برازیل میں ٹاپ لیس مظاہرہ میں ایک درجن خواتین کی شرکت

برازیل میں ٹاپ لیس مظاہرہ میں ایک درجن خواتین کی شرکت

  



برازیلیا(ثناءنیوز)برازیل میں کئی عشروں سے غسلِ آفتابی کے لیے اوپری بدن کا لباس لازمی پہننے کے قانون کے خلاف احتجاج میں صرف ایک درجن خواتین ہی شرکت کر سکیں۔اس کی بجائے ریو ڈی جنیرو کی ایپی نیما بیچ پر سینکڑوں مردوں اور فوٹوگرافروں کا جمِ غفیر اکٹھا ہو گیا۔دو ہزار سے زائد خواتین نے کہا تھا کہ وہ قانون کو ختم کرنے کے مطالبے کے طور پر ساحل پر جا کر اوپری بدن کا لباس اتار دیں گی۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ شاید وہ ڈر گئیں۔اس قانون کے مطابق ساحلِ سمندر پر اوپری بدن کے لباس کے بغیر (ٹاپ لیس) جانا فحش حرکت ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ قانون منافقانہ اور موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ ریو میں ہونے والے سالانہ کارنیوال میں برہنگی کو برداشت کیا جاتا ہے۔اولگا سیلن نے امریکی خبررساں ادارے کو بتایا: ’یہ مردانگی پر اترانے والی ہماری تہذیب کا مصنوعی کٹرپن ہے جس کے تحت عورت پر اوپری بدن کا لباس اتارنے پر پابندی عائد ہے۔‘منتظم آنا ریوس نے کہا کہ اس مظاہرے کا مقصد برازیل میں عورتوں کے خلاف تعصب کے بارے میں آگہی پھیلانا تھا:’افسوس ہے کہ یہ مظاہرہ میڈیا کی شعبدہ بازی بن کر رہ گیا۔

مجھے ان مردوں کی تعداد پر حیرت ہوتی ہے جو عورتوں کی چھاتیاں دیکھنے کے لیے یہاں آئے ہوئے ہیں۔‘اس تحریک کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب برازیلی اداکارہ کرسٹینا فلوریس کو ایک فوٹو سیشن کے بعد پولیس کا سامنا کرنا پڑا۔فلوریس نے کہا کہ پولیس نے دھمکی دی کہ اگر انھوں نے اوپری لباس نہ پہنا تو وہ انھیں گرفتار کر لیں گے:1940 کے عشرے میں بنائے گئے اس قانون کے مطابق اگر کوئی عورت ساحل پر بغیر اوپری لباس کے گئی تو اسے تین ماہ سے ایک سال تک قید اور جرمانے کی سزائیں دی جا سکتی ہیں۔اگرچہ ان سزاو¿ں پر شاذ ہی عمل کیا جاتا ہے، لیکن برازیلی ساحلوں پر عورتوں کو اوپری بدن کے لباس کے بغیر جانے کی اجازت نہیں ہے۔

مزید : عالمی منظر


loading...