انٹی ٹیررسٹ فورس: چند گزارشات

انٹی ٹیررسٹ فورس: چند گزارشات
انٹی ٹیررسٹ فورس: چند گزارشات

  



 تجربہ کرنا اور ادارے پر ادارے بنانا کوئی ہم سے سیکھے۔ اس پر یکٹس کا ماضی میں فائدہ ہوا ہے اور نہ ہی شاید مستقبل میں ہو، مگر ہمیں اس کار بیکار سے روک کوئی نہیں سکتا۔ اب ایک نیا تجربہ ہم پنجاب میںکرنے جا رہے ہیں، جہاں انٹی ٹیررسٹ فورس بنائی جا رہی ہے۔ اس تجربے نے پہلے ہی اس وقت ایک تنازعہ کی شکل اختیار کر لی، جب اس فورس کا کنٹرول حاصل کرنے کے لئے ڈی ایم جی گروپ اور پولیس گروپ میں ”جنگ“ چھڑ گئی، پولیس افسران نے تو باقاعدہ اس متنازعہ فیصلے کے خلاف ہڑتال کی دھمکی دیدی کہ جس میں اس فورس کا کنٹرول صوبائی وزرائے داخلہ کو دیا جانا تھا۔ بعد ازاں وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے مداخلت کی اور یہ اعلان کیا کہ انٹی ٹیررسٹ فورس کا کنٹرول پولیس کے آئی جی ہی سنبھالیں گے۔ خیر یہ مسئلہ تو بظاہر حل ہو گیا، لیکن آگے چل کر یہ فورس عام پولیس کے لئے کیا مسائل پیدا کرے گی اس کی طرف شاید ابھی کسی کا دھیان ہی نہیں گیا۔ آج کل اس فورس کے لئے بھرتیوں کا سلسلہ جاری ہے پڑھے لکھے اور پروفیشنل ڈگریوں کے حامل نوجوان بھی اس میں شمولیت کے لئے کوشاں ہیں اس کی وجہ اس کا پیکیج ہے، جو 75 ہزار روپے ماہانہ تک ہے۔ یہ وہ تنخواہ ہے، جو 19 ویں گریڈ کے افسر کو ملتی ہے اور وہ بھی اس وقت جب وہ اس گریڈ میں کئی سال گزار چکا ہوتا ہے۔

بہت سے پولیس ملازمین نے میری توجہ اس جانب مبذول کرائی ہے کہ ایک ہی نوعیت کا کام کرنے والوں میں تنخواہ کا اس قدر تفاوت کیا ایک ڈسپلنڈ فورس کے لئے مناسب ہے۔ ایک عام کانسٹیبل کو بمشکل 20ہزار روپے ملتے ہیں۔ وہ جرائم پیشہ افراد سے بھی لڑتا ہے اور پولیس مقابلوں میں سب سے زیادہ شہید بھی کانسٹیبل رینک کے ملازمین ہی ہوتے ہیں۔ اب اگر ایک طرف صف اول میں کھڑے کانسٹیبل کی تنخواہ اس قدر قلیل ہے اور دوسری طرف انٹی ٹیررسٹ فورس کے ملازمین اس سے چار گنا زیادہ تنخواہ لے رہے ہوں گے تو اس کے اندر فرائض کی لگن کس قدر برقرار رہے گی۔ وہ تو خود کو ایک محروم اور نظر انداز ملازم سمجھے گا آج وہ زنگ آلود بندوقوں کے ساتھ بھی جرائم پیشہ افراد اور ڈاکوﺅں کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے، پھر اسے اس پر کیسے آمادہ کیا جائے گا۔ نجانے ارباب اقتدار کو کس شخص نے یہ راہ دکھائی ہے کہ پیسے زیادہ دینے سے جذبے بھی زیادہ ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ زیادہ خوشحالی اور مراعات تو انسان کو بزدل اور زندگی سے پیار کرنے والا بنا دیتی ہیں اینٹی ٹیررسٹ فورس کو زیادہ مراعات دے کر اگر یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ زیادہ جذبے سے دہشت گردوں سے لڑے گی یا اس کے ذریعے دہشت گردی پر قابو پانے میں مدد ملے گی تو یہ خام خیالی ہے۔ اس کے مثبت سے زیادہ منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ چند سو افراد کی فورس کو ایک شاہانہ پیکیج دے کر لاکھوں افراد پر مشتمل فورس کا مورال ڈاﺅن کر کے ہم کس طرح دہشت گردی پر قابو پا سکیں گے۔ ایک پولیس کانسٹیبل جو ساری زندگی معاشی مسائل کا شکار رہنے کے باوجود دہشت گردوں اور سماج دشمنوں سے لڑتا رہتا ہے، اگر بد دل ہو گیا تو یہ چند سو نفوس کی اینٹی ٹیررسٹ فورس کیا کارنامہ انجام دے سکے گی؟

