قائدِ اعظمؒ اور علامہ اقبالؒ (2)

قائدِ اعظمؒ اور علامہ اقبالؒ (2)
قائدِ اعظمؒ اور علامہ اقبالؒ (2)

  



مسلم قوم کو سب سے بڑا دھچکا اس امر سے لگا کہ خلافت کا خاتمہ اس شخص کے ہاتھوں ہوا جسے مضبوط کرنے کے لےے انہوں نے جدوجہد کی، گھر بار چھوڑا ، بارگاہ اےزدی مےں دعائےں مانگےں ۔ جس کی محبت مےں گےت لکھے اور جس کے لےے مشکل وقت مےں قوم کے پےرو جوان اور مردو زن نے آنسو بہائے۔ ےہ ترکی کے قوم پرست راہنما اور فوجی ہےرو مصطفے کما ل اتاترک تھے جنہوں نے بےک جنبش قلم خلافت کو ختم کر دےا۔ اس موقع پر علامہ اقبال نے کہا:

چاک کر دی ترک ناداں نے خلافت کی قبا

سادگی مسلم کی دےکھ اوروں کی عےاری بھی دےکھ

جناح نے اس بات سے تو اتفاق کیا کہ خلافت کو قائم رہنا اور ترکی کو مضبوط ہونا چاہئے۔ لیکن اس مقصد کے لئے انہوں نے گاندھی جی کے پروگرام سے اتفاق نہیں کیا ۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے پیشتر کہ ہمارے طلباءسرکاری تعلیمی اداروں کو چھوڑ دیں۔ ملک میں ایسے پرائیویٹ ادارے ہونے چاہیں جہاں وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ اسی طرح اگر مثال کے طور پر بدیسی کپڑے کا بائیکاٹ ہوتا ہے۔ تو ملک میںسب کے لئے دیسی کپڑا دستیاب ہونا چاہیے۔ اس مقصد کے لئے ضروری ہے کہ چرخہ کا تنے کی بجائے ملک میں ملیں لگائی جائیں ۔ اس طرح وہ عملی طور پر تحریک خلافت سے الگ رہے۔

24مئی1924 ءکو لاہور میں مسلم لیگ کے پندرھویں سالانہ اجلاس کے موقع پر جناح نے لوگوں کو بتایا کہ اگرچہ تحریک خلافت ناکام رہی اور اس سے کافی نقصان پہنچا لیکن بہت سے فائدے بھی حاصل ہوئے ہیں۔ تین سال کی جدوجہد کے نتیجے میں سوراج حاصل کرنے کے لئے عام تحریک پیدا ہوئی ہے۔ عام آدمی کا سیاسی شعور بیدار ہو گیاہے اور ہندوستان میں ذمہ دار ڈومینین حکومت کے فوری قیام کے واسطے اقدامات کے لئے بے خوفی سے مستقل تقاضا ہو رہا ہے۔

تحریک خلافت کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ انگریز حکمرانوں کے دبدبے اور طنطنے کا بت ٹوٹ گیا۔ عوام میںکھل کر حکومت کے خلاف کام کرنے اور آواز بلند کرنے کا حوصلہ پیدا ہوا۔ لیکن چورا چوری کے واقعہ کے بعد گاندھی جی کی طرف سے تحریک ختم کرنے پر مسلمانوں میںانتہائی بے اعتمادی کی فضا پیدا ہوئی ۔ وہ سمجھنے لگے کہ وہ گاندھی جی کے ہاتھوں شکست و ریخت کا شکار ہوئے ہیں۔ انہیں ہندو قوم کے عزائم نظر آنے لگے ۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ تحریک خلافت کے بعد مسلمانوں نے بحیثیت قوم کبھی بھی ہندوﺅں کی سیاست پر اعتماد نہیںکیا۔

1927ءکے لئے مدراس کے سری نواس آئنگر کانگرس کے صد ر منتخب ہوئے۔وہ مرکزی اسمبلی مےں سوراج پارٹی کے ڈپٹی لےڈر تھے۔ان کے جناح سے بہت خوشگوار تعلقات تھے۔ دونوں مرکزی اسمبلی مےں ہم آہنگی اور مفاہمت سے کام کرتے تھے۔آئنگر بڑی شدت سے محسوس کرتے تھے کہ ہندوﺅں اور مسلمانوں مےں تعلقات استوار کرنے کے لئے کوئی پائےدار سےاسی حل تلاش کرنا چاہئے۔انہوں نے کچھ تجاوےز اس نقطہ نظر سے مرتب کےں کہ ملک مےں جداگانہ انتخابات کی بجائے مخلوط انتخابات کا طرےقہ رائج کیا جائے۔ےہ تجاوےز انہوں نے باضابطہ طور پر جناح کو بھےجےں کہ اس پر مسلمانوں کی رائے لی جائے۔

چنانچہ 20مارچ 1927ءکو محمد علی جناح کی دعوت پر مختلف فکر کے30 مسلمان رہنماﺅں کا دہلی مےں اجتماع ہوا تاکہ ہندوﺅں اور مسلمانوں کے درمےان مستقل مفاہمت کی کوئی راہ نکالی جائے۔ جناح کا ذاتی خےال ےہ تھا کہ مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ جداگانہ طرز انتخابات کے بغےر بھی ہو سکتا ہے ۔اس اجتماع مےں مولانا محمد علی جوہر‘سر علی امام‘راجہ صاحب محمود آباد‘ نواب اسماعےل خاں‘مفتی کفاےت اﷲ‘ڈاکٹر اےم۔اے انصاری‘سر محمد شفےع وغےرہ شرےک تھے۔ سرفضل حسےن کو بھی دعوت دی گئی تھی لےکن انہوں نے اپنے سرکاری عہدے کی وجہ سے معذرت کر لی ۔ کافی غوروفکر کے بعد ےہ قرار پاےا کہ اگر

(1)سندھ کو بمبئی سے علےحدہ کر کے اےک نےا صوبہ بنا دےا جائے

(2)سرحداور بلوچستان مےںہندوستان کے دوسرے صوبوں کی طرح اصلاحات نافذ کی جائےں اور انہےں دوسرے صوبوں کے برابر درجہ دےا جائے

(3)پنجاب اور بنگال کی مجالس قانون ساز مےں مسلمانوں کی نمائندگی ان کی آبادی کے تناسب سے مقرر کی جائے

(4)جن صوبوں مےں مسلمان اقلےت مےں ہےں‘ وہاں ان کا اضافی تناسب برقرار رکھا جائے اور

(5)مرکزی اسمبلی مےں مسلمانوں کی نمائندگی33 فےصد سے کم نہ ہو‘

 تو مسلمان ہندوستان کے مرکز اور تمام صوبوں مےں مخلوط انتخابات منظور کر لےں گے۔

ےہ تجاوےز بعد مےں ”تجاوےز دہلی“کے نام سے مشہور ہوئےں۔

جب 15 مئی1927 ءکو بمبئی مےں سری نواس آئنگر کی صدارت مےں آل انڈےا کانگرےس کمےٹی کا اجلاس ہوا تو ان کی تحرےک پر ےہ تجاوےز منظور کر لی گئےں۔سارے ہندوستان مےں جناح کی سےاسی بصےرت کی دھوم مچ گئی۔معلوم ہوتا تھا کہ ہندو اور مسلمان ان تجاوےز کی روشنی مےں متحد ہو کر آگے بڑھےں گے اور بہت جلد ہندوستان مےں اےک ذمہ دار حکومت قائم ہو جائے گی۔ سر محمد شفےع نے جو20 مارچ1927ءکی کانفرنس مےں شرےک تھے‘پنجاب مسلم لےگ کی طرف سے ان تجاوےز کو قبول کرنے سے انکار کر دےا اور ےہ اعلان کیا کہ وہ جداگانہ انتخاب کے اصول سے کسی صورت مےں بھی دست بردار نہےں ہوں گے۔

