ایلن ٹرنگ کو موت کے 59سال بعد معافی دینے کا اعلان

ایلن ٹرنگ کو موت کے 59سال بعد معافی دینے کا اعلان

  



لندن (این این آئی)دوسری جنگ عظیم میں نازی جرمنوں کے پیچیدہ کوڈ توڑنے والے ایلن ٹرنگ کو ان کی موت کے 59 سال بعد شاہی معافی دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ایلن ٹرنگ کو1952 میں ہم جنس پرستی کے الزام میں سزا کے طور پر خصیوں کو مردہ کر دینے کی سزا دی گئی تھی اس سزا کی وجہ سے ان کا کنٹریکٹ ختم کر دیا تھا جو جنگ عظیم دوئم میں اتحادیوں کےلئے بہت ضروری تھا۔برطانیہ کے وزیر قانون جسٹس کرس گریلنگ نے ایلن ٹرنگ شاہی معافی کے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے ایلن ٹرنگ کو معاف کیا ۔کرس گریلنگ نے کہاکہ ڈاکٹر ایلن ٹورنگ ایک شاندار ذہن کے مالک اور ایک غیر معمولی شخص تھے۔انھوں نے کہا کہ جنگ کے دوران ٹورنگ نے جو تحقیق کی اس کی وجہ سے ہزاروں جانیں بچیں۔ایلن ٹرنگ کے کام نے اتحادیوں کو جرمنی کی بحری فوج کے خفیہ پیغامات کو تیزی سے سمجھنے میں مدد دی۔انھوں نے کوڈ توڑنے کے حوالے سے بعض بنیادی عوامل کو سمجھنے کےلئے بھی کام کیا جو پہلی بار اپریل 2012 سامنے لایا گیا۔کرس گریلنگ نے کہاکہ ایلن ٹرنگ کی دیگر تمام زندگی ہم جنس پرستی کے باعث ملنے والے سزا کا شکار ہو گئی ایک ایسی سزا جسے آج ہم ناانصافی اور تفریق قرار دیتے ہیں اور اسے ختم ہونا چاہیے۔

انہوںنے کہاکہ ٹرنگ کو جنگ کے دوران ان کے لاجواب کام اور کوششوں اور سائنس کےلئے ان کے ورثے کی وجہ سے یاد رکھا جانا چاہیے۔انہوںنے کہاکہ ملکہ کی جانب سے معافی اس غیر معمولی انسان کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

مزید : عالمی منظر


loading...