اصغر خان سے طاہرالقادری تک

اصغر خان سے طاہرالقادری تک
اصغر خان سے طاہرالقادری تک

  

گزشتہ روز علامہ طاہر القادری صاحب کو ٹیلیویژن پر جذباتی انداز سے اپنا انقلابی ایجنڈا پیش کرتے ہوئے دیکھا اور سنا۔انہوں نے وارننگ دی کہ اگر تین ہفتوں کے اندر اندر سیاستدانوں نے اپنا قبلہ درست نہ کیا تو وہ چار ملین لوگوں پر مشتمل لانگ مارچ کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد کا رخ کریں گے اور آصف علی زرداری کا دھڑن تختہ کرکے مصر کے محمدمرسی کی طرح عنان حکومت اپنے ہاتھوں میں لے لیں گے۔ انہیں امید ہے کہ پاکستان آرمی ان کے ایجنڈے کی اسی طرح تائید کرے گی، جیسا کہ اس نے نواز شریف کے 2009ء کے لانگ مارچ کے موقع پر کیا تھا کہ جب شرکاءنے راوی پل بھی عبور نہیں کیا تھا کہ حکومت نے مطالبات تسلیم کر لئے تھے،لیکن طاہر القادری صاحب کی تمام توقعات غلط ہیں ،کیونکہ وہ طویل عرصے ملک سے باہر رہے ہیں اور ملک میں تبدیلی کی خاطر پاکستانی عوام کی امنگوں اور خواہشات کے بارے میں غلط اندازے لگا رہے ہیں۔پاکستانی عوام نظام کی تبدیلی کے خواہشمند ضرورہیں، جو صرف جمہوری انداز سے روپذیر ہو اور عنقریب ایسی تبدیلی آنے والی ہے، کیونکہ دوماہ کے عرصے میں نگران حکومت قائم ہونے والی ہے۔ پاکستانی عوام کسی قسم کی غیر جمہوری تبدیلی کے حق میں نہیں ہیں، جس کا درس دیتے ہوئے طاہرالقادری صاحب کہتے ہیں کہ انتخابی اصلاحات مکمل ہونے تک انتخابات کو ملتوی کر دیا جائے اور ایک مناسب مدت کے بعد انتخابات منعقد کرائے جائیں۔ دراصل وہ بنگلہ دیش ماڈل اپنانے کے خواہشمند ہیں اوربلاشبہ ہماری چند سیاسی پارٹیاں بھی ان کے اس خیال سے متفق نظر آتی ہیں۔

علامہ طاہرالقادری کے ایجنڈے میں مجھے ائر چیف مارشل اصغر خان کے کردار کی بازگشت سنائی دیتی ہے ،جس کا مظاہرہ انہوں نے 1977ءمیں کیا تھا جو بعد میں ملک میں مارشل لاءکے نفاذ کا سبب بنا۔ اصغر خان نے جنرل ضیاءالحق کو جو خط لکھا تھا، وہ بڑا دلچسپ ہے اور اس خط میں انہوں نے بھی تبدیلی کے لئے اسی قسم کی وجوہات پیش کی تھیں ۔فرق صرف یہ ہے کہ شیخ الاسلام طاہرالقادری صاحب کی پیش کردہ وجوہات بلاشبہ زیادہ دانشورانہ و مدبرانہ ہیں۔ اصغر خان صاحب کا خط ملاحظہ فرمائیے:

حکومت پاکستان محکمہ دفاع کے اعلیٰ حکام کے نام ایم اصغر خان کا پیغام

مَیں اس پیغام کے ذریعے پاکستان کی دفاعی افواج کے چیف آف آ رمی سٹاف اور افسروں سے مخاطب ہوں۔آپ کا یہ فرض ہے کہ آپ پاکستان کی علاقائی سلامتی کا تحفظ کریں اور ایسے افسروں کے حکم بجا لائیں جو قانونی طور پر آپ پر مقرر ہوں۔ یہ ہر افسر کافرض ہے کہ وہ ”قانونی اورغیر قانونی“ سربراہی میں تمیز کرے۔ آپ میں سے ہر ایک کو اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ جو کچھ فوج آج کر رہی ہے، وہ قانونی کام ہے اور اگر آپ کا ضمیر کہتا ہے کہ یہ کام قانونی نہیں ہے اور آپ پھر بھی کر رہے ہیں تو یہ آپ کی اخلاقی پستی ہوگی اور آپ اپنے ملک اورقوم کے خلاف ایک بڑے جرم کا ارتکاب کر رہے ہوں گے۔