علامہ اقبال جداگانہ انتخاب کے اصول کو ہندوستان میں مسلمانوں کے قومی تشخص کے لیے لازمی سمجھتے تھے اور کسی صورت میں بھی اس سے دست بردار ہونے کے لئے تیار نہ تھے۔جیسا کہ ڈاکٹرجاوید اقبال اور محمد احمد خاں نے کہا ہے ، یہی نقطہ ان کے تمام سیاسی فکر کا محور تھا۔ اس کے لیے وہ کانگریس سے لڑتے، محمد علی جناح سے جھگڑتے اورمحمد علی جوہر سے الجھتے رہے مگر اس اصول پر مستقل مزاجی سے قائم رہے۔پنجاب کے مسلم رہنما (علامہ اقبال، میاں فضلِ حسین، وغیرہ)جداگانہ طرزِ انتخاب کو مسلمانوں کے سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے لازمی سمجھتے تھے۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ محدود رائے دہندگی کی سکیم میں جو اُس وقت رائج تھی پنجاب میں مسلمان ووٹروں کی تعداد صرف 40فی صد ہے۔اس لیے مخلوط انتخاب کی صورت میں ساری سیٹیں ہندوو¿ں کے قبضے میں چلی جائیں گی۔اس بات کی بہت کم امید تھی کہ حکومت برطانیہ محدود رائے دہندگی کی جگہ بالغ رائے دہندگی کا اصول منظور کرلے۔لیکن اگر یہ ہو بھی جائے تو اس بات کا سخت اندیشہ تھا کہ ہندوو¿ں کی اقتصادی برتری انتخابات پر اثر انداز ہو۔ چونکہ آبادی میں مسلمانوں کو غیر مسلموں پر بہت کم فوقیت ہے، اس لیے ہندو ایسے مسلم امیدواروں کو انتخابات میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے جو خالصتاًمسلم مفادات کا تحفظ کرسکیں۔ چنانچہ مخلوط انتخاب کی صورت میں پنجاب اور بنگال کے مسلم اکثریتی صوبوں میں بھی ہندوو¿ں کی حکومتیں آجائیں گی۔ ان دلائل میں بہت وزن تھا۔ مزید برآں، مسلم اقلیتی صوبوں میں ہندو اکثریت اتنی زیادہ تھی کہ اکثریتی فرقے کے نمائندوں کے انتخاب میں مسلم ووٹروں کی آواز مو¿ثر نہ ہوسکتی تھی۔

مخلوط انتخاب کے حامےوں کا خےال تھا کہ چونکہ ہر امےدوار کو اپنی حماےت کے لئے مخلوط حلقے کے ووٹروں کو اپےل کرنا ہو گی‘اس فرقہ وارانہ انداز خطاب کو مجبوراًختم کرنا ہو گا ےا اےسی باتےں کم ازکم دھےمے سروں ہی مےں کرنا پڑےں گی۔الےکشن صرف قومی اےشوز پر لڑنا ہو گااور زےاد ہ تر اقتصادی ترقی اور اصلاحات پر بات کرنا ہو گی۔ اس سے رہنما ‘فرقہ وارانہ سوچ رکھنے کی بجائے ‘مسائل کو قومی نقطہ نظر سے حل کرنے کی کوشش کرےں گے۔لےکن وہ اس بات کو فراموش کر گئے کہ ہندوﺅں کی ذہنےت کے پےش نظر ‘کسی مسلمان امےدوار کو ان کے ووٹ ملنے کا بہت کم امکان تھا ‘نہ ہونے کے برابر۔اگر مخلوط انتخاب مسلمانوں کے لئے سےٹوں کے تحفظ کے ساتھ مشروط ہوں تو اس صورت مےں بھی انہی مسلمانوں کے جےتنے کے مواقع ہوں گے جومسلمانوں کے مفادات کی بجائے ہندوﺅں کے مفادات کا خےال رکھےں گے۔جناح ذاتی طور پر مخلوط انتخاب کے اس لئے حامی تھے کہ ان کا اس وقت تک یہ خےال تھا کہ ہندو قوم بحےثےت مجموعی اتنی فرقہ پرست نہےں کہ اس پر اس معاملے مےں بھروسہ نہ کیا جاسکے۔

پنجاب کے مسلم رہنمابجا طور پر یہ سمجھتے تھے کہ اگر مخلوط طرزِ انتخاب کو مسلمانوں اور کانگریس کے متفقہ مطالبے کے طور پر پیش کیا گیا تو حکومت برطانیہ اسے تسلیم کرلے گی جس سے مسلم اکثریتی صوبوں پنجاب اور بنگال کی حکومتیں بھی ہندوو¿ں کے ہاتھوں میں چلی جائیں گی۔چنانچہ انہوں نے یہ ثابت کرنے کے لیے پورا زور لگادیا کہ مسلمان مخلوط طرزِحکومت کے سخت خلاف ہیں اور حقیقت بھی یہی تھی۔ مارچ1927ءمیں خود محمد علی جناح نے تسلیم کیا کہ اگرچہ وہ ذاتی طور پر مخلوط انتخاب کے حق میں ہیں لیکن مسلمانوں کی بھاری اکثریت دیانتداری کے ساتھ جداگانہ انتخاب چاہتی ہے۔ اصل مقصدبہر حال یہ ہے کہ اقلیتوں کو یہ احساس ہو جائے کہ وہ محفوظ ہیں۔  (جاری ہے)

یکم مئی 1927ءکو برکت علی محمڈن ہال لاہور میں سر محمد شفیع کی صدارت میں پنجاب مسلم لیگ کے زیرِ اہتمام مسلمانوں کا ایک جلسہ عام ہوا جس میں جداگانہ انتخاب برقرار رکھنے کے لیے علامہ اقبال کی پیش کردہ مندرجہ ذیل قرارداد منظور ہوئی:

”پنجاب صوبائی مسلم لیگ اپنے اس عقیدے کا اعادہ کرتی ہے کہ ملک کی موجودہ سیاسی حالت میں صرف جداگانہ حلقہ ہائے انتخاب ہی کے ذریعہ سے مرکزی مجلسِ قانون ساز اور صوبائی کونسلیں باشندگانِ ہند کی حقیقی نمائندہ مجالس بن سکتی ہیں۔حلقہ ہائے انتخاب کی علیحدگی ہی سے باشندوں کے جائز حقوق و فوائد محفوظ رہ سکتے ہیں اور اسی صورت میں فرقہ و ارانہ کشمکش دور ہوسکتی ہے۔ ۔۔۔ اس لیے لیگ کی یہ قطعی رائے ہے کہ جب تک اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کا مو¿ثر انتظام نہ ہو، اس وقت تک مسلمان جداگانہ انتخاب کو دستور ہند کے ایک اساسی جزو کی حیثیت سے قائم رکھنے پر مصر ہیں“۔

