ابھی الوداع نہ کہنا

 ابھی الوداع نہ کہنا
 ابھی الوداع نہ کہنا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 یہ غالباً نومبر 1987ءکا کوئی دن تھا، نہایت مسحور کن اور خوشگوار فضاءتھی۔ لاہور کا قذافی سٹیڈیم ایک عجب بہار دکھا رہا تھا۔ پاکستان اور انڈیا کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والے کرکٹ ورلڈ کپ کا پہلا سیمی فائنل پاکستان اور آسٹریلیا کی ٹیموں کے درمیان کھیلا جا رہا تھا۔پاکستانی ٹیم کے کپتان عمران خان ورلڈ کپ کے اختتام پر کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر چکے تھے۔ قذافی سٹیڈیم اس روز کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ جب کپتان کالج اینڈ کی طرف سے اپنی بال پھینکنے کے لئے سٹارٹ لیتا تو سٹیڈیم میں موجود لاہور کے کالجز اور یونیورسٹیز کی ہزاروں لڑکیاں کیا خوبصورت اور دلنشین انداز میں کورس کی صورت میں گانا شروع کرتیں ”ابھی الوداع نہ کہنا“ ایک عجب جذباتی، مگر سحر انگیز منظر ہے۔ کپتان کے دس اوورز کی ہر گیند پر یہ مصرع اتنی خوبصورت لے اور ترنم کے ساتھ بھرپور آواز میں گایا جاتا ہے کہ ہر شخص اس وقت کپتان کے لئے جذبات اور وارفتگی کی لہر میں بہہ جاتا ہے۔وہ میچ پاکستان معروف ایمپائر ڈکی برڈ کے ایک متنازعہ فیصلہ کی وجہ سے بڑے کلوز مارجن سے ہار جاتا ہے۔ میچ ہارنے کے بعد فضاءبڑی سوگوار ہے۔ وقت کے حکمران جنرل ضیاءالحق مرحوم بھی تماشائیوں میں موجود تھے۔ وہ کپتان کی عوام میں مقبولیت اور کرکٹ میں قبولیت کو دیکھتے ہوئے میچ کے اختتام پر کپتان کے کندھے پر تھپکی دیتے ہوئے اسے ریٹائر منٹ کا فیصلہ واپس لینے کی اپیل کرتے ہیں اور کپتان کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے فیصلے پر نظر ثانی فرماتے ہیں۔ گویا عملی طور پر کپتان نے پہلی مرتبہ کسی فوجی آمر کی ہاں میں ہاں ملائی۔ 
پھر 1992ءکا ورلڈکپ وہ تاریخی لمحات لے کر آتا ہے جب کپتان پورے احساس تفاخر کے ساتھ MCG کے کرکٹ گراو¿نڈ میں ٹرافی ہوا میں لہراتا ہے۔ اسی ورلڈ کپ کی فتح نے کپتان کو قوم کا ہیرو بنا دیا اور اس نے قوم کو شوکت خانم ہسپتال جیسا انمول تحفہ بدلہ میں دیا۔
غالباً 1996ءکے لگ بھگ کچھ ریٹائرڈ جنرل، کچھ بیورو کریٹ اور دیگر لوگ کپتان کو سیاست میں آنے کا مشورہ دیتے ہیں پہلے وہ انکار کرتا ہے،مگر پھر وہ سیاست کے سمندر میں کود جاتا ہے۔ سیاست میں انصاف لانے کا نعرہ لگاتا ہے۔ وہ سیاست کے میدان میں اناڑی ہے۔ شروع میں اسے اچھے لوگوں کی ٹیم میسر آتی ہے،مگر جوں جوں وہ کامیابی کی منازل کے قریب آتا ہے اس کی ٹیم میں مسلمہ مفاد پرست ، وڈیرے اور بزنس ٹائیکون شامل ہوتے جاتے ہیں۔