تنقید سے پہلے تحقیق ضروری ہے

تنقید سے پہلے تحقیق ضروری ہے
تنقید سے پہلے تحقیق ضروری ہے

  



وزیراعظم محمد نواز شریف کی چھ ماہ حکومت میں وزیر داخلہ ،وزیر پانی و بجلی اور وزیر خزانہ پر بہت تنقید ہوئی ہے اور وہ ملک کے مسائل اور مہنگائی کے حوالے سے عوامی نمائندوں کا حق ہے، تاہم اس حکومت میں شامل ایک ایسے شخص پر بعض اوقات ایسی تنقید ہوتی ہے جو نہ صرف کسی شخص کے شایان شان نہیں، بلکہ شاید تنقید کرنے والوں کو ان کے کام اور ذمہ داریوں کا پتا بھی نہیں ہے ۔اس شخص کا نام ہے وزیر اطلاعات پرویز رشید ۔ پرویز رشید کے سسرال کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے اور خیبرپختونخوا کے ضلع نوشہرہ جہاں سے آج کل وزیراعلیٰ پرویز خٹک تحریک انصاف کے چیف ایگزیکٹیو ہیں تاہم کل تک سیکولرازم کی پرچار اور بےنظیر بھٹو سمیت دیگر لوگوں کے لئے شیریں زبان استعمال کرنے والی شیریں مزاری کو شاید یہ علم نہیں ہے کہ پرویز رشید نہ صرف ایک سیاسی کارکن ہیں بلکہ ایک بڑا دل رکھنے والے انسان بھی ہیں۔

گزشتہ دنوں پرویز رشید نے خیبرپختونخوا حکومت کے حوالے سے بعض نکات اٹھائے جس پر شیریں مزاری نے سخت لہجہ استعمال کیا حالانکہ خیبرپختونخوا کی سرزمین پر شیریں مزاری سمیت پرویز رشید کے بچوں کا بھی حق ہے اس لئے وہ حق بجانب ہیں کہ اس بارے میں سوالات اٹھائیں کیونکہ انسانی فطرت میں یہ بات شامل ہے کہ بچے اپنے ننھیال کے حوالے سے بہت حساس ہوتے ہیں اور پرویز رشید ایک باپ ہے اس لئے ان کی بچیوں کا نہ صرف خیبرپختونخوا پر حق ہے بلکہ ان کے اپنے والد کا بھی حق ہے کہ وہ خیبرپختونخوا کے حوالے سے اپنا کردار ادا کریں ۔باقی رہا وفاقی حکومت کی پالیسیوں کا دفاع کرناتو اس حوالے سے بات کرنا پرویز رشید کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔گزشتہ چھ ماہ میں ہر وزیر نے اپنے محکمے میں اپنے چہیتوں اور اپنے لوگوں کو نواز نا شروع کر دیا ہے ۔

پرویز رشید واحد بندے ہیں کہ ان کی کردار کشی کرنے والے میڈیا گروپ بھی اگر ان کو اپنی سالگرہ پر بلائیں تو سب سے پہلے وہاں پہنچ جاتے ہیں ان کی کردار کشی کرنے والے اخبارات کو بھی اشتہارات ملتے ہیں اور انہوں نے آج تک کسی اخبار کے لئے یہ سفارش بھی نہیں کی کہ ان کو اشتہار دیں یا ان کو اشتہار نہ دیں حالانکہ اس سے قبل قمر الزمان کائرہ اور دیگر لوگ اپنے دورِ حکومت میں نہ صرف اشتہارا ت کے حوالے سے پسند و ناپسند کی پالیسی پر عمل پیرا رہے بلکہ اس کو ایک ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کیا ۔پرویز رشید پاکستان کے وہ پہلے وزیراطلاعات بن گئے ہیں جنہوں نے نہ صرف سیکریٹ فنڈ کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا بلکہ پورے ملک کے صحافیوں کو یکساں مواقع فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔پرویز رشید نے پوری قوم کے سامنے وعدہ کیا کہ وزیر اطلاعات کا نہ کوئی سیکریٹ فنڈہوگا اور نہ کسی صحافی کو حکومت کے لئے کالم اور مدح سرائیاں لکھنے کےلئے رکھا جائے گا اس لئے بعض حلقوں کی جانب سے پرویز رشید کے خلاف تنقید اس لئے ان کے نزدیک جائز ہے کہ پرانے زمانے میں ان کو جو مفت میں ملتے تھے وہ بند ہو گئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کے خلاف شیریں مزاری کی معمولی سی بات کو بھی بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے۔