ہندوستان میں مخلوط انتخاب رائج کروانے کی کانگریسی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے، 29دسمبر1928ءسے یکم جنوری1929ءتک دہلی میںآل پارٹیز مسلم کانفرنس کے بھرپور اجلاس ہوئے۔ آغا خاں نے صدارت کی۔ خطبہ صدارت کے بعد سر محمد شفیع نے ایک قرارداد پیش کی جس میں تجاویزِ دہلی والے تمام مطالبات کے علاوہ اس بات پر زور دیا گیا کہ مسلمان کسی شرط پر اور کسی صورت میں بھی جداگانہ انتخاب سے دست بردار نہیں ہوں گے۔مزید برآں ہندوستان کا آئین وفاقی ہوجس میں فاضل اختیارات صوبوں کو دیے جائیں اور مرکزی یا کسی صوبائی اسمبلی میں اگر کسی فرقے کے 75فیصد ارکان کسی بل کی مخالفت کریں تو وہ بل قانون نہ بن سکے۔ سر محمد شفیع نے یہ قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا:”اس کانفرنس میں ہر خیال اور ہر نقطہ نظر کے لوگ شریک ہیں۔ خلافت کمیٹی کی روح علی برادران ہیں۔ جمعیت العلمائے ہند کے صدر مفتی کفایت اللہ ہیں۔ تحریکِ ترکِ موالات کے مولانا شفیع داو¿دی ہیں۔ہندوستان کی مرکزی اسمبلی اور صوبائی کونسلوں کے ایک سو سے زیادہ ارکان موجود ہیں۔ پھر ان سب سے بالا، وہ یکتائے زمانہ شخصیت ہے جو اس وقت کرسی صدارت پر رونق افروز ہے اور جو دنیائے اسلام میں بے نظیر ہے۔ یہ نظّارہ دیکھنے کے بعد بھی اگر کوئی شخص اس کانفرنس کو مسلمانانِ ہند کی نمائندہ آواز قرار دینے سے انکار کرتا ہے تو یقینا وہ دروغ گو ہے۔ جو فیصلے ہم آج کررہے ہیںان کے ساتھ پوری مسلم قوم کی ہم نوائی کا وزن شامل ہے۔ ۔۔۔ اگر برطانوی حکومت نے ہمارے ان مطالبات کومنظور کرنے سے انکار کردیا اور ہماری مرضی کے خلاف ہندوستان پر کوئی آئین مسلط کرنے کی کوشش کی تو ہم اسے قبول نہیں کریں گے“۔

علامہ اقبال نے قرارداد کی حمایت میں تقریر کرتے ہوئے کہا:”اگر مسلمانوں کو ہندوستان میں بحیثیت مسلمان زندہ رہنا ہے تو ان کو جلد از جلد اپنی اصلاح و ترقی کے لیے سعی و کوشش کرنی چاہئے اور ایک علیحدہ سیاسی پروگرام بنانا چاہیے۔ہندوستان کے بعض حصے ایسے ہیں جن میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور بعض حصے ایسے ہیں جن میں وہ قلیل تعداد میں ہیں۔ان حالات میں ہمیں علیحدہ طور پر ایک سیاسی پروگرام بنانے کی ضرورت ہے۔ آج ہر قوم اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے سعی و کوشش کر رہی ہے۔پھر کیا وجہ ہے کہ مسلمان اپنے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے سعی و کوشش نہ کریں۔آج اس کانفرنس میں جو ریزولیوشن پیش ہوا ہے وہ نہایت صحیح ہے اور اس کی صحت کے لیے میرے پاس ایک مذہبی دلیل ہے اور وہ یہ کہ ہمارے آقائے نامدار حضور سرور دو عالمﷺنے ارشاد فرمایا ہے کہ میری امت کا اجماع کبھی گمراہی پر نہ ہوگا“۔

سر محمد شفیع کی قرارداد جس کی تائید علامہ اقبال نے کی متفقہ طور پر منظور ہوئی۔

اس کانفرنس نے کانگریس کی سیاست کو کامیاب نہ ہونے دیا۔

نومبر1927ءمیں حکومتِ برطانیہ نے سر جان سائمن کی سربراہی میں ایک سات رکنی کمیشن کے تقرر کا اعلان کیاجس کا کام ہندوستان کا دورہ کرکے آئندہ دستوری اصلاحات کے بارے میں سفارشات پیش کرنا تھا۔چونکہ کمیشن کے سب ارکان انگریز تھے، محمد علی جناح سمیت بر صغیر کے سیاسی رہنماو¿ں کی بہت بڑی اکثریت اس کا بائیکاٹ کرنے کے حق میں تھی۔مگر علامہ اقبال (اور مولانا حسرت موہانی وغیرہ)کی رائے مختلف تھی۔ انہوں نے 9نومبر1927ءکو اپنے بیان میں کہا کہ کمیشن میں کسی ہندوستانی کا نہ لیا جانا بلا شبہ ہندوستان کے وقار پر ایک حملہ ہے۔ ۔۔۔ لیکن اس کی وجہ وہ بے اعتمادی اور بدظنی ہے جو ہندوستان کی مختلف اقوام کو ایک دوسرے کے متعلق ہے۔ (علاوہ ازیں) اگر کمیشن میں ہندوستانی ممبروں کو لیا جاتا تو مسلمانوں کے سرکردہ آدمیوں میں سے غالباً مسٹر جناح یا سر علی امام پر نظر پڑتی۔ یہ دونوں مخلوط انتخاب کے حامی ہیں اور یہ امر پنجابی نقطہ نظر سے موجب اطمینان نہ تھا۔

مسلم لیگ ورکنگ کمیٹی نے سائمن کمیشن اور جداگانہ انتخابات کے بارے میں اپنی پالیسی طے کرنے کے لیے مسلم لیگ کونسل کا لاہور میں طے شدہ اجلاس ، ہنگامہ آرائی کے خدشے کے پیشِ نظر، کلکتے میں بلالیا۔لیکن سر محمد شفیع نے جگہ کی اس تبدیلی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اعلان کردیا کہ یہ اجلاس لاہور ہی میں ہوگا۔اس طرح مسلم لیگ کے نام سے دو متوازی جماعتیں بن گئیں جو ”جناح لیگ“ اور ”شفیع لیگ“ کے نام سے مشہور ہوئیں۔محمد علی جناح، ”جناح لیگ“ کے صدر اور ڈاکٹر سیف الدین کچلو اس کے سیکرٹری تھے جبکہ سر محمد شفیع ”شفیع لیگ“ کے صدر اور علامہ اقبال اس کے سیکرٹری تھے۔مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد کمیشن کے بائیکاٹ کے حق میں تھی۔ جنوری 1928ءمیں مولانا محمد علی جوہر لاہور آئے تاکہ سائمن کمیشن کے بائیکاٹ کے ایشو پر علامہ اقبال کی رائے بدل سکیں لیکن انہیں ناکامی ہوئی کیونکہ اقبال نے بائیکاٹ کی حمایت کے لیے یہ شرط لگادی کہ ہندو قائدین مسلمانوں کے مطالبات تسلیم کرکے ان سے حقیقی مفاہمت کرلیں۔

جب سائمن کمیشن ہندوستان آیا تو تمام قابل ذکرسیاسی جماعتوں نے اس کا بائیکاٹ کیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لاہور سے لے کر لکھنو¿ اور لکھنو¿ سے لے کر کلکتہ تک کمیشن جہاں بھی گیا اس کا سیاہ جھنڈیوں اور ”سائمن واپس جاو¿“ کے نعروں سے استقبال کیا گیا۔