کسی کو یاد ہو نہ ہو ہمیں یاد ہے کہ چند سال پہلے دہشت گردوں، سماج دشمنوں اور خطرناک ڈاکوﺅں سے نمٹنے کے لئے پنجاب میں ایلیٹ فورس بنائی گئی تھی۔ یہ ایلیٹ فورس آج بھی موجود ہے، مگر اس کے سارے دانت نکال دیئے گئے ہیں، جس زمانے میں ڈی جی آئی بی کی حیثیت سے ریٹائر ہونے والے پولیس افسر جاوید نور ایلیٹ فورس کے کمانڈنٹ پنجاب تھے تو انہوں نے مجھے ایک دن بیدیاں میں قائم ایلیٹ فورس کے ٹریننگ سنٹر کا دورہ کرایا، میں اس فورس کے شاندار نظم و ضبط اور اعلیٰ تربیت سے بہت متاثر ہوا۔ جاوید نور کا کہنا تھا کہ پنجاب کی ایلیٹ فورس دنیا کی کسی بھی منظم اور تربیت یافتہ فورس کے معیار کی حامل ہے۔ اس کا ماٹو NO FEARہے اور یہ واقعی نڈر فورس ہے۔ مگر ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ اس فورس کو اس کے اصل کام کی بجائے پروٹوکول فورس میں تبدیل کر دیا گیا ہے اب یہ وزیراعظم، وزیراعلیٰ ، گورنر، وزرائ، سینئر بیورو کریٹس، ججز، ہٹ لسٹ پر موجود شخصیات کے تحفظ تک محدود ہو گئی ہے۔ اس کا کام دہشت گردوں کا مقابلہ کرنا تھا، مگر اب اس سے یہ کام لیا ہی نہیں جاتا۔ آج مجھے جاوید نور کی یہ باتیں بہت یاد آ رہی ہیں۔ مَیں سوچ رہا ہوں کہ ہم ایک نئی اینٹی ٹیررسٹ فورس بنانے جا رہے ہیں، لیکن ہمارے پاس اربوں روپے کے خرچ سے تیار ہونے والی جو منظم فورس موجود ہے، اسے بھول گئے ہیں، کیا وجہ ہے کہ ایلیٹ فورس کو نئے تربیتی نظام سے گذار کر اور اسے جدید ہتھیاروں اور آلات سے لیس کر کے اینٹی ٹیررسٹ فورس کے طور پر استعمال نہیں کیا جاتا۔ یہی تصور کیوں کر لیا گیا ہے کہ پہلے جو موجود ہے وہ سب غلط اور خراب ہے کچھ کرنے کے لئے نیا محکمہ یا ادارہ بنانا ضروری ہے۔

