یوم قائد اور یادماضی!

یوم قائد اور یادماضی!
یوم قائد اور یادماضی!

  



بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا یوم پیدائش آیا اور گزر بھی جائے گا، بلکہ ان سطور کی اشاعت تک گزربھی چکا، قوم نے روائتی طورپر خراج عقیدت بھی پیش کیا، مزار قائد پر حاضری بھی دی گئی، مسلح افواج نے سلیوٹ کیا، پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی تو گورنر سندھ اور وزیراعلیٰ بھی ساتھ ساتھ پہنچے، شہریوں نے بھاری تعداد میں جا کر سلام عقیدت پیش کیا۔

یہ سب درست، اس یوم کے حوالے سے یاد ماضی عذاب بن گیا، یادوں کے دریچے کھل گئے اور یہ سوچ آ رہی ہے کہ کیا آج یہ پاکستان اسی قائدکا پاکستان ہے جس نے ثابت قدمی میں مثال پیدا کی، جس نے اپنی ذہانت، ویژن اور جدوجہد سے بنئے اور گورے کی سازشوں کا مقابلہ کیا اور یہ ملک حاصل کرکے دکھایا،قائداعظم نے یہ سب جمہوری اور مہذب انداز سے لیا،جبکہ قوم (مسلمان+عیسائی) نے ان کی آواز پر لبیک کہا۔قائداعظم کا یہ کہنا بھی کہیں تحریر ہو گا، میں نے کیس لڑا اور جیت لیا۔

یاد آ رہا ہے کہ یہ آنسو گیس اور دفعہ 144کا نفاذ اور خلاف ورزی پر مقدمات اور ڈنڈے آج کا دستور نہیں۔یہ تو اس دور میں بھی ہوتا رہا جب مسلم لیگ نے انگریزوں کی زیادتیوں اور ہندوﺅں کی چالاکیوں اور کھلی دشمنی کے بعد سول نافرمانی کی تحریک شروع کی تھی۔لاہور میں سول نافرمانی کی تحریک کا مرکز باغ بیرون موچی دروازہ تھا۔یہاں جلسہ ہوتا، پھر جلوس نکلتا جو گوالمنڈی اور ہال روڈ سے ہوتا ہوا ریگل چوک آتا، یہاں سے جب اسمبلی ہال کی طرف رخ ہوتا تو پولیس آڑے آ جاتی۔جلوس والے ان پانچ افراد کو آگے کرکے اسمبلی ہال کی طرف بڑھتے، کبھی اس میں کامیابی ہوتی اور اسمبلی ہال کے باہر آج کے فیصل چوک میں گرفتاری دے دی جاتی اور کبھی پولیس گلے میں ہار پہنے ہوئے پانچوں افراد کو وہیں گرفتار کرلیتی اور باقی جلوس کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال شروع ہو جاتا، یہ تب بھی ہوتا جب گرفتاری فیصل چوک میں ہو جاتی، مال روڈ کے دونوں طرف گرین بیلٹ تھی اور اس میں فائر بائیڈرنٹ تھے یہ کھول لئے جاتے اور رومال وغیرہ بھگو کر آنکھوں کو صاف کیا جاتا تھا یہ ہر روز ہوتا اور پاکستان کا مطالبہ کرنے والوں کے جوش میں کمی نہ آتی، ہم بچے مطلب نہ سمجھتے ہوئے بھی ہر روز جلوس میں شریک ہو کر نعرہ بازی کرتے تھے۔پنجاب میں ان دنوں یونینسٹوں کی حکومت تھی، یہ سب جاگیر دار اور انگریز کے پروردہ تھے۔وزیراعلیٰ سردار خضر حیات تھے ۔خضر حیات کے خلاف نعرے لگائے جاتے جن میں نفرت کا اظہار ہوتا۔

یاد ہے ذرا ذرا کے مصداق ایک روز ایک جلوس موچی دروازہ سے سرکلر روڈ کے راستے دہلی دروازہ کی طرف جا رہا تھا، جب یہ گروپ حضرت شاہ محمد غوثؒ کے مزار کے سامنے پہنچا تو اچانک نعرے تبدیل ہو گئے۔ کسی نے زور سے کہا: ”تازہ خبر آئی اے، جواب ملا، خضر ساڈا بھائی اے ، ہم لڑکوں نے بھی نعرہ تبدیل کرلیا، اس وقت تو وجہ کا علم نہیں تھا لیکن جب ذرا اہل ہو گئے تو معلوم ہوا کہ خضر حیات نے وزارت اعلیٰ سے استعفیٰ دے دیا تھا اور مسلم لیگ کی حمایت کا اعلان کردیا تھا۔