سائمن کمیشن سے اقبال اور اس کے رفقا کے تعاون کا مقصد مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ چونکہ ہندو مسلمانوں سے حقیقی مفاہمت کے لیے تیار نہیں اور ہندوو¿ں کی بھاری اکثریت کی وجہ سے کمیشن ان کے مفادات کو نظرانداز نہیں کرسکتا، اس لیے بائیکاٹ سے صرف مسلمانوں کا نقصان ہے۔

اپریل 1929ءمیں کمیشن نے اپنا کام ختم کرلیا اور اپنی رپورٹ 1930ءکے وسط میں پیش کردی۔ لیکن اس پر سنجیدگی سے کبھی غور ہی نہ ہوسکاکیونکہ آئینی اصلاحات کا سیلاب اتنی تیزی سے آرہا تھا کہ یہ رپورٹ اس میں بہہ گئی۔

13جولائی 1930ءکو مسلم لیگ کونسل نے اپنے اجلاس میں طے کیا کہ آئندہ سالانہ اجلاس کی صدارت کے لئے ڈاکٹر محمد اقبال سے درخواست کی جائے۔ان سے رابطہ کیا گیا تو وہ رضامند ہوگئے۔

29دسمبر 1930ءکو مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس گنگا و جمنا کے سنگم الہ آباد میں ہوا۔ قائد اعظم اس وقت انگلستان میں تھے۔ شاعر مشرق، مفکرِ اسلام اور ممتاز سیاست دان علّامہ اقبال نے اس اجلاس کی صدارت کی۔ اپنے خطبہ¿ صدارت میں انہوںنے برِ صغیر میں آباد مختلف النوع اقوام کے مسائل کی طرف توجہ دلائی اور واضح کیاکہ

1۔ ہندوستان کو یورپی ممالک کی طرح ایک ہی قوم کا ملک نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ یہاں مختلف تہذیبی، ثقافتی، نسلی، لسانی گروہ آباد ہیں اور کوئی بھی کمیونٹی اپنا جداگانہ تہذیبی تشخص چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔انہوں نے مختلف ثقافتی اکائیوں کو ختم کرکے متحدہ قوم بنانے کی کوششوں کو ناقابلِ عمل قرار دیتے ہوئے ان کے جداگانہ وجود کو تسلیم کرنے پر زور دیا اور ان کے درمیان مفاہمت اور تعاون کی اہمیت واضح کی۔

2۔ اسلام محض ایک مذہب نہیں بلکہ ایک نظامِ سیاست بھی ہے۔ تہذیب و تمدن کے میدان میں ہندوستانی مسلمانوں کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے جداگانہ تشخص کو قائم رکھتے ہوئے اپنے سیاسی مسائل کا حل تلاش کریں۔

3۔ یورپ میں روسو اور لوتھر کی تعلیمات کے نتیجہ میں مذہب کو عملی زندگی سے بے دخل کردیا گیا۔ اس کے نتیجے میں عالمگیر اور انسانیت پرور مسیحی اخلاقیات کی بجائے قومی مفادات کے طابع محدود اخلاقیات نے جنم لیا۔ اسلام اس صورت حال کو برداشت نہیں کرسکتا۔

4۔ اسلام کا مذہبی نصب العین اس کے سماجی نصب العین سے وابستہ ہے۔

اس کے علاوہ :

1۔ انہوں نے نہرو رپورٹ اور سائمن کمیشن کی سفارشات کی بنا پر ایک متحدہ ہندوستانی قوم بنانے کی کوششوں پر عدمِ اطمینان کا اظہار کیا۔

2۔ انہوں نے کہا کہ ایک متحدہ ہندوستانی قوم کے لیے جس اخلاقی احساس (یا شعور) کی ضرورت ہے وہ یہاں موجود نہیں ہے۔ اس لیے ہندوستان کی وحدت کا حصول مختلف تہذیبی اکائیوں کے وجود کو تسلیم کرنے اور ان کے نشو و ارتقا میں مضمر ہے۔

اپنے خطبہ¿ صدارت میں علامہ اقبال نے یہ بھی کہا کہ فرقہ وارانہ گروہوں کی حقیقت کو تسلیم کیے بغیر مغربی جمہوریت کے اصول کا ہندوستان میں اطلاق نہیں ہو سکتا۔

اقبال کے خطبہ الہ آ بادمیںکہیں بھی یہ مطالبہ شامل نہیں تھا کہ مسلمانوں کی خود مختار حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے۔ وہ تو اپنی سیاسی بصیرت سے صرف یہ پیشین گوئی کر رہے تھے کہ مستقبل میں ایسا ہو کر رہے گا۔ اور پھر ایسا ہو کر رہا۔ صرف 17سال بعد!لیکن حقیقت یہ ہے کہ بحیثیت مجموعی، سیاسی رہنماو¿ں اور اخبارات نے اس کو ایک خود مختار اسلامی ریاست کا مطالبہ ہی سمجھا اور اس پر غیر مسلم رہنماو¿ں اور اخبارات نے فوری طور پر اپنی شدید برہمی اور اضطراب کا اظہار کیا۔

ہندو پریس کے لیے خطبہ الہ آباد ناقابلِ برداشت تھا۔ خطبہ پر تبصرہ کرتے ہوئے وہ بات کرنے کا سلیقہ بھی بھول گئے۔ یکم جنوری 1931ءکو ”ٹریبیون“ لاہور نے لکھا کہ چونکہ اقبال گول میز کانفرنس میں مدعو نہیں کیے گئے تھے ، وہ انتقام پر اتر آئے ہیں۔ انہوں نے پہلے کانفرنس کے مسلمانوں کو تار بھیج کر مخلوط انتخاب قبول کرنے پر احتجاج کیا اور پھر خطبہ الہ آباد سے صلح کے امکان کو تارپیڈو کردیا۔ ”پرتاپ“ نے ایک مضمون بعنوان ”شمالی ہند کا ایک خوفناک مسلمان۔ ڈاکٹر اقبال کی گستاخیوں پر چند خیالات “ شائع کیا جس میں دریدہ دہنی کی انتہا کر دی۔

ہندو پریس کی مہم کا جواب مسلم پریس کی طرف سے آتا رہا۔ 5جنوری1931ءکو ”ہمدم“ لکھنو¿ نے تجویز کی حمایت میں تحریر کیا: ”اقبال کایہ مطالبہ نہایت حق بجانب ہے کہ مسلمانوں کو ہندوستان کے اندر ایک اسلامی ہندکے قیام کا موقع ملنا چاہئے اور اس کی بہترین تشکیل اسی صورت سے ہو سکتی ہے کہ پنجاب، صوبہ سرحد، سندھ اور بلوچستان کو ملا کر ایک واحد سلطنت قائم کر دی جائے۔حق یہ ہے کہ ہندو مسلم تنازعات کا یہ بہترین حل ہے اور اس قابل ہے کہ ہندوستان کے تمام مسلمان متحد ہو کر اس کے لئے جد و جہد کریں اور اپنی قوت عمل کا مظاہرہ کرکے اس کو حاصل کرکے چھوڑیں“۔روزنامہ ”انقلاب“ نے کم و بیش ایک درجن اداریے لکھے جن میں کہا گیا کہ اگر ہندوو¿ں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ محض غالب اکثریت کے بل بوتے پر مسلمانوں کو نظر انداز کردیں اور ہندو راج کے لئے سعی کریں تو یقیناً مسلمانوں کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ ایسے خطے میں جہاں ان کی اکثریت ہے ، وہ اسلامی ریاست کے قیام کو اپنا نصب العین بنائیں۔ ۔۔۔ اگر اقبال کی تجویز کے مطابق شمالی ہندوستان کے مسلمانوں کا حقِ آزادی تسلیم کر لیا جائے تو سارے ہندوستان میں مکمل امن کی ضمانت حاصل ہو جائے گی۔ ۔۔۔ لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو اس کا نتیجہ(ہندوو¿ں اور مسلمانوں کی) آپس میں ایک غیر مختتم خانہ جنگی کی صورت میں نکلے گا۔ 17جنوری 1931ءکو ”انقلاب“ نے اپنے اداریے میں اقبال کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا: ”خدا اس مبارک ہستی کو سلامت رکھے جس نے پریاگ (الہ آباد کا پرانا ہندو نام) میں سب سے پہلی مرتبہ، راہ گم کردہ اور ”قومیت و جمہوریت“ کے فریب کارانہ دعاوی سے مسحور ملت کے لیے، ہدایت کی حقیقی روشنی کا بندو بست کیا۔خدا کومنظور ہوا تو یہ روشنی زندگی کی صحیح منزلِ مقصود تک اسلامیانِ ہند کی رفیق رہے گی“۔

