طبقاتی نہیں یکساں نظام تعلیم ہونا چاہیے

طبقاتی نہیں یکساں نظام تعلیم ہونا چاہیے
طبقاتی نہیں یکساں نظام تعلیم ہونا چاہیے

  



تعلیم انسان میں شعور پیدا کرتی ہے۔ تعلیم کی بدولت ہی انسان اچھے برے کی تمیز کر سکتا ہے ،یعنی تعلیم ہی مسائل کا حل ہے ،لیکن ہمارا تعلیمی نظام ہمارے مسائل حل کرنے کی بجائے مسائل بڑھا دیتا ہے۔ ہر دور میں حکومت کی جانب سے شعبہ تعلیم میں بہتری کے دعوے اور نئی نئی تعلیمی پالیسیاں دینے کے باوجود ملک میں ہم یکساں نظام تعلیم رائج کر سکے ہیں نہ اس شعبے میں پائی جانے والی خرابیاں دور ہو سکی ہیں۔

 غربت علم کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام غریب عوام کے طلبا میں احساس کمتری پیدا کرتا ہے۔ اردو میڈیم کے طالب علم جب تعلیم سے فارغ ہوتے ہیں تو ان کو کوئی اچھی نوکری نہیں ملتی۔ یہ لوگ ایم اے یا بی اے کی ڈگری لے کر بھی اچھی طرح انگلش نہیں بول سکتے اور ان میں اعتماد کی کمی ہوتی ہے۔ ہمارے چاروں صوبوں کی حکومتیں ہر برس تعلیم کے لئے اربوں روپے کا بجٹ مختص کرتی ہیں ،لیکن اس کے باوجود بھی ہم یکساں تعلیم نہیں دے پا رہے۔

انہی غریب اور نادار بچوں کو بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کے لئے چند خدا ترس، محب وطن اور غریبوں کے ہمدرد صاحب حیثیت افراد نے دی ٹرسٹ سکول کے نام سے ایک سکول سسٹم کی بنیاد رکھی۔ یہ سکول سسٹم دی ٹرسٹ فار ایجوکیشن اینڈ ڈویلپمنٹ آف ڈیزرونگ سٹوڈنٹس (TEDDS) کے نام پر قائم ایک غیر تجارتی ویلفیئر ٹرسٹ کے تحت قائم کیا گیا۔ اس ٹرسٹ کا مقصدغریب ، ناداراور مستحق ہونہار بچوں کو اچھی تعلیم دینا ، ان میں تعلیم کی لگن پیدا کرنا اور ان کو پڑھا لکھا کر معاشرے کے لئے مفید اور کارآمد بنانا ہے۔

TEDDS نے لاہور میں تین ماڈل ہائی سکول ٹھوکر نیاز بیگ، عامر ٹاو¿ن ہربنس پورہ اور باگڑیاں گرین ٹاو¿ن میں اور پانچ پرائمری سکو ل ٹھوکر نیازبیگ، عامر ٹاو¿ن ہربنس پورہ ، سبزہ زار سکیم اور علامہ اقبال ٹاو¿ن میںکھولے ہیں ۔ اس کے علاوہ ایک نیا گرلز سکینڈری ، ہائر سیکنڈری سکول بھی عامر ٹاو¿ن میں شروع کیا ہے۔جہاں غریب اور مستحق بچوں کو اچھی اور سستی تعلیم دی جا رہی ہے۔

TEDDS کے تحت چلنے والے دی ٹرسٹ سکولوں کا مقصد بالکل صاف ہے کہ معاشرے کے نادار، غریب اور مستحق بچوں کو بھی تعلیم کی وہی سہولیات دی جائیں جو یہاں کی ایلیٹ کلاس کے بچوں کو حاصل ہیں۔ ان سکولوں کا مقصد اچھے سکولوں کی استطاعت نہ رکھنے والے ہونہار اور ذہین طلبا کو اچھی تعلیم فراہم کر کے معاشرے اور پاکستان کے لئے کارآمد بنانا ہے۔

TEDDS کے عہدیداران خود بھی معاشرے میں ایک تعلیمی اور معززانہ مقام رکھتے ہیں، جن میں ٹرسٹ کے صدر محمد فاروق نسیم جو کہ ایک بزنس مین ہیں، ڈاکٹر طاہر احمد شاہ (سرجن) ، طاہر یوسف (ایڈووکیٹ)، قمر السلام (چارٹرڈ اکاو¿نٹنٹ)، چودھری محمد عارف (ریٹائرڈ جج)شامل ہیں۔

