ڈولی 

 ڈولی 
 ڈولی 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 اس بات سے قطع نظر کہ کس کا ”بابا“ اوپر ہے، آپ صرف ایک لمحے کیلئے ”ڈولی“ میں سوار نویں جماعت کے طالب علموں کا ”تن جِگرا“ ملاحظہ کر لیں۔ آپ کو اندازہ ہو جائے گاکہ نا مساعد حالات کے باوجوداس قوم کو شکست دینا اتنا آسان نہیں ہے۔حصول تعلیم اور تدریس کی غرض سے 8 افراد ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ کے درمیان بہنے والی ندی عبورکرنے کیلئے صبح 6 بجے چیئر لفٹ میں سوار ہوئے تھے۔ این ڈی ایم اے کے مطابق چیئر لفٹ 900 فٹ کی بلند ی پر پھنسی ہوئی تھی جس کے اندر 2 اساتذہ اور 6 طلبہ موجود تھے۔ یہ طلبہ ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ پر واقع سکول جا رہے تھے۔ جن کے بیچ ”جھنگڑے خور“ نامی ایک ندی ہے جسے پار کرنے کیلئے چیئرلفٹ بنائی گئی۔ کیبل کار کو جس مقام پر حادثہ پیش آیا وہ خیبر پختونخوا کے ضلع بٹ گرام میں آلائی کا ایک دور دراز علاقہ ہے جہاں ”جانگری“ اور”بٹنگی“ نامی دو پہاڑی دیہات کو ملانے کیلئے ایک مقامی باشندے نے ”ڈولی“ کے نام سے چیئر لفٹ بنانے کی اجازت حاصل کی اور اس سفر کو جو کہ پیدل چل کر 2 گھنٹوں میں کیا جاتا تھا اسے محض 4 منٹ تک محدود کر دیا۔
گزشتہ ماہ بحر او قیانوس میں ”ٹائے ٹن“ نامی آبدوز سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں 5 ارب پتی افراد سمیت ڈوب گئی تھی ، یہ افرادتقریباً ایک صدی سے زائد عرصہ قبل اٹلانٹک اوشین میں ڈوبنے والے جہاز ”ٹائی ٹانک“ کا ملبہ دیکھنے کیلئے ایڈونچر اور تھرل سے بھرپور اس سمندری سفر پر نکلے تھے۔ تاہم ”ڈولی“ کی ہوشرباءتفصیلات سامنے آنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے یہ طلبہ روزانہ کی بنیاد پر اس ”تھرل“ کا سامنا کرتے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق ان علاقوں کے طلبہ کیلئے یہ گھریلو چیئر لفٹ خطر ناک ہونے کے باوجود ضروری نقل و حمل کا ذریعہ ہے۔ ان چیئر لفٹس کا استعمال آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور مشرقی مانسہرہ میں کیا جاتا ہے۔جہاں دور دراز علاقوں کے رہنے والے لوگوں کے آپس میں رابطے میں رہنے کی ضرورت نے مقامی لوگوں کو سرکاری اجازت ناموں کے بغیر استعمال شدہ ناقص مواد سے چیئر لفٹ بنانے پر مجبور کیا ہے۔ یہ چیئر لفٹس مقامی لوگ خود ہی بناتے ہیں اور انہیں بنانے کیلئے بنیادی طور پر ٹرکوں اور گاڑیوں کے ضائع شدہ اوپری حصوں کو تکنیک کے ساتھ کیبلز سے منسلک کیا جاتا ہے جنہیں بعض اوقات رسیوں کا استعمال کرتے ہوئے ناقص آئرن سے بنایا جاتا ہے جو قانونی طریقہ کار کی عدم موجودگی اور روایتی انفراسٹرکچر کی تعمیر کے مقابلے میں کم لاگت ہوتی ہیں۔یہ چیئر لفٹس خطرات کے باوجود بڑے پیمانے پر دریاﺅں کو عبور کرنے اور پہاڑی وادیوں کے درمیان سفری فاصلے کو کم کرنے کیلئے استعمال ہوتی ہیں۔ تاہم ناقص معیار کے باعث انہیں حادثات پیش آتے رہتے ہیں۔سال 2017 ء میںمری کی پہاڑیوں میں ایک غیر قانونی چیئر لفٹ کو حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں 11 مسافر جاں بحق ہوگئے۔ گزشتہ سال دسمبر میںخیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد میں ایک چیئر لفٹ کی رسی ٹوٹنے کے بعد 12 بچوں کو ریسکیو آپریشن کر کے بچانا پڑا۔