دوسری گول میز کا نفرنس 17ستمبر 1931ءکو شروع ہو نی تھی۔ اس دفعہ مسلمانوں کے نمائندوں میںمحمد علی جناح کے علاوہ علامہ ڈاکٹر محمد اقبال بھی شامل تھے۔ وہ 8ستمبر 1931ءکو لاہور سے روانہ ہو ئے ۔ لاہور ریلوے اسٹیشن پر انہوں نے روزنامہ ”انقلاب “ کے لیے پیغام دیتے ہو ئے کہا: ”کو ئی ایسا دستور اساسی جو مسلمانوں کے لیے اجتماعی حیثیت سے موت کا پیغام ہو، ہر گز ہر گز قبول نہیں ہو سکتا“۔ گاڑی دہلی پہنچی تو ان کے استقبال کے لیے ریلوے اسٹیشن پرکثیر تعداد میںلوگ آئے ہو ئے تھے۔ اقبال نے مجمع سے خطاب کر تے ہو ئے کہا: ”۔۔۔اب اگر مکمل صوبائی خود مختاری نہ دی گئی اورمرکزی حکومت میں ان کا کا فی خیال نہ رکھا گیا تو مسلمانا ن ہند کو اجتماعی زندگی پر انفرادی زندگیوں کو قربان کر نا پڑے گا۔اور مجھے یقین ہے کہ اگر بنگال اور پنجاب کی (اسمبلیوں میں مسلمانوں کی ) اکثریت اور مسلمانوں کے دیگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو جو دستور بھی ہندوستان کو دیا جا ئے گا مسلمانان ہند اس کے پر خچے اڑادیں گے“۔

دوسری گول میز کانفرنس میں شرکت کے لئے روانگی سے قبل جناح نے11اگست 1931ءکو لکھنو¿میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہندو پنجاب اور بنگال میں مسلم اکثریت کو تسلیم کرنے پر تیار ہو جائیں تو پھر فرقہ وارانہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔

اقبال اور جناح کے ان بےانات سے پتہ چلتا ہے کہ دونوں رہنماﺅں کو پنجاب اور بنگال کی اسمبلےوں مےں مسلمان کے لئے اکثرےت کے حصول کا کتنا شدےد احساس تھا۔

دوسری گول مےز کانفرنس 17ستمبر1931ءکو شروع ہوئی۔جناح نے مختلف کمےٹےوں کے اجلاسوں مےں بڑے جوش و خروش سے حصہ لیا۔26 نومبر1931ءکو اےک کمےٹی کی مےٹنگ مےں انہوں نے کہا کہ اگر مسلمانوں کو اےسے تحفظات فراہم نہ کئے گئے جن سے انہےں مکمل حفاظت کا احساس اور ہندوستان کے مستقبل کے آئےن کے بارے مےں اعتماد پےدا ہو‘تو اےسا آئےن ہندوستان مےں 24گھنٹے بھی نہےں چل سکے گا۔

دوسری گول میز کانفرنس یکم دسمبر 1931ءتک جاری رہی۔لیکن کوئی سمجھوتہ نہ ہوسکا۔اس پر 16اگست1932ءکو وزیرِ اعظم برطانیہ نے حکومت کی طرف سے ”کمیونل ایوارڈ“ کا اعلان کیا۔اس ایوارڈ میں آل پارٹیز مسلم کانفرنس کے کئی ایک اہم مطالبات تسلیم کرلیے گئے۔ علامہ اقبال کی رائے تھی کہ اگرچہ کمیونل ایوارڈ میں مسلمانوںسے انصاف نہیں کیا گیا، پھر بھی آخری فیصلہ ہونے تک اسے منظور کر لینا چاہیے۔محمد علی جناح کی بھی یہی رائے تھی۔ چنانچہ مسلم لیگ نے، متفقہ طور پر، اس کا متبادل پیش نہ ہونے تک یہ ایوارڈ منظور کرلیا۔

ہندوستان کی سیاست سے مایوس ہوکر، قائدِ اعظم نے انگلستان ہی میں مستقل رہائش کا ارادہ کر لیاتھا۔لیکن ہندوستان کے مسلمانوں اور مسلم رہنماو¿ں کو جلد ہی اس بات کا شدید احساس ہوگیا کہ ان کے بغیر مسلمانوں کی آزادی کی ناو¿ کنارے پر نہ پہنچ سکے گی۔چنانچہ ہندوستان کے مسلم رہنماو¿ں کے اصرار پر انگلستان سے واپس آکر قائدِ اعظم نے مسلم لیگ کی صدارت سنبھال لی اور اس کی تنظیمِ نو کا کام شروع کر دیا۔ابھی اس پر بہت کم مدت گزری تھی کہ 1937ءکے انتخابات کا مرحلہ آگیا۔اس کی تیاری کے لیے انہوں نے 10اپریل 1936ءکو بمبئی میں مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس طلب کیاجہاں یہ طے ہوا کہ مسلم لیگ تمام صوبوں میں الیکشن لڑے اور اس مقصد کے لیے محمد علی جناح کی صدارت میں ایک پارلیمانی بورڈ تشکیل دیا جائے۔جناح کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ مختلف مسلم سیاسی جماعتوں کے رہنماو¿ں سے مشورے کے بعد اس بورڈ کے ارکان نامزد کریں اور مختلف صوبوں میں بورڈ کی شاخیں قائم کریں۔

پارلیمانی بورڈ کی تشکیل کے سلسلے میں محمد علی جناح نے مختلف صوبوں کے دورے کیے۔ وہ 6مئی 1936ءکی شام اقبال سے ملنے ”جا وید منزل “ گئے ۔ فاطمہ جناح ان کے ہمراہ تھیں۔ جناح کے آنے پر جا وید اقبال جیسا کہ اقبال نے انہیں سمجھایا ہو ا تھا اپنی آٹو گراف بک اور قلم کے ساتھ کمرے میں آئے۔ اقبال نے ان سے اپنے بیٹے کا تعارف کرایا تو جاوید اقبال نے آٹو گراف بک اور قلم آگے بڑھا دیے۔ جا وید اقبال رقم طرازہیں: مہمان نے انگریزی میں پوچھا: کیا تم بھی شعر کہتے ہو۔ میں نے جواب دیا : جی نہیں۔ فرمایا : پھر تم بڑے ہو کر کیا کر و گے؟ میں خاموش رہا ۔ اس پر وہ ہنستے ہو ئے اقبال سے مخاطب ہو ئے : کو ئی جواب نہیں دیتا ۔ اقبال نے کہا : وہ جواب نہیں دے گا کیونکہ وہ اس دن کا منتظر ہے جب آپ اسے بتائیں گے کہ اسے کیا کر نا ہے۔ اقبال نے جناح کو اپنے مکمل اور پھر پور تعاون کا یقین دلایا ۔ جناح نے اقبال کو مسلم لیگ کے مرکزی پا رلیمانی بورڈ کا رکن بننے کی دعوت دی جو اقبال نے اپنی علالت کے باوجود قبول کر لی کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ یہ بات سب پر عیاں ہو کہ مسلمانوں کی ایک ہی سیاسی جماعت ہے اور وہ ہے مسلم لیگ ۔

