ہر گھنٹے کے بعد ایک شامی مہاجر بچے کی پیدائش ہو رہی ہے، اقوام متحدہ

ہر گھنٹے کے بعد ایک شامی مہاجر بچے کی پیدائش ہو رہی ہے، اقوام متحدہ

  



بیروت(ثناءنیوز)اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے خاندانوں کے ہاں ہر ایک گھنٹے کے بعد ایک بچے کی پیدائش ہورہی ہے۔عالمی ادارے نے شامی مہاجر بچوں کو امراض کا شکار ہونے سے بچانے کے لیے مدد کی اپیل کی ہے۔شام میں مارچ 2011ئ سے صدر بشارالاسد کے خلاف جاری عوامی احتجاجی تحریک کے آغاز کے بعد سے بے گھر ہونے والے لاکھوں شامیوں کے ہاں اکیس ہزار بچے پیدا ہوچکے ہیں۔اقوام متحدہ نے منجمد کرنے والے سردموسم میں شامی مہاجرین کو مزید مشکلات کا شکار ہونے سے بچانے کے لیے مدد کی اپیل کی ہے۔شام میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے پانچ لاکھ کے لگ بھگ بچے پولیو سے بچاو¿ کے قطرے پینے سے بھی محروم رہے ہیں جس کے پیش نظر اب ان میں سے بعض اس مہلک مرض کے خطرے سے دوچار ہوسکتے ہیں۔شدید سرد موسم میں شام اور پڑوسی ممالک میں مہاجر کیمپوں میں رہنے والے بچے نمونیے اور دوسرے مہلک امراض کا شکار ہورہے ہیں۔شامی مہاجرین کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کے حوالے سے ایک اور مسئلہ یہ درپیش ہے کہ ان میں سے بیشتر کو سرکاری طور پر رجسٹرڈ پیدائشی سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیے جاتے۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل میں شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق اکتوبر میں لبنان میں شامی مہاجرماو¿ں کے ہاں پیدا ہونے والے 781بچوں میں سے 23 فی صد کو پیدائشی سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے تھے۔شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فوجوں اور باغی جنگجوو¿ں کے درمیان مارچ 2011ئ سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں ایک لاکھ چھبیس ہزار افراد مارے جاچکے ہیں جبکہ لاکھوں بے گھر ہو کر پڑوسی ممالک میں یا اندرون ملک مہاجر کیمپوں میں انتہائی نامساعد حالات میں رہ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کی رپورٹ کے مطابق شام میں مارچ 2011ئ سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں 65 لاکھ افراد دربدر ہوئے ہیں۔ان میں 23 لاکھ پڑوسی ممالک میں مہاجر کیمپوں میں مقیم ہیں اور42 لاکھ اندرون ملک ہی عارضی خیموں یا دوسری پناہ گاہوں میں رہ رہے ہیں۔اب عالمی ادارے کے تحت انسانی امدادی ایجنسی کے تازہ تخمینے کے مطابق 2014ئ کے اختتام تک اکتالیس لاکھ شامی لبنان ،اردن ،ترکی ،عراق اور مصر میں رہ رہے ہوں گے۔ان میں سے چھے لاکھ ساٹھ ہزار شامی پناہ گزین کیمپوں میں مقیم ہوں گے اور چونتیس لاکھ چالیس ہزار نجی اقامت گاہوں میں اقامت گزین ہوں گے۔اقوام متحدہ نے شامی مہاجرین کی اس ممکنہ کثیر تعداد کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے عالمی سطح پر امداد کی اپیل کی ہے۔شام کے پڑوسی ممالک اپنے ہاں مقیم شامی مہاجرین کی تعداد تیس لاکھ کے لگ بھگ بتا رہے ہیں جبکہ ایک سال قبل خطے میں رجسٹرڈ شامی مہاجرین کی تعداد پانچ لاکھ اٹھاسی ہزار تھی۔اقوام متحدہ کی انسانی امدادی ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس کو اور دوسری بین الاقوامی امدادی ایجنسیوں کو دنیا بھر میں سترہ بحران زدہ علاقوں کے قریباً پانچ کروڑ بیس لاکھ افراد کو 2014ئ میں امداد پہنچانے کے لیے بارہ ارب نوے کروڑ ڈالرز درکار ہوں گے۔اس رقم میں نصف صرف شامی مہاجرین کے لیے درکار ہے۔شام کے اندر دربدر لوگوں تک امداد پہنچانے کے لیے دو ارب ستائیس کروڑ ڈالرز اور خطے کے دوسرے ممالک میں مقیم شامی مہاجرین کے لیے چار ارب بیس کروڑ ڈالرز کی ضرورت ہوگی۔

مزید : عالمی منظر


loading...