یہ وہ مرحلہ تھا جب پاکستان کا قیام اور قائداعظم کی جدوجہد کا پھل سامنے نظر آ گیا تھا، اس وقت ان سیانے جاگیرداروں نے پانسہ پلٹ لیا اور بھاگ کر مسلم لیگ کی صفوں میں گھس آئے اور پھر قیام پاکستان کے بعد یہاں اقتدار کی جنگ شروع کرا دی، یہی حضرات تھے جو کبھی میاں ممتاز محمد خان دولتانہ کے گروپ میں چلے جاتے اور کبھی نواب افتخار حسین خان ممدوٹ کی حمایت کرنے لگتے، ان حضرات نے ان کی صلح تک نہیں ہونے دی ، حالانکہ یہ تحریک پاکستان کے اولین حضرات میں تھے اور قائداعظم کی آواز پر لبیک کہنے والے تھے۔

بات یہیں تک نہ رہی، بلکہ پاکستان کا مطلب کیا لااِلاّ اللہ کے نعرے کو ایسا رنگ دیا گیا کہ آج مذہبی شدت پسندی ہی پاکستان کا ماحصل قرار دی جا رہی ہے،اعتدال کا راستہ ہی کھوٹا ہوگیا ہے، صرف مذہبی آزادی کی بات ہونے لگی اور اقتصادیات اور معاشیات کو نظر انداز کردیا گیا۔ پاکستان میں ایک ایسا استحصالی طبقہ پیدا ہوگیا جس نے قیام پاکستان کے تمام مقاصد اور قائداعظم کے افکار کو بھی تبدیل کرکے رکھ دیا۔معذرت کے ساتھ قائداعظم کو متنازعہ بنانے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی اور ان کے اس نظریئے کو بھی جھٹلا دیا گیا کہ یہ ملک سب کا ہے اور سب کو مل جل کر رہنا اور چلانا ہے۔بڑے بڑے مفکر اور تاریخ دان قائداعظم کی تقریروں اور ان کی کہی باتوں میں موشگافیاں پیدا کرتے ہیں، لیکن یہ کوئی نہیں کہتا کہ جب یونینسٹ جاگیرداروں نے پاکستان حقیقت جان لیا تو وہ کس طرح مسلم لیگ میں گھس آئے اور اس خالص عوامی جماعت کو خواص کی لونڈی بنا کر رکھ دیا، حتیٰ کہ قائداعظم کے ساتھی لیاقت علی خان کو بھرے جلسے میں شہید کردیا گیا، آج تک ان کے قاتلوں کا پتہ نہیں، سردار عبدالرب نشتر کو برداشت نہ کیا گیا۔محلاتی سازشوں کا آغاز ہوا، کرسی کا کھیل شروع کردیا اور پھر وہ وقت بھی لے آئے جب اس ملک کو فوجی آمر کے حوالے کردیا گیا اور اس آمر کی جھولی میں جا بیٹھے اور قائداعظم کی محترم ہمشیرہ مادر ملت فاطمہ جناح کو بھی ہرا اور مروا دیا۔

معذرت کہ آج دل دکھا اور یہ کہہ دیا کہ اب بھی قوم کو صحےح راہ نہیں دکھائی جارہی۔قائداعظم کی تاریخی حیثیت اور جدوجہد کو مسخ کیا جا رہا ہے۔قائداعظم کو سیکولر ثابت کرنے والے ہیں تو قرار داد مقاصد کے بانی ان کو خطیب کا درجہ دینے سے بھی نہیں چوکتے، قائداعظم ایک عام انسان، پختہ عزم والے لیڈر تھے، وہ کوٹ پتلون پہنتے۔ان کا طرز زندگی مغربی لیکن عمل اور ذہن مسلمانی اور پاکستانی تھا، وہ ایک معتدل شخصیت تھے اور ملک میں بھی اعتدال ہی چاہتے تھے، نہ معلوم یہ دانشور حضرات ان کے مقام کو کہاں سے کہاں لے جاتے اور اعتراض کرنے والے ساری جدوجہد کی نفی کردیتے ہیں۔کیا کوئی ایسے محقق بھی ہوں گے جو قائداعظم کی زندگی اور افکار کی صحیح نشاندہی کرسکیں، قائداعظم زندہ باد۔  ٭

مزید : کالم