قائداعظم ؒ اور افواجِ ثلاثہ (2)

قائداعظم ؒ اور افواجِ ثلاثہ (2)
قائداعظم ؒ اور افواجِ ثلاثہ (2)

  



سینڈ ہرسٹ کمیٹی کی یہ شرائط(Terms) جب حکومت برطانیہ کو پہنچیں تو پہلے تو یہی فیصلہ نہ ہو سکا کہ اس کمیٹی کی کارروائی خفیہ رکھی جائے یا اس کو عام پبلک کے لئے کھول دیا جائے۔ چونکہ معاملے کا تعلق دفاع سے تھا اس لئے حکومت کا اصرار تھا کہ کارروائی خفیہ (In Camera) رکھی جائے۔ جب جناح صاحب کو معلوم ہوا تو انہوں نے اس کی سخت مخالفت کی اور فرمایا کہ یہ موضوع ہندوستان کی پبلک کے مستقبل سے متعلق ہے، اس لئے اس کو چھپانے کی ضرورت نہیں۔

آخر دو ہفتوں کی تاخیر کے بعد جناح صاحب کی دلیل تسلیم کر لی گئی۔ ایک تفصیلی سوالنامہ تیار کیا گیا، جس کے ذریعے ہندوستان کے بڑے بڑے تدریسی اداروں اور یونیورسٹیوں کے پروفیسر حضرات سے رائے طلب کی گئی۔ مزید برآں فوج کے سینئر افسروں سے بھی درخواست کی گئی کہ وہ کمیٹی کے روبرو پیش ہوں اور اپنی آراءریکارڈ کروائیں۔ دو ہفتوں کا عرصہ اس کام کے لئے مختص کیا گیا۔ (28اگست تا 12 ستمبر1925ئ)۔ جن لوگوں نے رائے دی ان میں پرنس آف ویلز رائل انڈین ملٹری کالج ڈیرہ دون کے کمانڈانٹ اور ہیڈ ماسٹر اور حکومت ہند کے ایجوکیشنل کمشنر بھی شامل تھے۔

ہندوستان کے جن سربر آوردہ عمائدین اور اداروں کو یہ سوالنامہ بھیجا گیا اور جو دور دراز کا سفر طے کر کے نہیں آ سکتے تھے ان کو دسمبر1925ءتک تحریراً، سوالنامے کا جواب دینے کو کہا گیا۔ اس کا م کی ہمہ گیر وسعت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جن حضرات کے جواب آئے ان میں ہندوستان کے تمام صوبوں کے گورنر، ہندوستانی دانشور، محکمہ تعلیم کے اعلیٰ ادارے، ہندوستانی ریاستیں اور سینڈ ہرسٹ کے کمانڈانٹ شامل تھے، اِن آراءاور تجاویز کے جو حصے ” پوشیدگی“ کی ذیل میں آتے تھے اور جن کو پبلک کرنا سیکیورٹی تقاضوں کی خلاف ورزی سمجھا گیا، ان کو صیغہ ¿ راز ہی میں رکھا گیا۔

بعض حضرات کی جانب سے یہ رائے بھی آئی کہ ”سرکار برطانیہ نے جان بوجھ کر ہندوستانیوں کو شعبہ¿ دفاع کی سوجھ بوجھ نہیں دی۔ سرکار کو خوف تھا کہ کہیں ہم لوگ جدید ہتھیاروں پر تربیت حاصل کر کے سرکار کے مقابل نہ آ جائیں۔ یہ حکومت ہندوستان کو ہمیشہ غلام دیکھنا چاہتی ہے۔“

بعض اخبارات نے بھی اسی قسم کے حملے حکومت پر کئے، جن کا جواب جناح صاحب نے ایک اخباری کانفرنس میں یہ کہہ کر دیا کہ ”سوال یہ نہیں ہے کہ بطانوی حکومت یا برطانوی قوم، ہندوستان کا دفاع کرنے کے راز کو اپنے سینے کے اندر رکھنا چاہتی ہے، سوال یہ ہے کہ ہمیں ایسی کیا تدابیر اختیار کرنی چاہئیں کہ ہم اپنے وطن کا دفاع خود اپنے ہاتھوں میں لے سکیں۔“

جناح صاحب کی فکر اور ان کی شخصیت کا پلڑا ہمیشہ انتہا پسندی کی طرف نہیں، بلکہ توازن اور اعتدال کی طرف جھکا رہا۔ وہ اصولوں پر سودے بازی کرنے کے قائل نہ تھے، لیکن اعتدال کا دامن بھی کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔

ابھی اس بحث کا آغاز ہی ہوا تھا کہ یہ بھی طے پایا کہ ایک سب کمیٹی(Sub Committee) تشکیل دے کر اسے انگلستان، فرانس، کینیڈا اور امریکہ بھیجا جائے تاکہ اس کے اراکین وہاں جا کر بحشم ِ خود یہ دیکھیں کہ وہاں کے نوجوانوں کو عسکری ٹریننگ دینے کا کیف و کم کیا ہے۔ ایک اور پہلو جو اس ذیلی کمیٹی کو بطور خاص برائے مطالعہ و مشاہدہ تفویض کیا گیا وہ ان سکولوں کا نصاب تھا کہ جن سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد امیدوار ان عسکری اداروں میں سلیکٹ ہو کے آتے تھے۔

اس ذیلی کمیٹی کا چیئرمین قائداعظم کو بنایا گیا اور اس کے اراکین میں موتی لال نہرو، سر فیروز ستھنا اور زورا ور سنگھ تھے۔ اس چار رکنی ذیلی کمیٹی کا سیکرٹری میجر لم بائی (Lumby) کو مقرر کیا گیا۔ حکومت برطانیہ کو یہ معلوم کر کے نہایت تعجب ہوا کہ موتی لال نہرو نے اس سب کمیٹی میں شامل ہونے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ قائداعظم ؒ کو اس کا چیئرمین کیوں بنایا گیا ہے۔ ان کا اصرار تھا کہ ان کو اس ذیلی کمیٹی کی چیئرمین شپ دی جانی چاہئے تھی۔ موتی لال نہرو کے سب کمیٹی سے مستعفی ہونے کے بعد اب صرف (بشمول چیئرمین) تین اراکین اس مطالعاتی دورے پر روانہ ہوئے۔

قارئین کی خدمت میں یہ عرض کرنا بھی شائد ضروری ہو کہ راقم السطور یہ باتیں کسی نیم مصدقہ یا کمزور ماخذ کی بنیاد پر تحریر نہیں کر رہا، بلکہ انڈین سینڈ ہرسٹ کمیٹی کی یہ تمام کارروائی باقاعدہ شائع ہو کر کتابی شکل میں آج بھی پاکستان اور بھارت کی بڑی بڑی لائبریریوں کے علاوہ انٹرنیٹ پر بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ ویسے تو اس کمیٹی کی کارروائی(Proceadings) کی تفصیلات10 جلدوں پر مشتمل ہیں لیکن ان کا خلاصہ اگر کسی محترم قاری نے دیکھنا ہو تو وہ 18صفحات پر مشتمل ہے اور ہیلی فیکس پیپرز (Helifax Papers) کے نام سے نیٹ پر دیکھا اور پڑھا جا سکتا ہے۔

اس سب کمیٹی کے چاروں اراکین (مع سیکرٹری) 10اپریل1926ءکو بمبئی سے روانہ ہوئے اور وہ ہفتوں کے بحری سفر کے بعد24اپریل1926ءکو انگلستان پہنچے۔ 24 سے30اپریل تک سب کمیٹی نے انگلستان کے مختلف عسکری اور نیم عسکری اداروں کا دورہ کیا اور پھر وہاں سے فرانس روانہ ہوئے۔ فرانس میں بھی چار روز (3مئی تا6مئی1926ئ) گزارنے کے بعد اراکین ِ ذیلی کمیٹی واپس انگلستان آ گئے اور وہاں مزید دو ہفتے گزارے۔ ان دو ہفتوں میں سب کمیٹی نے بعض دیگر عسکری اداروں کا تفصیلی وزٹ کیا اور پھر 28مئی 1926ءکو کینیڈا کے لئے رخت ِ سفر باندھا اور6دنوں کے بحری سفر کے بعد بحراوقیانوس کو عبور کر کے سرزمین کینیڈا پر قدم رکھا۔ تین دن کینیڈا میں قیام کیا اور9جون کو امریکہ روانہ ہوئے۔ وہاں سے براستہ انگلستان ایک بار پھر فرانس کا دورہ کیا اور گزشتہ مشاہداتی دورے کی روشنی میں فرانس کے عسکری اداروں کو ایک نئے زاویہ¿ نگاہ سے دیکھا۔

جب ”ایس ایس قیصر ہند“ بحری جہاز پر یہ سب کمیٹی واپس انڈیا آ رہی تھی تو راستے میں قائداعظم ؒ نے بطور چیئرمین اپنی رپورٹ، سب کمیٹی کے سیکرٹری، میجر لم بائی کواملا کروائی۔ اس بیرونی دورے کی تمام تفصیلات اور اس دوران انگلستان، فرانس، کینیڈا اور امریکہ کے عسکری تدریسی اداروں کے سربراہوں سے سوال و جواب، انڈیا آفس لائبریری لندن میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔.... 13اگست1926ءکو یہ ذیلی کمیٹی چاہ ماہ اور تین دن کے بعد واپس بمبئی پہنچی۔

اب ہم ذرا اپنے گریبان میں جھانکتے ہیں.... پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد گزشتہ 66 برسوں میں ہمارے کسی وزیر دفاع نے شائد ہی یہ رپورٹ دیکھی یا پڑھی ہو گی۔ وزارت دفاع کے سیکرٹریٹ کے علاوہ اس کی ایک نقل یقینا جی ایچ کیو اور نیول ہیڈ کوارٹر میں بھی ہو گی۔