8مئی 1936ءکو اقبال اور پنجاب کے چودہ دیگرمسلم رہنماو¿ں کی طرف سے مسلم لیگ کی حمایت اور یونینسٹ پا رٹی کی مخالفت میں بیان جا ری کیاگیا۔ انہوں نے کہا: ”بطل جلیل مسٹر محمد علی جناح ان قابل فخر مسلم رہنماﺅں میں سے ہیں جن کی سیاسی دانش مسلمانوں کے لیے صبر آزماوقتوں میںہمیشہ مشعل راہ کا کام دیتی رہی ہے۔ جس خلوص اور عزیمت سے انہوں نے مسلمانان ہند کی تمام اہم اور نازک موقعوں پر خدمت کی ہے اس کے لیے مسلمانوں کی آنے والی نسلوں کے سر عقیدت و احترام سے جھکے رہیں گے۔ ۔۔۔ اس صوبے میں نام نہاد یونینسٹ پا رٹی بھی انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔ آپ لوگوں کو معلوم ہو نا چاہیے کہ یہ لوگ مسلمانان پنجاب کی وحدت کو دیہاتی اورشہری تقسیم کے ناپاک اور غیر اسلامی حربے سے پارہ پارہ کر نے کے ذمہ دار ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلام کی عالم گیرا خوت کو اقتصادی مفاد کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھانے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ ۔۔۔ ہم ایک لمحے کے لیے بھی اسلام کے بلند ترین مقاصد کو پس پشت ڈال کر اپنی خود غرضیوں اور جاہ پر ستیوں کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے غیر مسلموں کے ہا تھ اپنے اصولوں کو فروخت کر نے کے لیے تیار نہیں ۔ مرکزی پا رلیمانی بورڈ کا منشا صرف یہ ہے کہ قابل مسلمان صوبائی اسمبلیوں میں بھیجے جا ئیں اور مرکزی ارکان متحدہ آواز سے مسلمانوں کے حقوق کی کماحقہ‘حفاظت کر سکیں“۔

انتخابی مہم کے دوران نہرو نے یہ دعویٰ کیاکہ ہندوستان میں صرف دو فریق ہیں کانگریس اور حکومت ۔ اس کے جواب میں جناح نے یہ کہا کہ ہندوستان میں دو نہیں بلکہ تین فریق ہیں اور تیسرا فریق مسلمان ہیں ۔ انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ کا نگریس خواہ مخواہ مسلم لیگی امیدواروں کے مقابلے میں اپنے امیدوار کھڑے کر رہی ہے۔ اس بیان پر نہرو بہت تلملائے ۔ انہوں نے جناح پر نا روا حملے کئے اور کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی جداگانہ ہستی کا دعویٰ مضحکہ خیز ہے۔اس پر علامہ اقبال نے اپنے اخباری بیا ن میں کہا:”میرے دل میں پنڈت نہرو کی بہت عزت ہے۔ ۔۔۔ لیکن میں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ انہوں نے بلاوجہ مسٹر جناح کے ساتھ الجھنے کی کو شش کی ہے۔ مسٹر جناح آج مسلمانوں کے سب سے بڑے اور سب سے معتمد لیڈر ہیں۔ انہوں نے اپنے ملک کی جو خدمت کی ہے وہ کسی اور لیڈر سے کم نہیں۔ لیکن مسٹر جناح تخیل کی دنیا میں پرواز کر نے کی بجا ئے حقیقت بینی کو ترجیح دیتے ہیں۔ اسی لیے ان کی قوم پر ستی اور حب الوطنی حقائق و واقعات کے صحیح تجزیئے پر مبنی ہے۔ ۔۔۔ مجھے امید ہے کہ پنڈت نہرو کو جلد اس بات کا احساس ہو جا ئے گا کہ مسٹر جناح مسلمانوں میں کتنی بلند حیثیت اور ارفع مقام کے مالک ہیں۔ ۔۔۔مسلمانوں کی طرف سے اگر کسی شخص کو بات کر نے کا حق ہے تو صرف مسٹر جناح ہیں“۔

علامہ اقبال کی زیر قیادت پنجاب میں آل انڈیا مسلم لیگ کے احیا ءکا کام شروع ہو گیا تھا۔ اس کا م کی اہمیت کا اندازہ یو نینسٹ پا رٹی کے ترجمان روزنامہ ”انقلاب “کے ان اداریوں سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے جو اس نے پارلیمانی بورڈ ، علامہ اقبال اور قائد اعظم کے خلاف لکھے اور جن میں علامہ اقبال اور قائد اعظم پر سخت کیچڑ اچھالا گیا۔ حالانکہ ”انقلاب“ کے پہلے شمارے میں علامہ اقبال کی نظم ”انقلاب ، اے انقلاب“ چھپی تھی۔ نیز غلام رسول مہر اور عبدالمجید سالک، جو اخبار کے مشترکہ مالک بھی تھے اور مدیران بھی، علامہ اقبال کے قدیم نیاز مند ہونے کے دعوے دار تھے اور سالہا سال سے ان کی مجلس میں تقریباً روزانہ حاضری دیتے تھے۔

علامہ اقبال اور ان کے چند رفقاءنے اپنے 8مئی 1936ءکے اخباری بیان میں، جس کا ذکر ہو چکا ہے، یہ بھی کہا کہ مسٹر جناح کی بے نفسی اور دور اندیشی کی داد دینی چاہیے کہ انہو ں نے ایسے موقع پر مسلمانوں کی رہنمائی کی ہے جب گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کے تحت نئے انتخابات کا وقت قریب آرہا ہے۔ مسٹر جناح کے اس اقدام سے ان غرض پسند اور رجعت پسند حلقوں میں کھلبلی مچ گئی ہے جو اب تک مسلمانان ہند کی قیادت کا غلط دعویٰ کر کے اپنی مطلب براری کر تے رہے ہیں۔ ۔۔۔ ہماری قوم کو مسٹر جناح کی دیانت و امانت اور سیاسی بصیرت پر ایسا پختہ اعتماد ہے کہ مسلمانان پنجاب کے کسی طبقے نے مسٹر جناح کی تجویز کولبیک کہنے سے دریغ نہیں کیا۔

1936ءکے آخری دنوں میں ایک روز قائد اعظم کی امانت و دیانت اور قابلیت کا ذکر ہو رہا تھا ۔ اس پر علامہ اقبال نے کہا:”مسٹر جناح (اس وقت تک ان کے لیے قائد اعظم کا لقب رائج نہیں ہوا تھا) کواللہ تعالیٰ نے ایک ایسی خوبی عطا کی ہے جو آج تک ہندوستان کے کسی مسلمان میں مجھے نظر نہیں آئی “۔ حاضرین میں سے کسی نے پو چھا کہ وہ خوبی کیا ہے؟ تو آپ نے انگریزی میں کہا:

