کشمیری عوام کے خلاف روا رکھی گئی جارحانہ پالیسیاں بلاجواز ہیں ¾ حریت کانفرنس

کشمیری عوام کے خلاف روا رکھی گئی جارحانہ پالیسیاں بلاجواز ہیں ¾ حریت کانفرنس

  



 سری نگر ( اے این این ) حریت کانفرنس نے ریاستی انتظامیہ کی طرف سے روا رکھی جانے والی جارحانہ پالسیوںکی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس طرح کے طرزعمل کو ریاستی انتظامیہ کی طرف سے یہاں کے عوام کی جائز اور مبنی برحق آواز کا گلا دبانے کا آمرانہ حربہ قرار دیا ہے ۔ اپنے ایک بیان میں حریت ترجمان نے کہا ہے کہ حریت کے قائدین پر مشتمل وفد جس میں حریت شعبہ تعلقات عامہ کے حکیم عبدلرشید ، عبدالرشید انتو ، امتیاز احمد ریشی اور یاسین حسن ملک شامل تھے ،کو پولیس نے اس وقت پٹن میں حراست میںلے کر مقید کر دیا جب وہ عوامی رابطہ مہم کے سلسلے میں شیری بارہمولہ سے واپس آرہے تھے۔

بیان کے مطابق ان قائدین کو رات بھر پٹن تھانے میں قید رکھنے کے بعد علی لصبح واپس شیری تھانے میں منتقل کرکے مقید رکھا گیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پٹن تھانے میں حراست کے دوران ان قائدین کے ساتھ تمام مسلمہ جمہوری اور اخلاقی اقدار کو بالائے طاق رکھ کر ان کے ساتھ اخلاقی مجرموں جیسا برتاﺅ کیا گیا اور ان کو ذہنی طورہراساں کرنے کی کوشش کی گئی جو انتہائی قابل مذمت اور فسطائی طرز سیاست کا برملا مظاہرہ ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ریاستی انتظامیہ اور اس کی ماتحت پولیس فورس کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہئے کہ حریت قیادت کشمیریوں کی مبنی برحق جدوجہد کی مستند آواز ہے اور ان کو اس طرح وحشیانہ طریقے سے ہراساں کرنے کا عمل اور ان کی پر امن سیاسی و تحریکی سرگرمیوں پر پابندی کا نفاذ انتقام گیرانہ سیاست کاری کا مظہر ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پولیس اور سرکاری فورسز کے یہ غیر جمہوری اور غیر اخلاقی حربے حریت قیادت کو اپنے موقف سے دست بردار نہیں کر سکے اور نہ قدغن یا گرفتاریاں حریت قیادت کے عزم و حوصلہ کو متزلزل کر سکتی ہیں۔ دریں اثنامسلم لیگ کے نے پارٹی چےرمین اور حرےت کانفرنس کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ حکیم عبدالرشےد جو اس وقت شیری بارہمولہ پولیس اسٹیشن میں پانچ دن کی ریمانڈ پر ہے کی بگڑتی ہوئی صحت پر تشوےش کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق کل صبح حکیم کو تھانہ شےری سے بارہمولہ اسپتال منتقل کیا ۔ حکیم کی فورا رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان سامراجی اور استعمارانہ حربوں سے یہاں کے عوام اور حرےت پسند قےادت کے جذبہ آزادی کو کم کیا جاسکتا ہے اور نہ دبایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا گرفتاریوں اور قدغنوں سے کشمیری عوام کو تحرےک مزاحمت سے دور نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی انہیں مرعوب کرکے تحرےک کا رخ موڑا جاسکتا ہے۔

مزید : عالمی منظر


loading...