بٹگرام چیئرلفٹ حادثہ منگل کی صبح پیش آیا تو اطلاع ملتے ہی پھنسے ہوئے طلبہ کو نکالنے کیلئے مساجد میں اعلانات شروع کر دیئے گئے، جس کے بعد آپریشن کیلئے عوام، انتظامیہ اور ریسکیو کی ٹیمیں بھی جائے حادثہ پر پہنچ گئیں۔ کمشنر ہزارہ کی درخواست پر پاک فوج کے ہیلی کاپٹرجائے وقوعہ پر پہنچے اور رسی کے ذریعے دو کمانڈوز نے ابتدائی طور پر ایک ایک کر کے دو بچوں کو ریسکیو کیا تاہم ریسکیو میں شامل کمانڈوز کا کہنا تھا کہ ہیلی کاپٹر سلنگ آپریشن کیلئے ریکی کرے گا کیونکہ چیئر لفٹ کی تین میں سے دو تاریں ٹوٹ چکی ہیں اور ہیلی کاپٹر سے پیدا ہونے والے ہوائی پریشر سے اکیلی بچ جانے والی تار بھی ٹوٹ سکتی ہے، اس لئے ہیلی کاپٹر سے ریسکیو آپریشن کو انتہائی محتاط انداز میں کئے جانے کی کوشش کی گئی۔بعد ازاں اندھیرے اور خراب موسم کے باعث آرمی نے فضائی آپریشن روک کر زمین سے ریسکیوپلان ترتیب دیا جس کیلئے پاک فوج شمالی علاقہ جات سے لوکل کیبل کراسنگز ایکسپرٹس لے کر آئی جبکہ اس سلسلے میں مقامی افراد کی خدمات بھی حاصل کی گئیں۔تاہم اس دشوار اور حساس آپریشن کے دوران پی ٹی آئی کے”کی بورڈ واریئرز“ ایک مرتبہ پھر پاک فوج کے حوصلے پست کرتے رہے، جنہوں نے سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا پر مسلسل کئی گھنٹے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ 8 قیمتی جانوں کو بحفاظت ریسکیو کرنے کا کریڈٹ پاک فوج کی بجائے مقامی کیبل کراسنگ ایکسپرٹس کو جاتا ہے۔تاہم ”زپ لائن“ کی طرف سے آپریشن کو لیڈ کرنے والے محمد علی سواتی نے بتایا کہ ڈی سی مانسہرہ نے ان سے رابطہ کر کے بتایا کہ آرمی آپریشن میں مصروف ہے لیکن خراب موسم کے باعث ریسکیو کی حکمت عملی تبدیل کی گئی ہے، علی سواتی کے مطابق فوج کے ہیلی کاپٹر پر انہیں جاثے حادثہ پہنچایا گیاجبکہ فوج کی معاونت اورمدد کے نتیجے میں ہی آپریشن کامیابی سے ہمکنار ہوا۔
بہرحال، چیئرلفٹ حادثے کی بہت سی جہتیں ہیں جن پر غور و فکر کر کے ہمیں سبق بھی حاصل کرنا چاہیے اور پنجاب سمیت دیگر بڑے اور نسبتاً ترقی پذیر شہروں کے کروڑوں باسیوں کو شکر بھی ادا کرنا چاہیے جنہیں چیئرلفٹ متاثرین سے ہزار گنا بہتر سہولتیں دستیاب ہیں لیکن ہم ان پر کبھی شکر گزار نہیں ہوئے۔اسی ملک میںایسے بھی لوگ ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر دریا اور پہاڑ عبور کر کے حصول تعلیم کیلئے کوشاں ہیں۔جن کی مشکلات کا تصور بھی لاہور جیسے شہروں میں رہنے والوں کیلئے محال ہے۔ میرے خیال میں چیئر لفٹ واقعے پر کوئی ڈاکو منٹری اور دستاویزی فلم بنا کربڑے شہروں کے سکولوں کے تعلیمی نصاب میں شامل کرنی چاہیے تا کہ ہمارے بچوں کواندازہ ہو کہ تعلیم کا حصول کتنی بڑی نعمت ہے۔چیئرلفٹ حادثے کے دوران ایک اچھی خبر یہ بھی آئی ہے کہ لفٹ میں پھنسے تین طلبہ نے نویں جماعت کے امتحانات میں نمایاں نمبر لے کر کامیابی حاصل کی ہے، لہٰذا اس بات سے ہمیں ایک سبق یہ بھی ملتا ہے کہ اگر لگن سچی ہو تو منزل کا حصول مشکلات کے باوجود ممکن ہے۔

مزید :

رائے -کالم -