آپ نے اب تک یہ جان لیا ہوگا کہ مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی ایک سازش کے تحت ہوئی تھی اور اس میں موجودہ وزیر اعظم نے ایک گھناﺅنا کردار ادا کیا تھا۔ آپ کو علم ہے کہ کن حالات میں بلوچستان میں فوجی کارروائی ترتیب دی گئی جو مکمل طور پر غیر ضروری تھی۔ آپ کو شاید اس کا بھی علم ہو کہ پچھلے سال صوبہ سرحد میں بالکل غیر ضروری فوجی کارروائی کی گئی، اگر آپ کو قومی معاملات سے ذرا بھی دلچسپی ہے تو آپ اس حقیقت سے باخبر ہوں گے کہ الیکشن مہم کے دوران قوم نے زوردار طریقے سے موجودہ حکومت کو مسترد کر دیا۔ لوگوں کے موجودہ حکومت کو مسترد کردینے کے ساتھ آپ کو یقینا الیکشن کے نتائج پر حیرانی ہوئی ہو گی، جس میں پاکستان قومی اتحاد ،جو عوام کی زبردست حمایت کے ساتھ پنجاب میں 116 میں سے صرف8 نشستیں حاصل کر سکا۔ آپ یقیناجانتے ہوں گے کہ بہت سے لوگوں کو کاغذات نامزدگی داخل کرانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ کیا یہ ایک عجیب اتفاق نہیں کہ وزیر اعظم اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے خلاف کوئی بھی کاغذات نامزدگی داخل نہیں کرائے جا سکے؟ جن لوگوں نے کاغذات داخل کرانے کی جسارت کی، انہیں کچھ راتیں پولیس کے زیر حراست گزارنا پڑیں۔ ان میں سے ایک ابھی تک لا پتہ ہے۔

آپ میں سے وہ لوگ جن کی ڈیوٹی 7 مارچ کے الیکشن کے سلسلے میں تھی ،جانتے ہوں گے کہ کس پیمانے پر دھاندلی ہوئی؟پاکستان قومی اتحاد کے امیدواروں کے سینکڑوں، ہزاروں بیلٹ پیپر، جو بیلٹ بکسوں سے نکالے گئے تھے، پاکستان کے کھیتوں اور گلیوں میں پڑے ہوئے ملے۔ پاکستان قومی اتحاد کے صوبائی الیکشن کے بائیکاٹ کے نتیجے میں دس مارچ کو پولنگ سٹیشنوں کی ویرانی بھی آپ نے ضرور دیکھی ہو گی،تاہم حکومتی ذرائع ابلاغ نے یہ اعلان کیا کہ صوبائی ووٹنگ بے مثال ہوئی اور بہت ووٹ بھگتائے گئے، جس کا تناسب ساٹھ فیصد تھا۔ اس کے بعد آپ نے بھٹو کے مستعفی ہونے اور دوبارہ الیکشن کرانے کی تحریک کو بھی دیکھا ہوگا۔ہزاروں عورتوں کا اپنے بچوں کو گود میں لئے ہر شہر اور ہر قصبے کی گلیوں میں نکل آنا ایک ایسا نظارہ تھا، جسے کوئی فراموش نہیں کر سکتا۔یہ وہ عورتیں تھیں، جنہوں نے بھٹو کے دعوے کے مطابق اسے ووٹ دیئے تھے۔تحریک نے چند ہی دنوں میں ثابت کر دیا کہ قوم نے مکمل طور پر بھٹو اور اس کی حکومت کو مسترد کر دیاہے۔ ہمارے سینکڑوں جوانوں کی موت ہماری ماﺅں اور بہنوں کو زد و کوب کرنے کے واقعات ایسے منظر تھے ،جن پر آپ کو غیرت اور پشیمانی ہونی چاہئے۔

کیا آپ نے کبھی سوچا کہ لوگوں نے اپنے آپ کو اتنی مصیبت میں کیو ں ڈالا؟ مائیں اپنے بچوں کو گود میں اٹھائے گولیوں کے سامنے کیوں آئیں؟ والدین نے اپنے بچوں کو پولیس کی لاٹھیوں اور گولیوں کے سامنے جانے کی کیوں اجازت دی؟ یقینÉ انہوں نے ایسا اس لئے کیا کہ وہ جانتے تھے کہ ان کے ساتھ دھوکا اور بے ایمانی ہوئی ہے اور یہ کہ حکمرانوں کے بدلنے کا بنیادی حق ان سے چھین لیا گیا ہے ۔ان کی سمجھ میں یہ بات آگئی کہ جب سے ہم نے ان کو یہ حقیقت بتائی کہ آئین جس کی حفاظت کا آپ نے بطور دفاعی افواج کے افسروں کی حیثیت سے حلف اٹھایا ہے ،خلاف ورزی کی گئی۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل نمبر(218)(3) کے مطابق یہ الیکشن کمیشن کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ ایک ایسی مشینری مرتب کرے جو منصفانہ، آزادانہ اور قانون کے تحت صاف ستھرے الیکشن کا اہتمام کرے اور ہر قسم کی دھاندلیوں کے سد باب کا انتظام کرے۔

