سماجی فلاحی ریاست کا حصول، قائد اعظمؒ کے رہنما اصولوں کی روشنی میں

سماجی فلاحی ریاست کا حصول، قائد اعظمؒ کے رہنما اصولوں کی روشنی میں
سماجی فلاحی ریاست کا حصول، قائد اعظمؒ کے رہنما اصولوں کی روشنی میں

  

آج قوم کو درپیش تمام چیلنجزہم سے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ؒ کے پیغام ، رہنما اصولوں اور ویژن سے ایک بار پھرصحیح طریقے سے رجوع کرنے کا تقاضا کرتے ہیں۔ایسا کرنا اس لئے بھی ناگزیر ہے کہ اس سے ہم اپنے عظیم قائد کے خوابوں کے مطابق ملک کو آگے بڑھتے ہوئے اورترقی پسند جدید جمہوریت بنانے کےلئے اپنی ترجیحات کو از سر نو وضح کر سکتے ہیں۔ قوم اس وقت ایک حقیقی جمہوری معاشرے میں ڈھلنے کےلئے جدو جہد کر رہی ہے کیونکہ جمہوریت اور جمہوری اقدار اس کے عظیم سیاسی مفکر اور بے مثل معمار قوم کےلئے بنیادی اہمیت کی حامل تھیں۔

تاریخ پر نگاہ دوڑاتے ہوئے ہم قائدا عظم ؒ کی ایک متاثر کن رہنما اور ایک مخلص و لگن کے حامل رہنما کے طور پر غیر معمولی خصوصیات دیکھ سکتے ہیں جن کے نزدیک عوام کی فلاح و بہبود ان کی جدو جہد کا سب سے اہم مقصد تھا۔ذاتی حیثیت میں بھی قائد نے انتہائی نظم و ضبط کی حامل زندگی بسر کی اور ایک بے داغ کردار پیش کیا جس کے باعث وہ سب سے آگے رہتے ہوئے قوم کی رہنمائی کرنے میں کامیاب رہے۔ قائد اعظم ؒکی جدوجہد کی بنیاد ایک ایسا ملک قائم کرنے پر تھی جس میں رنگ، نسل اور عقیدے سے قطع نظر تمام آبادی کو یکساں اقتصادی مواقع اور سماجی انصاف میسر ہو گا۔ان کی سیاسی فہم و فراست کے نتیجہ میں ایک زیر نگیں اور بے سمت اقلیت میں سے ایک قوم تشکیل دینے کے علاوہ جدید قومی ریاست تشکیل دینے میں کامیابی حاصل ہوئی۔

 ایک حقیقی جمہورت پسند ہونے کے ناطے قائداعظم ؒ نے جمہوریت کو نوزائیدہ مملکت کےلئے آگے بڑھنے کا واحد راستہ قرار دیا۔ انہوں نے قیام پاکستان کے فوراً بعد نئی ریاست کی ترجیحات واضح کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی غرض اور مقصد ےہ ہونا چاہئے کہ عوام کی خدمت کےسے کی جائے اور ان کی فلاح و بہبود کےلئے طرےقے وضع کئے جائےں۔پاکستان کے جمہوری مستقبل سے متعلق قائد نے کہا کہ حکومت کو اقتدار مےں لانا ےا اقتدار سے رخصت کرنا صرف عوام کا حق ہے۔قائد اعظم ؒ کا یہ رہنما اصول پاکستان کے جمہوریت پسندوں کےلئے اب بھی تقویت حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔پاکستان کی تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ ملک کے جمہوری طرز پر منتخب ہونے والے پہلے وزیر اعظم اور ان کی بیٹی شہید محترمہ بے نظیر بھٹونے اسی مشن کی تکمیل اور قائد اعظمؒ کے خوابوں کی عملی تعبیر کےلئے اپنی زندگیوں کی قربانی پیش کی ۔

یہاں اس امر کا ذکر خصوصیت کے ساتھ اہم ہے کہ ایک عظیم قائد اور مدّبر ہونے کے ناطے قائد اعظمؒ نے ملک کے مستقبل کےلئے لائحہ عمل کی داغ بیل ڈالتے ہوئے عوام کی فلاح و بہبود کی بے پناہ اہمیت کو اُجاگر کیا۔یہاں ہمیں ان کی 11اگست 1947ءکی تاریخٰ تقریر سے ایک بار پھر رجوع کرنے کی ضرورت ہے جب انہوں نے قرار دیا کہ اگر ہم پاکستا ن کی عظیم مملکت کو خوشحال بنانا چاہتے ہیں تو دوسرا کوئی حل نہیں ماسوائے اس کے کہ لوگوں اور خصوصاً عام آدمی اور غریبوں کی فلاح و بہبود پر توجہ دی جائے۔لہٰذا قائدا عظمؒ کے خواب ایک ایسے پاکستان سے متعلق ہیں جو مساوی حقوق کی حامل جمہوریت ہے اور جو دولت اور وسائل کی تقسیم کے یکساں مواقع بہم پہنچاتا ہے تاکہ ملک کے عوام کومسرور، خوشحال اور با مقصد زندگی گذارنے کے قابل بنایا جاسکے۔