He is incorruptible and unpurchaseable 

ایک دفعہ قائد اعظم نے اپنی تقریر میں ”دین “ کا لفظ استعمال کیا ۔ علامہ کو جب یہ تقریر پڑھ کر سنائی گئی تو آپ نے قائد اعظم کے لفظ ”دین “ استعمال کرنے پر اپنی مسرت کا اظہار کر تے ہو ئے کہا: ”جناح کی زبان سے دین کا لفظ کیسا بھلا معلوم ہو تا ہے“۔

قائد اعظم نے دہلی میں ایک اجلاس میں تقریر کر تے ہو ئے صوبوں میں کا نگرسی وزارتوں کے طرز عمل اور خصوصیت سے ”بندے ما ترم “ اور اردو زبان کا ذکر کیا۔ قائد اعظم نے اس تقریر میں ”بندے ماترم “ کے مسلم دشمن ترانے کے متعلق کہا : ” اس سے شرک کی بو آتی ہے اور یہ مسلمانوں کے خلاف ایک قسم کا نعرہ جنگ ہے“ ۔کا نگریسی صوبوں میں ہندی ہندوستانی کے جبری نفاذ کا ذکر کر تے ہو ئے قائد اعظم نے کہا کہ ”میرے خیال میں یہ چیز اسلامی تمدن اور اردو زبان کے لیے پیغام مرگ ہے اور ہمارے بچوں کے لیے مہلک ثابت ہو گی“۔ ایک مجلس میں جب علامہ اقبال کو قائد اعظم کی یہ تقریر پڑھ کر سنائی گئی تو انہوں نے اس پر بڑی مسرت کا اظہار کیا اور کہا: ” دو باتوں سے جی خوش ہو ا ۔ ایک تو جناح کے کہنے پر کہ بندے ماترم سے شرک کی بو آتی ہے۔ دوسرے اس پر کہ ہندی ہندوستانی تحریک دراصل اردو پر حملہ ہے اور اردو کے پردے میں بالواسطہ اسلامی تہذیب پر “۔

22اکتوبر1937ءکو علامہ اقبال کے کہنے پر غلام رسول خاںنے بطور سیکرٹری صوبائی لیگ سرسکندر حیات کو مسلم لیگ کی رکنیت کے فارم اس خط کے ساتھ بھیجے کہ یو نینسٹ پا رٹی کے مسلم ارکان سے ان پر دستخط کر والیے جا ئیں مگر اس طرف سے کوئی جواب نہ آیا۔ اس بارے میں اقبال نے جناح سے رابطہ قائم رکھا، انہیں کئی ایک خطوط لکھے اور صورت حال سے باخبررکھا ۔ 10نومبر 1937ءکو اقبال نے جناح کو لکھا: سر سکندرحیات خاں اور ان کے احبا ب سے متعدد ملاقاتوں کے بعد میں قطعی طور پر اس نتیجے پر پہنچ گیا ہوں کہ سرسکندر مسلم لیگ اور صوبائی پارلیمانی بورڈ پر مکمل قبضہ حاصل کر نا چاہتے ہیں۔کیاان کے ساتھ آپ کے معاہدہ میں یہ درج ہے کہ پا رلیمنٹری بورڈ کی از سر نو تشکیل کی جا ئے گی اور اس میں یو نینسٹ پا رٹی کے آدمیوں کی اکثر یت ہو گی ۔ سر سکندر نے مجھے بتایا ہے کہ آپ بورڈ میں ان کی اکثر یت پر رضامند ہو گئے تھے ۔ میں نے پچھلے دنوں آپ کو خط لکھ کر دریافت کیا تھا کہ کیا واقعی آپ پا رلیمنٹری بورڈ میں یو نینسٹ پا رٹی کو اکثریت دینے کا وعدہ کر چکے ہیں؟ اب تک آپ کی طرف سے مجھے اس کا کو ئی جواب نہیں ملا۔ ذاتی طور پر مجھے سرسکندر کی اس خواہش کے قبول کر نے میں کو ئی عذر نہیں لیکن مصیبت یہ ہے کہ وہ اس معاہد ے کی شرائط سے بھی آگے جانا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ لیگ کے تمام عہدیداروںمیں ردو بدل کیا جا ئے۔ وہ خصوصیت سے موجودہ سیکرٹری کی برطرفی کا مطالبہ کر رہے ہیںجنہوں نے لیگ کی خاطر بہت کام کیا ہے ۔ ان کی یہ بھی خواہش ہے کہ لیگ کا فنڈ اور سارا حساب کتاب ان کے آدمیوں کی تحویل میں ہو ۔ میرے خیال میں اس تمام کارروائی سے ان کا مقصد یہ ہے کہ لیگ پر قابض ہو کر اسے موت کے گھاٹ اتاردیں۔ صوبے کی رائے عامہ کے پیش نظر میں لیگ کو سر سکندر اور ان کے احباب کے حوالے کر نے کی ذمہ داری نہیں لے سکتا۔ سکندر۔جناح پیکٹ نے پہلے ہی پنجاب میں مسلم لیگ کے وقار کو نقصان پہنچایا ہے اور یو نینسٹ پارٹی کے ہتھکنڈوں سے اسے مزید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے ۔ یو نینسٹ پا رٹی کے ممبروں نے ابھی تک مسلم لیگ کے حلف نامہ پر دستخط نہیں کئے اور جہاں تک مجھے معلوم ہے وہ دستخط کر نا بھی نہیں چاہتے ۔اب وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ مسلم لیگ کا آئندہ اجلاس لاہور میں فروری کے بجائے اپریل میں ہو نا چاہیے ۔ میر اخیال ہے کہ ان کا مقصد یہ ہے کہ ان کی زمیندارہ لیگ کو پا ﺅں جمانے کے لیے وقت مل جا ئے ۔ شاید آپ کو علم ہو کہ لکھنو¿ سے واپسی پر سرسکندر نے ایک زمیندارہ لیگ قائم کی ہے اور اب اس کی شاخیںصوبے میں پھیلائی جا رہی ہیں۔براہ کرم مجھے بتلائیں کہ ان حالات میں ہمیں کیا کر نا چاہیے ۔

اس طرح اقبال نے پنجاب میںصورت حال کے بارے میں اپنا نقطہ نظر واضح طور پر بیان کر نے کے بعد، جناح سے رہنمائی کے لیے لکھا ۔ وہ سمجھتے تھے کہ سکندر حیات کی ٹال مٹول کی پالیسی کے باوجود پنجاب مسلم لیگ کو کو ئی ایسا قدم نہیں اٹھا ناچاہیے جو آل انڈیا مسلم لیگ کی پالیسی کے خلاف ہو۔ لیکن انہوں نے اپنا مافی الضمیر کھل کر بیا ن کر نے میں کو ئی جھجک محسوس نہ کی۔

علامہ اقبال کی صحت دن بدن گر رہی تھی۔اس کے باوجود انہوں نے صوبے میں مسلم لیگ کی سرگرمیوں کو تیز سے تیز تر کر دیا تھا۔ 2مارچ 1938ءکو قائد اعظم نے علامہ اقبال سے لیگ کا خصوصی اجلاس لاہور میں منعقد کر نے کے بارے میں ان کی رائے پو چھی تو انہوں نے یہ تجویز کیا کہ یہ اجلاس ایسٹرکی تعطیلات کے موقع پر لاہورہی میں منعقد ہو نا چاہیے۔ لیکن ادھر نواب شاہنواز ممدوٹ نے جو سکندر حیات کے خاص آدمی تھے اور جنہیں ملک برکت علی کی سعی سے علامہ اقبال کی صحت کی خرابی کی بنا پر فروری 1938ءمیں پنجاب مسلم لیگ کا صدر چن لیا گیا تھا، قائد اعظم کو لکھا کہ آل انڈیا مسلم لیگ کا جلسہ لاہور میں نہیں ہو نا چاہیے ۔ ظاہر ہے اس صورت میں