گذشتہ دنوں دی ٹرسٹ سکول لاہور میں Annual Friends Get Togather کی تقریب ہوئی، جس میں سکول، TEDDS اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر بچوں نے پانی کی کمی پر ایک تمثیل بھی پیش کی، جس میں پانی ضائع نہ کرنے کا پیغام تھا۔ ہمارے ہاں ڈیم اور پانی کے ذخائر نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال 60,70 ارب ڈالر کا پانی سمندرمیں ضائع ہو جاتا ہے۔ اس ضیاع کو روکنے کے لئے اقدامات کی ضرورت ہے۔

تقریب میںفاروق نسیم نے کہا کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی تعلیم کے بغیر ناممکن ہے۔ ہمیں ایسا نظام تعلیم چاہیے جو امیر اور غریب دونوں کو یکساں تعلیم فراہم کرے۔ طاہر یوسف (ایڈووکیٹ) نے کہا کہ پاکستان لٹریسی ریٹ میں180 ویں نمبر پر ہے ۔ مسئلہ نچلے طبقے میں تعلیم عام کرنے کا ہے۔ تعلیم کو عام کرنے کے لئے صاحب ثروت لوگوں کو اپنی ذمہ داریاں نبھانی چاہئیں۔ غریب بچوں کو تعلیم دے کر ان کو ہنر مند بنائیں، جس سے معاشی ترقی ہو گی۔ سعید چودھری نے کہا کہ تعلیم کے سلسلے میں جو بھی خدمت کر سکا، اس کے لئے میں تیار ہوں۔ انہوں نے پیشکش کی کہ وہ 10 غریب ہونہار بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کے لئے ان کے تمام تعلیمی اخراجات برداشت کریں گے۔

 ہارون خواجہ کا کہنا تھا کہ تعلیم کو عام کیا جائے، تاکہ ملک و قوم ترقی کی راہ پر گامزن ہوں ۔ اس سلسلے میں طبقاتی تعلیم کی بجائے یکساں نظام تعلیم بہتر نتائج کا حامل ہے۔ حکومت کے پاس 60 ہزار سکول ہیں مگر ان میں سہولیات کی کمی ہے۔ کچھ تو گھوسٹ سکول ہیں۔ اس کے برعکس پرائیویٹ سیکٹر میں 30 ہزار سکول ہیں، جہاں معیاری تعلیم دی جاتی ہے، مگر مسئلہ پھر وہی ہے کہ معیاری پرائیویٹ سکولوں میں غریب اور نچلے طبقے کے بچے نہیں پڑھ سکتے۔ البرقہ بنک کے صدر نے کہا کہ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے ۔ ہمیں افرادی قوت پر توجہ دینی چاہیے۔ فنی تعلیم عام کر کے ہم اپنی افرادی قوت بڑھا سکتے ہیں۔ ہمارے پاس بے شمار وسائل ہیں، صرف ان سے فائدہ اٹھانا ہے۔

دی ٹرسٹ سکول کا مشن ہی یہی ہے کہ غیر مراعات یافتہ ، غریب، نادار ،مگر ذہین اور ہونہار بچوں کو بہترین تعلیم و تربیت فراہم کی جائے ۔یہاں پر روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ فنی اور مذہبی تعلیم بھی دی جاتی ہے ۔ یوں نوجوانوں کی شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے ،تاکہ وہ آگے چل کر معاشرے کی ذمہ داریاں سنبھال سکیں۔ دی ٹرسٹ سکول میں 20 فیصد غریب طلباءمفت تعلیم حاصل کرتے ہیں ،جبکہ 80 فیصد سے ان کی حیثیت کے مطابق فیس لی جاتی ہے۔ قابل اساتذہ ان کو بہترین تعلیم و تربیت دیتے ہیں ، جس سے بچے اچھے نمبروں میں پاس ہوتے ہیں۔ ٹاپ کرنے والے بچوں کو Lums میں داخلہ دیا جاتا ہے۔ یوں دی ٹرسٹ سکول ہمارے تعلیمی میدان میں امید کی کرن کا کام کر رہا ہے۔

مزید : کالم