اس میں کوئی مضائقہ نہیں کہ جان ہتھیلی پر رکھنے والوں کی تنخواہیں اور مراعات بڑھائی جائیں، مگر یہ بات خلاف فطرت ہے کہ آپ ایک ہی نوعیت کا کام کرنے والوں کو مختلف خانوں میں تقسیم کر دیں۔ اینٹی ٹیررسٹ فورس کے جوان اگر آئی جی کے ماتحت ہیں۔ تو لازماً تھانے کے ایس ایچ او کی ماتحتی میں بھی آئیں گے، کیونکہ کام تو اسی نے لینا ہے اب ایک ایس ایچ او جس کی اپنی تنخواہ 35ہزار روپے ہو گی،75ہزار روپے لینے والے ماتحت کو دیکھ کر احساس کمتری کا شکار نہیں ہو جائے گا۔ اپنے کانسٹیبلوں کے ساتھ جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی کرنے والا یہ ایس ایچ او کیا بطور انسان یہ نہیں سوچے گا کہ لڑ تو کانسٹیبل بھی رہا ہے۔ لیکن اسے کمتر درجے کی مراعات دی گئی ہیں، حالانکہ سامنے سے آنے والی گولی نے دونوں کو ایک ہی طرح نشانہ بنانا ہے۔ ٹاٹ میں مخمل کا پیوند لگانے سے اگر پنجاب میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہوتی ہے تو ہمیں اس پر قطعاً کوئی اعتراض نہیں، لیکن اگر یہ صرف ایک ایسی فورس کو معرض وجود میں لانے کا عمل ہے جو زیادہ بہتر طور پر وی وی آئی پی شخصیات کا تحفظ کر سکے، تو ہم کہیں گے کہ یہ ظلم نہ کریں، اس سے پولیس فورس کے اندر امتیازی سلوک کی سوچ پروان چڑھے گی اور احساس کمتری میں اضافہ ہو گا۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اربوں روپے کی لاگت سے بننے والی یہ فورس پولیس کے موجودہ نظام میں بہتری لانے کا کوئی فریضہ سر انجام نہیں دے سکے گی۔ پولیس اسی طرح تھانوں میں خوف کی علامت بنی رہے گی اور انصاف کو بیچنے کے لئے اپنا ظالمانہ کردار ادا کرے گی۔

پولیس افسران کی طرف سے آنے والی یہ تجویز ارباب اختیار کی توجہ چاہتی ہے کہ باہر سے کوئی فورس مسلط کرنے کی بجائے پولیس کے موجودہ سٹرکچر ہی سے ایسے افسر ان منتخب کر کے انٹی ٹیررسٹ فورس بنائی جائے، جن کا ریکارڈ اچھا ہو اور جنہیں اچھی کارکردگی پر اسناد اور انعامات مل چکے ہیں۔ ایسے ملازمین کو منتخب کر کے انہیں جدید تربیت دی جائے اور پھر انہیں صرف اس مقصدکے لئے استعمال کیا جائے، جس کے لئے علیحدہ فورس بنائی گئی ہے۔ خود فوج کے اندر بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ وہاں علیحدہ سے بھرتیاں نہیں کی جاتیں، بلکہ افسروں اور جوانوں کو ایک ہی طریقے سے منتخب کر کے بعد میں انہیں مختلف شعبوں اور یونٹوں میں بھیجا جاتا ہے۔ پولیس کا محکمہ پہلے ہی چوں چوں کا مربہ ہے۔ اس میں ایک طرف اینکرز ہیں اور دوسری طرف پولیس گروپ کے براہ راست ایس پی بننے والے افسران، کہیں ایس ایچ او پروموشن کے بعد بنتے ہیں اور کہیں براہ راست پبلک سروس کمیشن کے ذریعے آتے ہیں۔ ڈی ایس پی بھی ہیں اور براہ راست آنے والے اے ایس پی بھی، اب اگر اس سارے نظام میں ایک نیا گروپ اعلیٰ ترین مراعات کے ساتھ داخل کر دیا جاتا ہے تو حالات تنظیمی لحاظ سے مزید بگڑیں گے۔ اصلاح کی توقع کم ہی ہے، جو فیصلہ کر چکے ہیں، انہیں یہ بات سمجھ آتی ہے یا نہیں، یہ ان کا مسئلہ ہے ،ہم نے حضور کے سامنے نیک و بد کو رکھ دیا ہے۔  ٭

مزید : کالم


loading...