میرے دوست!یہ ایک منصفانہ اور آزادانہ الیکشن نہیں تھا۔بھٹو نے آئین کی خلاف ورزی کی اور وہ قوم کے خلاف ایک عظیم جرم کا مرتکب ہوا ہے۔ یہ آپ کے فرائض میں شامل نہیں ہے کہ آپ اس کی غیر قانونی حکومت کی حمایت کریں اور اپنی قوم کو اس لئے قتل کریں کہ اس کی حکومت کچھ عرصہ اور قائم رہے۔ آپ یہ کہنے کا موقع نہ دیں کہ پاکستانی افواج محض پولیس کی طرح ہلکا کردار ادا کرتے ہوئے صرف اس قابل ہے کہ وہ غیر مسلح شہریوں کو ہی مار سکتی ہے۔آپ اس فائرنگ کی وضاحت کس طرح کر سکتے ہیں جو اگلے روز لاہور میں ایک جوشیلے لڑکے پر ہوئی جو کہ فوج کو (V)کا نشان دکھا رہا تھا۔ جوش اور ہمت کی ہمارے نوجوانوں میں حوصلہ افزائی کرنی چاہئے اور یہ ایک بدقسمت واقعہ فوج کے نام پر سیاہ دھبہ ہے جو دھونا مشکل ہوگا۔ اسی طرح کراچی میں ایک نہتے ہجوم پر فوج کی فائرنگ ایک ناقابل معافی واقعہ ہے۔

کیا آپ یہ تسلیم نہیں کرتے کہ پاکستان کے غریب اور بھوکے لوگوں نے اپنی پریشان کن تیس سالہ تاریخ میں ہماری فوج کے لئے ہمیشہ محبت اور پیار کا اظہار کیا ہے اور یہ کہ جب آپ نے مشرقی پاکستان میں ہتھیار ڈالے تو وہ روتے رہے۔ انہوں نے ہمیشہ آپ کے اعزاز کے لئے دعائیں مانگیں اور اپنے اور اپنے بچوں کے پیٹ کاٹ کر اپنے جرنیلوں اور بڑے افسروں کے لئے ایسے حالات پیدا کئے کہ وہ اپنے ہم رتبہ امریکنوں اور انگریزوں سے بہتر زندگی گزاریں۔ مجھے یہ کہتے ہوئے دکھ ہوتا ہے کہ اب آپ کے ساتھ محبت ختم ہوگئی ہے، دعا کریں کہ یہ نفرت میں تبدیل نہ ہوجائے ....اگر ایسا ہو گیا تو یہ اس قوم کی تاریخ میں ایک ایسا المیہ ہوگا، جسے ہم اپنی زندگی میں ختم نہ کر سکیں گے۔

عزتوں کے مالک ہوتے ہوئے یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ اپنے فرائض انجام دیں اور ان نازک حالات میں غیر قانونی سربراہی کی اندھی تقلید نہ کریں۔ قوموں کی زندگی میں ایسے وقت آتے ہیں ، جب ہر شخص کو اپنے آپ سے پوچھنا ہوتا ہے کہ جو کام وہ کر رہا ہے، وہ صحیح ہے؟ آپ کے لئے یہ لمحہ آن پہنچا ہے۔ ایمانداری سے اس کا جواب دیجئے اور پاکستان کو بچائیے۔ اللہ آپ کے ساتھ ہو©۔

دستخط xxxxxx

ایم اصغر خان ائر مارشل (ریٹائرڈ)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خط کے نتیجے میں جب ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکا کر” دوسروں کے لئے عبرت ناک مثال بنا دیا گیا“ تو ائر مارشل اصغر خان نے سکھ کا سانس لیا، لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ طاہرالقادری صاحب اب کس کی گردن میں پھانسی کا پھندہ ڈالنا چاہتے ہیں؟

در اصل طاہرالقادری صاحب تاریخ کی مخالف سمت میں پرواز کرتے دکھائی دیتے ہیں، خصوصاًجب وہ کہتے ہیں کہ ”ملک کو بچاﺅ نہ کہ سیاست کو“۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ پاکستان ایک سیاسی تحریک کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا تھاجو قائد اعظم محمد علی جناح کی سربراہی میں چلائی گئی تھی۔ ہم نے 1971ءمیں ریاست کی عسکری طاقت کے بل بوتے پر پاکستان کی مختصر سیاست کو بچانے کی کوشش کی تھی، لیکن ناکام ہوئے۔ اب ہمارے پاس اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ،جسے قوم نے اپنے لئے خود منتخب کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ بروقت صاف اورشفاف انتخابات منعقد کئے جائیں،جس پر چل کر نئے جمہوری نظام کی راہ پر گامزن ہوں۔ ایک جمہوری نظام کی یہ خوبی ہے کہ وہ اپنی کمزوریوں کو خود بخود دور کر تا ہے اور اگر مداخلت نہ ہوتو یہی نظام قوم کی امنگوں پر پورا اترتا ہے۔

مزید :

کالم -