اس کالم کے توسط سے مَیں اپنے پاکستانی دانشور حضرات کی توجہ بھی اس جانب مبذول کروانے کی درخواست کروں گا کہ جن کو قائد شناسی کے دعوے ہیں۔ ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ حضرت قائداعظم کو عسکری موضوعات سے کتنا لگاﺅ تھا اور ان کی معلومات کا دائرہ اس فیلڈ میں بھی کتنا وسیع اور کتنا ہمہ گیر تھا۔ چار ماہ سے زائد یورپ اور امریکہ جیسے جدید ممالک کے مختلف عسکری تربیتی مراکز اور عسکری تدیسی اداروں کے سربراہوں اور کمانڈانٹس سے ملاقاتیں کرنا اور ان کی بریفنگ کا شعور و ادراک کرنا، ایک علیحدہ موضوع ہے.... صد حیف کہ ہمارے ہاں اس پہلو پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ وزیر دفاع، وزیر مملکت برائے دفاع، سیکرٹری دفاع (سویلین) اور ایڈیشنل سیکرٹری دفاع (سویلین) کو بانی ¿ پاکستان کی شخصیت کے اس پہلو کی تقلید کرنی چاہئے۔ اور وزارت دفاع کے سیکرٹریٹ میں پوسٹ ہونے و الے تمام افسروں (سیکشن آفیسرز، ڈپٹی سیکرٹریز اور ایڈیشنل سیکرٹری) کو اپنے قائد کی شخصیت کی اس روش سے سبق اندوز ہونا چاہئے۔ ذرا اس بات پر بھی غور فرمایئے کہ اس کمیٹی کے یہ ممبران ہفتوں تک بحری سفر کی صعوبتیں جھیلتے رہے۔ اگر آج کل کے فضائی سفروں اور جدید اقامتی آسائشات کا موازنہ گزشتہ صدی کے ربع اول کے سفروں کے ساتھ کریں تو اپنی تن آسانی اور اپنے اسلاف کی سخت کوشی آئنہ ہو کر سامنے آ جاتی ہے، اس آئینے میں ہمیں اپنے چہروں کے خدوخال ضرور پہچاننے چاہئیں۔

اس سینڈ ہرسٹ کمیٹی کی ایک دوسری ذیلی کمیٹی بھی بنائی گئی تھی، جس کے سربراہ خود لیفٹیننٹ جنرل سر اینڈریو سکین(Andrew Skeen) تھے۔ اس ذیلی کمیٹی کے بھی دو اراکین (ڈاکٹر ضیاءالدین احمد اور میجر بالا صاحب ڈافلے) تھے، جنہوں نے اگست1926ءمیں ہندوستان کی تمام یونیورسٹیوں کا دورہ کیا اور معلوم کیا کہ ان میں زیر تعلیم طلباءمیں سے سینڈ ہرسٹ اکیڈیمی میں بھیجے جانے کے اہل کتنے امیدوار ہیں۔ (پنجاب یونیورسٹی اُن دنوں موسم گرما کی تعطیلات کے باعث بند تھی)

اس رپورٹ کا ایک اور گوشہ بھی قارئین کے لئے دلچسپی کا باعث ہو گا۔

اس زمانے میں لارڈ برکن ہیڈ (Birken head) برطانیہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ (وزیر خارجہ) تھے۔ وہ بطور خاص قائداعظم ؒ کے اس رویئے پر ناراض ہوئے جو قائداعظم نے اپنے دورہ¿ انگلستان و امریکہ میں مختلف عسکری اداروں کی وزٹ کے دوران روا رکھا۔ ان کا خیال تھا کہ جنرل سکین کو اس ذیلی کمیٹی کے ہمراہ آنا چاہئے تھا۔ ان کے الفاظ انہی کی زبان میں دیکھئے:

The Sub-committee has done much harm and I am sure it was a great error to let them loose without Skeen to control them.

برطانوی وزیر خارجہ کی اس بدتمیزی او ر دریدہ دہنی کی جتنی بھی مذمت کی جائے، کم ہو گی۔

قائداعظم ؒ کا یہ رویہ برطانوی وزیر خارجہ کو کیوں پسند نہ آیا اور اس نے لارڈ ارون (Irwin) جو اس وقت ہندوستان کے وائسرائے تھے، متذکرہ بالا الفاظ میں سرزنش کیوں کی، یہ ایک علیحدہ اور بڑی دلچسپ داستان سے جو بانی ¿ پاکستان کی انفرادیت اور ان کی شخصیت کی عظمت پر ایک اور دلیل ِ محکم ہے.... یہ داستان کسی اور وقت پر اُٹھا رکھتا ہوں۔(ختم شد)

مزید : کالم


loading...