موسیقار جی اے چشتی کو مداحوں سے بچھڑے 19 سال بیت گئے

موسیقار جی اے چشتی کو مداحوں سے بچھڑے 19 سال بیت گئے

  



لاہور(آئی این پی) نامور موسیقار جی اے چشتی المعروف بابا چشتی کی 19ویں برسی بدھ کو منائی گئی ۔جی اے چشتی کا پورا اور اصلی نام غلام احمد چشتی تھا۔ وہ 1901ء کو مشرقی پنجاب کے ضلع جالندھر میں واقع ایک قصبہ گوناچور میں پیدا ہوئے اور بعد ازاں وہ قیام پاکستان کے بعد بھارت سے ہجرت کر کے پاکستان آ گئے۔انھوں نے پاکستان فلم انڈسٹری کو اس وقت لازوال اور مقبول دھنیں دیں جب وہ اپنے پاﺅں پر کھڑی ہو رہی تھی۔ 1936 ءمیں فلم ”دین اور دنیا “اور 1938 ء میں فلم” سوہنی مہیوال “کی موسیقی ترتیب دی اور یہ دونوں فلمیں کامیابی سے ہمکنار ہوئیں۔ 1935 میں انھوں نے بے بی نورجہاں کو 9سال کی عمر میں متعارف کرایا۔بابا چشتی نے پنجابی فلموں کے لیے عمدہ دھنیں بنائی اور نہ صرف گانے مقبول ہوئے بلکہ فلمیں بھی کامیاب ہوئیں۔ اسی دور کی ایک سپرہٹ فلم ”پھیرے “تھی جس کے گانوں نے دھوم مچا دی۔ اس فلم کے نغمے‘مینوں رب دی سوں تیرے نال پیار ہو گیا،اکھیاں لاویں نہ ،مینوں دس جا کوئی ٹھکانہ ، ایک عرصے تک زبان زد خاص و عام رہے۔ انھوں نے زبیدہ خانم کو 1951ء ،سلیم رضاکو 1955ء نسیم بیگم اور نذیر بیگم کو1956 اور مالا کو 1961میں متعارف کرایا۔جی اے چشتی 25دسمبر 1994 ء کو 89سال کی عمر میں دل کے دورہ کی وجہ سے انتقال کر گئے

مزید : کلچر