جنوبی سوڈان میں عالمی امن فوج کی تعداد ساڑھے 12ہزار تک بڑھانے کی منظوری

جنوبی سوڈان میں عالمی امن فوج کی تعداد ساڑھے 12ہزار تک بڑھانے کی منظوری

  



جوبا/نیویارک(آن لائن)اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جنوبی سوڈان میں عالمی امن فوج کی تعداد سات ہزار سے ساڑھے بارہ ہزار تک بڑھانے کی منظوری دے دی ہے۔اس طرح اس شورش زدہ ملک میں اقوام متحدہ کی امن فوج کی تعداد میں قریباً 80 فی صد تک اضافہ کیا گیا ہے۔سلامتی کونسل نے منگل کی رات جنوبی سوڈان میں امن فورس کی تعداد بڑھانے سے متعلق قرارداد کی اتفاق رائے سے منظوری دی ہے اور اس کے تحت عالمی پولیس فورس کی تعداد بھی نو سو سے بڑھا کر 1323 کردی گئی ہے۔سلامتی کونسل نے جنوبی سوڈان کے لیے منظور کردہ عالمی امن فورس کی تعداد کو پورا کرنے کے لیے کانگو ،دارفور ،ایبئی ،آئیوری کوسٹ اور لائبیریا میں تعینات فوجیوں اور پولیس کو وہاں سے منتقل کرنے کی اجازت دے دی ہے۔اس کے علاوہ جنوبی سوڈان میں تعینات امن فوج کو ہیلی کاپٹرز اور دوسرا فوجی سازوسامان بھی مہیا کیا جائے گا۔سلامتی کونسل نے جنوبی سوڈان میں لڑائی اور شہریوں ،نسلی اقلیتوں کے خلاف تشدد کی مذمت کی ہے جس کے نتیجے میں سیکڑوں کی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔کونسل نے تمام فریقوں کی جانب سے انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزیوں کی بھی مذمت کی ہے اور اس نے فوری طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرنے اور مذاکرات کا عمل شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے قرارداد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے جنوبی سوڈان میں بے گناہ شہریوں اور نسلی اقلیتوں کے خلاف تشدد کے خاتمے میں مدد ملے گی۔انھوں نے کہا کہ ہمیں ہولناک حملوں کی رپورٹس ملی ہیں۔ہزاروں لوگ اپنا گھربار چھوڑ کر چلے گئے ہیں ۔

اور بے گناہ شہریوں کو محض ان کی نسل کی وجہ سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔انھوں نے کہا کہ شہریوں اور اقوام متحدہ کے اہلکاروں پر حملوں کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم قراردیا جاسکتا ہے۔تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ یہ ایک سیاسی تنازعہ ہے اور اس کا پ±رامن سیاسی حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔سلامتی کونسل میں عالمی امن فورس کی تعداد میں اضافے سے متعلق قرارداد پر رائے شماری سے چندے قبل ہی اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمشنر نیوی پلے نے جنوبی سوڈان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں جنوبی سوڈان میں اجتماعی قبروں کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے اور دارالحکومت جوبا اور دوسرے علاقوں میں عام شہریوں کو چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران گرفتار کیا جارہا ہے۔مس نیوی پلے نے ایک بیان میں کہا کہ حالیہ دنوں میں لوگوں کی بڑی تعداد کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا ہے،افراد کو ان کی نسل کی بنیاد پر ہدف بنایا جارہا ہےاور ان کی اندھا دھند پکڑ دھکڑ جاری ہے۔انھوں نے گرفتار کیے گئے افراد کے تحفظ کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے افراد کو نامعلوم مقامات پر زیرحراست رکھا جارہا ہے۔انھوں نے بیان میں مزید کہا کہ ریاست یونٹی کے علاقے بینٹیو میں ایک اجتماعی قبر کا پتا چلا ہے اور جوبا میں بھی دو اجتماعی قبروں کی اطلاع سامنے آئی ہے''۔یہ پہلا موقع ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے جنوبی سوڈان میں حالیہ خونریز جھڑپوں کے بعد اجتماعی قبور کا انکشاف کیا گیا ہے۔جنوبی سوڈان کے صدر سلواکیر کے تحت سرکاری فوج اور سابق نائب صدر ریک ماشر کے حامی مسلح دستوں کے درمیان گذشتہ دوہفتوں سے جھڑپیں جاری ہیں جن میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔جنوبی سوڈان کی سرکاری فوج نے ریاست جنگلئی کے دارالحکومت بور میں منگل کو دوبارہ قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔اس شہر پر ماشر کے دستوں نے قبضہ کر لیا تھا۔واضح رہے کہ سلواکیر اور ماشر دو مختلف نسلی گروپوں سے تعلق رکھتے ہیں۔وہ سوڈان کی خانہ جنگی کے دوران مختلف گروپوں کی جانب سے خرطوم کی فوجوں کے خلاف لڑتے رہے تھے اور اب ان کے حامی دستے ایک دوسرے سے باہم برسرپیکار ہیں۔صدر سلواکیر نے ماشر کے حامی جنگجوو¿ں پر اپنی حکومت کا تختہ الٹنے کا الزام عاید کیا ہے۔

مزید : عالمی منظر