عراق نے شام کے ساتھ سرحد بند کردی

عراق نے شام کے ساتھ سرحد بند کردی

  



بغداد(ثناءنیوز)عراق نے شام کے ساتھ اپنی سرحد بند کردی ہے اور وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت نے ملک کے مغرب میں واقع صحرا میں القاعدہ اور دوسرے جنگجوو¿ں کے خلاف ایک بڑی کارروائی شروع کی ہے۔عراقی فوج الانبار میں القاعدہ سے وابستہ جنگجوو¿ں کے خلاف ایک بڑی کارروائی کررہی ہے۔ہفتے کے روزاسی علاقے میں بم دھماکے میں ایک ڈویڑنل کمانڈر سمیت پندرہ فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔

عراقی فوج اس کمانڈر محمد کے انتقام میں شام کی سرحد کے نزدیک بڑی کارروائی کررہی ہے۔اس کو انتقام محمد کارروائی کا نام دیا گیا ہے۔عراقی وزارت دفاع کے ترجمان محمد العسکری کا کہنا ہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں شامی جنگجوو¿ں کو بھی ازسرنو منظم ہونے اور سرحدی علاقے میں اپنے نئے عسکری تربیت کیمپ قائم کرنے کا موقع مل گیا ہے۔انھوں نے بتایا کہ فضائی تصویراور جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھوں نے شام کی سرحد کے نزدیک گیارہ عسکری کیمپ قائم کررکھے ہیں۔ترجمان کا کہنا تھا کہ جب کبھی شام میں جنگجوو¿ں پر دباو¿ پڑتا ہے تو وہ عراق اٹھ آتے ہیں۔وہ پھر یہاں ازسرنو منظم ہوتے ہیں اور پھر دونوں ممالک میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں۔گذشتہ روز القاعدہ سے وابستہ گروپ ریاست اسلامی عراق اور شام نے شمالی شہر تکریت میں دو ٹیلی ویڑن چینلوں پر خود کش بم حملوں کی ذمے داری قبول کی ہے اور کہا ہے کہ صلاح الدین سیٹلائٹ چینل کو سنی عوام کا تشخص مجروح کرنے پر نشانہ بنایا گیا ہے۔درایں اثنائ دارالحکومت بغداد کے مغربی علاقے میں عراقی وزیر دفاع کے قافلے پر بم حملے کے نتیجے میں دو محافظ زخمی ہوگئے ہیں۔وزارت دفاع کے ترجمان محمد العسکری نے بتایا ہے کہ وزیردفاع سعدون الدیلمی کے قافلے کو صوبہ الانبار کے دو شہروں فلوجہ اور رمادی کے درمیان سڑک کے کنارے نصب بم سے نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں ایک گاڑی تباہ ہوگئی۔تاہم ترجمان نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا وزیردفاع قافلے کے ساتھ سفر کررہے تھے یا نہیں۔

مزید : عالمی منظر


loading...