اسٹیبلشمنٹ جسے ہم پاکستانی سیاست کے ایمپائرز بھی کہہ سکتے ہیں، کی پوری پشت پناہی اور مدد کپتان کو حاصل ہے اور وہ اپنے مخالفین پر متواتر یارکر اور باو¿نسر پھینک رہا ہے۔ ایمپائر چونکہ اس کے اپنے ہیں، لہٰذا اس کی نو بال کو بھی درست بال سمجھا جا رہا ہے۔ وہ کئی مرتبہ LBW بھی ہو سکتا تھا، مگر ایمپائرز نے اسے ہی شک کا فائدہ دیا۔ کپتان نے چند غیبی ہاتھوں کی مدد سے اپنی مخالف ٹیم کے سب سے مستند بیٹسمین کو نہ صرف بولڈ کر دیا ،بلکہ اسے پویلین سے باہر بھی بھیج دیا۔کپتان پر تماشائیوں کا پریشر ہے کہ وہ دوبارہ ورلڈکپ والی پرفارمینس دے،مگر کپتان اپنی گیم کی بجائے اپنی فٹنس پر زیادہ توجہ دے رہا ہے اور ہر مشکل اوور میں ایمپائرز کی طرف دیکھ رہا ہے۔
اب آہستہ آہستہ کپتان کی بولنگ کا رن اپ خراب ہونا شروع ہوتا ہے۔ کپتان ٹیم کی سلیکشن میں پے در پے غلطیاں کر رہا ہے۔ حتیٰ کہ ایمپائرز بھی ان غلطیوں پر چیخ رہے ہیں ،مگر کپتان اپنی دھن کا آدمی ہے وہ اب اس طرح کے پریشرز سے باہر آ چکا ہے۔وہ ملک کو بھی کرکٹ ٹیم کی طرح چلا رہا ہے۔ میچ تقریباً یکطرفہ ہو چکا تھا۔ سٹیڈیم میں بیٹھا کراﺅڈ کپتان کی ٹیم سے مطمئن نہیں، وہ یہ بھی سمجھ رہا ہے کہ کپتان کے کھیل میں اب وہ پہلے والا دم خم نہیں، اور کرواڈ بھی آہستہ آہستہ سٹیڈیم خالی کر رہا تھا،کہ کپتان اپنی ٹیم میں تبدیلیاں کرنے کی بجائے ایمپائرز ہی بدلنے پر بضد ہو جا تا ہے اور ایمپائرز بھی اپنی مرضی کے۔ اسے سمجھایا جاتا ہے کہ ایمپائرز کی تقرری کا طریقہ کار ایک پورا ادارہ کرتا ہے جو بہرحال گراو¿نڈ میں کھیلنے والے کھلاڑیوں سے زیادہ تگڑا اور طاقت ور ہے ،اس لئے اس کے اس کام میں کسی کھلاڑی کو دخل دینے کی اجازت نہیں، مگر کپتان حکومتی کریز میں رہنے کا آئندہ دس پندرہ سال کا منصوبہ بنا چکا ہے،اور اس غلط فہمی کا شکار ہو چکا ہے کہ وہ اس وقت اسٹیبلشمنٹ سے تگڑا ہے۔ وہ ہر قیمت پر اپنے ایمپائرز چاہتا ہے۔ایک زمانے میں وہ کرکٹ کی دنیا میں نیوٹرل ایمپائرز کاسب سے بڑا داعی تھا، مگر اب اسے نیوٹرل کے لفظ سے چڑ آنی شروع ہوگئی ہے، وہ ایمپائرز کے ساتھ مل کر کھیلنے کا عادی ہو چکا ہے۔
اب یہاں سے دوبارہ گیم شروع ہوتی ہے۔ کپتان کو اس کی اپنی ٹیم کے کچھ کھلاڑی بھی دھوکہ دے جاتے ہیں اور کپتان میچ ہارنے کی طرف بڑھتا ہے۔ گراو¿نڈ میں شور شرابا بڑھتا ہے۔کپتان کو آو¿ٹ قرار دے دیا جاتا ہے۔ وہ بضد ہے کہ اس کے ساتھ دھاندلی اور سازش ہوئی ہے، وہ ایمپائر کے فیصلہ کو ماننے سے انکار کر دیتا ہے اور کریز چھوڑنے سے بھی انکار کرتا ہے۔اِس دوران کپتان کی مخالف ٹیم کریز پر قبضہ کر لیتی ہے۔ان کے پاس نہ کوئی ڈھنگ کا باو¿لر ہے نہ بیٹسمین۔ وہ ٹک ٹک سے تماشائیوں کو بور کرتے ہیں، ایمپائرز گیم کے رولز میں کافی لچک پیدا کرتے ہیں کہ یہ ٹیم سیٹ ہو سکے،مگر مہنگائی، آئی ایم ایف اور سابقہ کارکردگی اس ٹیم کی پرفارمنس پر بری طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔ کپتان تو کریز پر واپس آنا چاہتا ہے ، اب وہ بولنگ کے ساتھ بیٹنگ میں بھی پرفارمینس دکھانا چاہتا ہے۔ کپتان کے چاہنے والے جو اسکی بری پرفارمینس سے سٹیڈیم خالی کرکے جا چکے تھے واپس پلٹتے ہیں۔وہ یہ سمجھ رہے کہ کپتان کو غلط آﺅٹ دیا گیا ہے۔سٹیڈیم میں کپتان کے نعروں کی گونج ہے۔اس دوران کپتان نئے ایمپائر کی تقرری رکوانے کے لئے ہر طرح کا یارکر اور باﺅنسر پھینکتا ہے،مگر سب بے سود۔
اب نئے ایمپائر کی آمد کے ساتھ گیم کے رول بدل گئے ہیں۔وہ کپتان کو نو بال سے روکتے ہیں۔ کپتان وکٹ کے دونوں طرف راﺅنڈ دا وکٹ اور اوور دا وکٹ بالنگ کرانے کا عادی تھا۔اب اسے صرف راو¿نڈ دا وکٹ بالنگ کرانی پڑ رہی ہے۔ کپتان جب بھی اوور دا وکٹ بالنگ کرانے کی کوشش کرتا ہے ایمپائر آگے بازو کر کے اسے روک دیتا ہے۔ بار بار کی وراننگ کے بعد بھی جب کپتان اسی اینڈ سے باﺅلنگ پر اصرار کرتا ہے تو اسے گراو¿نڈ سے باہر بھیج دیا جاتا ہے۔جب کپتان زبردستی گراﺅنڈ میں داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے تو اسے سٹیڈیم سے باہر نکال دیا جا تا ہے۔ کپتان گراﺅنڈ سے جاتے جاتے پچ بھی خراب کر جاتا ہے بلکہ وکٹیں ہی اکھاڑ دیتا ہے۔ کپتان اپنی مرضی کے ایمپائر ڈھونڈتا ہے مگر وہ تو اب قصہ پارینہ بن چکے۔نیا ایمپائر اپنے اصولوں کی پاسداری کر رہا ہے۔ کچھ سختی بھی ہو رہی ہے گراﺅنڈ میں اب نعرے بازی اور شور و غل پر پابندی ہے۔کپتان کی ٹیم کے اہم کھلاڑی ایک ایک کر کے اسے چھوڑ رہے ہیں، کوئی نئی ٹیم بنا رہا ہے اور کوئی کسی پرانی ٹیم کو ہی جائن کر رہا ہے۔
میرے جیسے بہت سے گیم کے شائقین کپتان کو دوبارہ گراﺅنڈ میں دیکھنا چاہتے ہیں، مگر لگتا ہے کہ کپتان کے کھیل میں اب کی بار لمبا وقفہ ہے۔اب اگر کھیل ہوا بھی تو کپتان کے بلے کے بغیر ہو گا۔اگر کپتان کسی قاعدے اور ضابطے میں کھیلنے پر رضا مند رہتا تو کھیل کے میدان میں رونق رہتی،مگر اپنی افتاد طبع کے باعث کپتان کھیل کے مسلمہ اصول اور ایمپائرز کے موڈ کو نہ بھانپ سکا۔ کپتان اپنی مقبولیت کے زعم میں غلط بال کو شاٹ لگاتے ہٹ وکٹ ہو گیا، اور اب کپتانی تو گئی ہی تھی اس کی سلامتی کی بھی فکر لاحق ہو چکی ہے۔ لوگوں کو اس کی گیم کی اور سیاست کی فکر ہے،مگر اس کے بہی خواہوں کو اس کی سلامتی کی۔لہٰذا آج پھر وہی مصرعہ۔”ابھی الوداع نہ کہنا“ کسی اور تناظر میں اور کسی اور ترنم،مگر ہلکی لے میں تھوڑی سی رنجیدگی میں پڑھنے کا وقت ہے۔

مزید :

رائے -کالم -