 پرویز رشید وہ شخص ہیں جنہوں نے ہمیشہ جمہوریت کا ساتھ دیا ہے چاہے وہ بھٹو کے خلاف فوجی آمریت کا زمانہ ہو یا وہ بھٹو کی سیاسی جدوجہد ہو یا محمد نواز شریف کے خلاف فوجی آمریت ہو یا جلا وطنی اپنی بچیوں اور اپنی اہلیہ کو مصیبتوں میں چھوڑ کر جیلوں اور پابندیوں کا سامنا کرنے والے پرویز رشید کے ساتھ نظریاتی اختلاف تو ہر کسی کا ہو سکتا ہے لیکن ایک سیاسی کارکن اور کرپشن سے پاک شخصیت کے حوالے سے ان سے کوئی اختلاف نہیں کر سکتا اور ان کے مخالفین بھی اس بات کا برملا اظہار کرتے ہیں ۔پرویز رشید میں ایک خوبی ایسی ہے جو نہ صرف شیریں مزاری کو نظر نہیں آئی بلکہ اور بہت سے لوگوں کو بھی نظر نہیں آرہی ہے وہ پرویز رشید کا بڑا پن ہے ۔گزشتہ دنوں جب چوہدری نثار اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان قومی اسمبلی میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہو ااور اپوزیشن نے بائیکاٹ کیا۔یہ پرویز رشید ہی ہیں جنہوں نے ٹی وی پر آ کر یہ کہا کہ وہ چوہدری نثار کی طرف سے اپوزیشن والوں سے معافی مانگتے ہیں ۔

 یہ پرویز رشید کا کام تھا ہی نہیں لیکن بڑا ہونے اور بڑے پن میں فرق ہوتا ہے اس لئے پرویز رشید میں بڑا پن موجود ہے یہی وجہ ہے کہ محمد نواز شریف ان پر اپنے بھائی محمدشہباز شریف کی طرح اعتماد کرتے ہیں اور اس اعتماد کی بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ 1999ءمیں محمد نواز شریف کی حکومت کے خاتمے کے بعد پرویز رشید کو اتنی تکالیف کا سامنا کرناپڑا کہ بلآخر انہیں علاج کےلئے بیرون ملک جانا پڑا ۔ایسے میں عمران خان پر سیاسی تنقید کرنا پرویز رشید سمیت ہر سیاسی کارکن کا حق ہے تاہم اپنے آپ کو پڑھنے لکھے افراد کی جماعت کہنے والی تحریک انصاف کے رہنماﺅں میں اتنا صبر نہیں ہے کہ وہ اس بات پر بھی ذرا سوچیں کہ آخر دیگر وزرا ءکے بجائے خیبرپختونخوا کے لئے پرویز رشید کیوں فکر مند رہتے ہیں ؟اگر وہ ٹھنڈے دل سے سوچتے تو انہیں جواب مل جاتا اور فیس بک اور بے جا تنقید سے گریز کرتے لیکن انہوں نے بغیر کسی فکر اور سو چ کے ان پر تنقید شروع کر دی ۔اب تحریک انصاف کے لاہور اور کراچی کے لوگ آ کر خیبرپختونخوا میں ٹاسک فورس میں شامل ہو کر حکومتی معاملات میں شامل ہو جاتے ہیں ۔

 تحریک انصاف کے لوگ اس پر آواز نہیں اٹھاتے اس لئے کہ یہ پارٹی کا معاملہ ہے لیکن جس سرزمین سے اگر ایک شخص کے بچوں کا تعلق ہے تو اس کا اتنا بھی حق نہیں ہے کہ وہ اپنے بچوں کے اس تعلق کے بارے میں فکر مند نہ رہے اور کچھ نہ پوچھے ۔اسی لئے شیریں مزاری سمیت تحریک انصاف کے تمام دوستوں کو مشورہ ہے کہ وہ کسی بھی شخص کے بارے میں اپنی چھریاں تیز کرنے سے پہلے اس کے بارے میں تھوڑا بہت پڑھ لیا کریں اور آج کل تو گوگل پر ہر شخص کے بارے میں تھوڑا بہت مواد مل جاتا ہے اس لئے اگر وہ یہ زحمت گوارا کرتے تو ان کی توپوں کا رخ پرویز رشید کی طرف نہ ہوتا ۔حالانکہ تحریک انصاف پنجاب کے وہ رہنماءجو ماضی میں دوسری پارٹیوں میں تھے اور کالا باغ ڈیم کے حمایتی تھے اس وقت بھی پختونوں کے لئے اپنی پارٹی کے اندر بھی آواز اٹھانے والوں میں پر ویز رشید سرفہرست تھے اور تحریک انصاف کی شیریں مزاری اور دیگر افراد جاوید ہاشمی سے پوچھ سکتے ہیں کہ پختونخوا کے حوالے سے پرویز رشید کی حساسیت کیوں ہے تو انہیں اس کا جواب مل جائے گا کیونکہ جب بھی پختونخوا کے حوالے سے کوئی بھی بات سامنے آتی ہے تو پرویز رشید اس حوالے سے پختونوں کے وکیل بن جاتے ہیں اور آج بھی اگر وہ پختونوں کے وکیل بن جاتے ہیں تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے ۔

مزید : کالم