں میں بارکھان کے علاقے میں 110 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی بلوچستان میں سول انتظامیہ آرمی نیوی،ایف سی، فیڈرل اور صوبائی تمام اداروں نے مل کر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا پہلے  مرحلے میں لوگوں کو شیلٹر، خوراک اور ادویات دوسرے مرحلے میں تباہ حال راستوں کی بحالی کا کام جاری ہے بلوچستان میں سیلاب میں فوت ہونے والوں کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے فی گھرانہ  وزیراعظم کی جانب سے دیے گئے ہیں جو تقریباً نو ے فیصد لوگوں تک پہنچا دیے گئے ہیں سندھ میں کراچی سمیت اندرون سندھ کے علاقے سیلابی ریلوں اور بارشوں کی زد میں ہیں، سندھ گورنمنٹ اور اداروں نے مل کر متاثرین کی بحالی کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں وزیراعلی سندھ کی جانب سے سندھ کے بہت سے شہروں کو آفت زدہ قرار دینے کا اعلان ہو چکا ہے جبکہ عوام کو پہلے مرحلے میں خوراک کے لئے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے 25،25 ہزار روپیہ دے دیے گئے ہیں لیکن سندھ میں بارشوں نے جس پیمانے پر تباہی مچائی ہے اس کے برعکس امدادی سرگرمیاں بہت کم ہیں۔

 جنوبی پنجاب میں صورتحال اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے اس حوالے سے میری بات ڈی سی ڈیرہ غازی خان محمد انور بریار، چیف انجینئر ایریگیشن ساجد رضوی سے ہوئی جمع شدہ معلومات کی اپنے ایک دوست سردار ثناء اللہ بزدار کے ذریعے تصدیق کی ان کے مطابق کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلوں سے پانی کے بہت بڑے اور تیز رفتار ریلوے تونسہ شریف، ڈی جی خان،راجن پور روجھان، انڈس ہائی وے کی مغربی پٹی جو تقریبا چار سو کلومیٹر بنتی ہے میں سیلاب نے ہر وہ چیز تباہ کر دی جو اس کے راستے کی رکاوٹ بنی سول انتظامیہ کے تمام ادارے دن رات لوگوں کو بچانے میں مصروف ہیں ڈی سی صاحب کے مطابق سیلابی ریلوں کا روٹ تبدیل کرکے انہیں  ہیڈ تونسہ سے نکلنے والی کچی کنال اور ڈی جی کینال میں ڈال دیا گیا ہے لیکن بدقسمتی سے ان دونوں نہروں میں پانی کی گنجائش تیس ہزار کیوسک ہے جبکہ اس میں سے تیز رفتاری سے آنے والے سیلابی ریلے  ایک لاکھ پچاسی  ہزار کیوسک تھے جس کی وجہ سے نقصان زیادہ ہوا وڈور ندی میں پانی کی گنجائش ایک لاکھ تیس ہزار کیوسک تھی جبکہ اس میں سے ایک لاکھ 60 ہزار کیوسک کے ریلے گزرے سیلابی ریلے جہاں جہاں سے گزرے تباہی اور بربادی کی داستانیں رقم کر گئے شہری آبادیوں کو محفوظ کرنے کے لیے بنائے گئے  بند ٹوٹنے سے سینکڑوں دیہات فصلیں جانور سب کچھ سیلاب بہا کر لے گیا بڑی تعداد میں مال مویشی پانی کے بہاؤ میں ڈوب کر مر گئے وہاں پر بڑی تعداد میں میرے ہم وطن بربادی کی تصویر بنے کھلے آسمان تلے  بیٹھے ہیں ابھی تک ان علاقوں کا ملک سے زمینی رابطہ بحال نہیں ہو سکا جس کی وجہ سے ان کے پاس کھانے پینے کی اشیا ادویات اور خیموں سمیت کچھ بھی نہیں پہنچ سکا ان کو بچانے کے لیے ریسکیو کے پاس جو کشتیاں ہیں وہ ان سیلابی ریلوں کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہیں

اگر جلد از جلدان کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے مدد فراہم نہ کی گئی تو اور زیادہ  نقصان ہونے کا اندیشہ ہے اس کے علاوہ سیالکوٹ،گوجرانوالہ،ہیڈمرالامنڈیبہاوالدین، حافظ آباد،چنیوٹ، شورکوٹ جھنگ اور دریائے چناب سے ملحقہ بہت سے علاقے سیلاب کا سامنا کر رہے ہیں لیکن اللہ کا کرم ہے ان علاقوں سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی البتہ کہیں بھی کوئی فصل کھڑی نہیں رہ سکی اسی طرح دریائے ستلج اور ملحقہ علاقے قصور چونیاں،کنگن پور میں بھی فصلوں کو نقصان پہنچا لیکن براہ کرم یہ باتیں حکومتوں کو نہ بتائیے گا کیونکہ وہ شہباز گل کے معاملے میں مصروف ہیں اور پنجاب حکومت مسلم لیگی ورکروں کی پکڑ دھکڑ جیسے اہم کام سرانجام دے رہی ہے حکومتوں کے لئے شہباز گل ریاست سے زیادہ اہم ہے اگر میں غلط ہوں تو برائے کرم شہباز گل کو پندرہ دنوں کے لیے جیل میں بھیج کر خود کو فری کرلیں میری  ریاست اور اس کے باسی بے بسی کی تصویر بنے آپ کی مدد کے منتظر ہیں جناب وزیراعظم اور وزیراعلی صاحب برائے کرم اپنی انا کے مسئلوں کو (پھر سہی) پر ڈال دیں ریاست کو بچانے کے لئے جنوبی پنجاب،سندھ اور بلوچستان نکل جائیں آپ کو دیکھ کر مصیبتوں اور  مشکلوں میں گرے عوام کو کچھ تسلی مل جائے گی ایک دفعہ اس مصیبت سے نکل جائیں تو پھر دما دم مست قلندر کرتے رہنا۔

مزید :

رائے -کالم -