ہمارے عظیم قائد کا یہ ویژن ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے تصور کی بنیاد فراہم کرنے کے حوالہ سے زبردست اہمیت کا حامل ہے جو ملک کو درپیش مختلف حالیہ مسائل سے نبردآزما ہوتے قوم کو مستحکم کرنے کےلئے آج بھی اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ماضی میں بھی قائد اعظمؒ کے معاشی و سماجی ویژن کو آگے بڑھایا اور آج بھی یہ ویژن پی پی پی کی سرکردگی میں موجودہ وفاقی حکومت کا اہم طرّہ امتیاز ہے۔صدر آصف علی زرداری کی وابستگی اور مسلسل معاونت کے باعث جمہوری حکومت سماجی انصاف، مساوی مواقع اور پاکستان کے عوام کی فلاح و بہبود جیسے تصورات کو کامیابی سے آگے بڑھانے میں کامیاب رہی ہے۔

مساوی مواقع کے علاوہ خواتین کی با اختیاری کو قائد اعظم ؒنے کسی بھی ملک اور معاشرہ کی ترقی کی بنیادی شرط قرار دیا۔اس حوالہ سے انہوں نے کہا کہ خواتین کے مردوں کے شانہ بشانہ ہوئے بغیر کوئی جدوجہد کامیابی حاصل نہیں کر سکتی۔ جمہوری حکومت نے قائداعظمؒ کے رہنما اصولوں کی روشنی میں ملکی فلاح و بہبود کو ایک جدید جمہوریت میں ڈھلنے کے واحد راستہ کے طور پر اپنایا ہے۔مزید برآں، خواتین، نوجوانوں اور بچوں کی با اختیاری اسی ویژن کی مناسبت سے حکومت کی اہم ترین ترجیحات ہیں۔حکومت کی فلاح و بہبود پر مبنی فکر ایک کلی حکمت عملی پر مبنی ہے جس کا مقصد معاشرے کے محروم طبقات کی ضروریات کی تکمیل ہے۔اس طر ز فکر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور کم ہوتے ہوئے مواقع شامل ہیں جنہوں نے آبادی کے ایک بڑے حصہ کو غربت کی لکیر کے نیچے دھکیل دیا اور نتیجے میں کروڑوں خاندانوں کےلئے معاشی مشکلات پیدا ہوئیں۔

لہٰذا، معاشی طور پر مسائل کے باوجود معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کو جنہیں گزشتہ چند برسوں کے دوران عالمی معاشی بحران کے بدترین اثرات کا سامنا کرنا پڑا کو ریلیف بہم پہنچانے کےلئے بے مثل اقدامات کئے گئے۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کا قیام فلاح و بہبود پر مبنی حکومت کے اسی ویژن کے طور پر عمل میں لایا گیا جو اس وقت پاکستان کے لاکھوں خاندانوں کو فوری ریلیف اور معاونت بہم پہنچانے کا پلیٹ فارم بن چکا ہے۔اس پروگرام کی کامیابی اور موثریت کا اندازہ اس امر سے بخوبی کیا جا سکتا ہے کہ کئی مو¿قر عالمی اداروں کی جانب سے پروگرام میں روا رکھی جانے والی شفافیت، مقصدیت اور مو¿ثریت کے باعث اس پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے۔

قائد اعظم ؒکی جانب سے دئےے گئے برابری کے تصور کے حوالہ سے بی آئی ایس پی نے پروگرام میں شامل کرنے کے معیار کے طور پرانتخاب کا ایک منصفانہ اور غیر جانبدارانہ نظام وضح کیا۔ملک کے لاکھوں مستحق خاندانوں کی زندگیوں میں مثبت سماجی و معاشی تبدیلی لانے کےلئے بی آئی ایس پی نے لاتعداد منفرد اور بے مثل اقدامات کئے جن میں ماہانہ مالی معاونت، بلا سود قرضوں کی فراہمی اور ہنرمندانہ /فنی تربیت کی بہم رسانی شامل ہیں۔

مزید برآں، ہیلتھ اور لائف انشورنس کے علاوہ مستحق خاندانوں کے بچوں میں تعلیم کے فروغ کےلئے وسیلہ تعلیم سکیم متعارف کرائی گئی۔بی آئی ایس پی کی جانب سے سماجی شعبہ میں متعارف کئے جانے والے ان اقدامات کو بین الاقوامی برداری کی جانب سے انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے جس کی وجہ ان کارفرما تخلیقی طرز فکر اور پروگرام کی طرف سے وضح کئے گئے نظام ہیں۔

آج اپنے عظیم رہنما کے 136ویں یوم پیدائش کو مناتے ہوئے بی آئی ایس پی کے پلیٹ فارم سے ہم اسے اپنے قائد کے ویژن کے مطابق پاکستان کے عوام کو با اختیار بنانے اور ملک کو سماجی فلاحی ریاست بنانے کےلئے اپنے عہد کی تجدید کا بہترین موقع خیال کرتے ہیں۔خدا ان کے درجات میں اضافہ فرمائے ، آمین-

پاکستان زندہ باد-

مزید :

کالم -