جلسہ لاہور میں نہیں ہو سکتا تھا۔ چنانچہ لیگ کو نسل نے اپنا خصوصی اجلاس 18اور 19اپریل کو کلکتہ میں منعقد کر نے کا فیصلہ کیا۔

جناح کے نام اقبال کے خطوط سے یہ اندازہ ہو تا ہے کہ وہ چاہتے تھے کہ سر سکندر حیات کے کار ناموں پر ان کے خلاف فوری کارروائی ہولیکن انہوں نے آخری فیصلہ ہمیشہ قائداعظم پر چھوڑا ۔ ادھر قائداعظم سمجھتے تھے کہ اس وقت سر سکندر حیات ، مولوی فضل الحق اور سر سعد اللہ کی شرکت ہی سے مسلم لیگ مسلمانوں کی نما ئندہ جماعت بن سکتی ہے۔ ان حالات میں سر سکندر کے خلاف فوری ایکشن مسلمانوں کے مفاد میں نہ تھا۔ مسلمانوں کو ایک جماعت کے پرچم تلے متحد رکھنا اس دور کی سب سے اہم ضرورت تھی۔

قائداعظم کی افہام و تفہیم کی کوششوں سے علامہ اقبال کی وفات سے تین دن قبل کلکتہ میں مسلم لیگ کے اجلاس کے موقع پر پنجاب کے مسلم قائدین کے مابین مکمل اتحاد ہو گیا۔

21اپریل 1938ءکو عالم اسلام کا یہ آفتاب جہاںتاب غروب ہو گیا۔

دسمبر1930ءمیں انہوں نے مستقبل کے دھندلکوں میں آزاد اسلامی مملکت کو دیکھا تھا۔ 1937ءمیں وہ شدت سے محسوس کر رہے تھے کہ ارتقائی مدارج طے ہو چکے ہیں اور اس کے مطالبے کا وقت آگیا ہے ۔ چنانچہ انہوں نے 28مئی 1937ءکو محمد علی جناح کو لکھا: ”بر صغیر میں شریعتِ اسلامی کا نفاذ اور ارتقا اتنی دیر ممکن نہیں جب تک کہ یہاں ایک آزاد مسلم ریاست یا ریاستیں وجود میں نہ لائی جائیں۔کئی برسوں سے میرا یہی عقیدہ رہا ہے ۔ ۔۔۔ کیا آپ کے خیال میں اس مطالبے کا وقت نہیں آگیا“؟

اس کے بعد 21جون 1937ءکو انہی کے نام ایک اور خط میں لکھتے ہیں: ”ہندوستان میں قیامِ امن اور مسلمانوں کو غیر مسلموں کے غلبہ سے بچانے کی واحد ترکیب ۔۔۔ مسلم صوبوں کی ایک علیحدہ فیڈریشن ہے۔ ہندوستان یا بیرونِ ہندوستان کی دوسری اقوام کی طرح، شمال مغربی

ہندوستان اور بنگال کے مسلمانوں کو حق خود اختیاری کیوں نہ دیا جائے“۔

1937ءمیں اقبال شدت سے محسوس کر رہے تھے کہ آزاد مسلم ریاست/ریاستوں کے مطالبے کا وقت آگیا ہے۔ وہ محمد علی جناح کی توجہ بار بار اس طرف مبذول کرا رہے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اس مملکت کے قیام کا مقصد بھی بیان کر رہے تھے:برِصغیر میں اسلامی شریعت کا نفاذ اور ارتقا۔ محمد علی جناح نے ”اقبال کے خطوط جناح کے نام“ (انگریزی) کا دیباچہ لکھتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان کے اور میرے خیالات میں بہت حد تک ہم آہنگی تھی۔ہندوستان کو در پیش دستوری مسائل کے گہرے تجزیے اور مطالعہ پر ان خیالات نے بالآخر مجھے انہی نتائج پر پہنچادیا جن پر وہ (اقبال) خود پہنچے تھے۔انہی خیالات کا اظہار مسلمانانِ ہند کے متحدہ مطالبہ کے طور پر آل انڈیا مسلم لیگ کی قراردادِ لاہور میں، جو عام طور پر قراردادِ پاکستان کے نام سے مشہور ہے، کیا گیا ہے۔

علامہ اقبال کے اس خطبے کے تقریباً نوسال بعد تک مسلم لیگ اس کوشش میں رہی کہ کانگریس کے ساتھ ایسا سمجھوتہ ہو جائے جس سے متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کی تسلی کے مطابق ان کے حقوق کا آئینی تحفظ ہو سکے لیکن مسلم رہنماو¿ں کی مسلسل سعی کے باوجود ہندو قوم کی ذہنیت نہیں بدلی۔ دوسری گول میز کانفرنس میں مسلمانوں کے متفقہ مطالبات پر کانگریس کے واحد نمائندے اور حاکمِ اعلیٰ گاندھی جی کا ردِ عمل مایوس کن تھا۔ 1936-37ءکے انتخابات میں ہندو سیٹوں پر کامیابی کے بعد کانگریس کا مزاج غرور و تکبر کی بلندیوں کو چھونے لگا۔ اس نے الیکشن کے دوران تعاون کی جو روش اپنائی تھی وہ بدل لی۔ آٹھ صوبوں میں وزارتیں بنانے کے بعد مسلمانوں کے ساتھ ان کے سلوک سے یہ بالکل واضح ہوگیا کہ گاندھی جی اور کانگریس کا نصب العین متحدہ ہندوستان میں ہندو راج کے سوا اور کچھ نہیں۔جب مسلمانوں کو یقین ہو گیا کہ متحدہ ہندوستان کے لیے ہندو کانگریس کے ساتھ باعزت سمجھوتے کی کوئی صورت نہیں اور کانگریس ان کے ملّی وجود کو ختم کر کے ہندو راج قائم کرنا چاہتی ہے تو انہوں نے اسی راہ پر چلنے کا عزم کر لیا جس کے لیے 1930ءمیں علامہ اقبال نے شمع ہدایت روشن کی تھی: مسلمانوں کی ایک آزاد مملکت کا قیام ہی ہندو۔ مسلم مسئلے کا واحد حل ہے۔

اقبال ہندو ذہنیت سے کس حد واقف تھے اس کا اظہار ان کے جناح کے نام 21جون 1937ءکے خط سے بھی ہو تا ہے۔ وہ رقم طراز ہیں:” اس وقت مسلم قوم کو اس طوفان بلا میں جو شمالی مغربی ہند اور شاید ملک کے گوشے گوشے سے اٹھنے والا ہے، صرف آپ ہی کی ذات سے رہنمائی کی توقع ہے۔ ۔۔۔ گزشتہ چند ماہ سے ہندوستا ن میں ہندو مسلم فسادات کا ایک سلسلہ قائم ہو گیا ہے۔ صرف شمالی ہند میں تین ماہ میں کم از کم تین فرقہ وارانہ فسادات ہو چکے ہیں۔ ۔۔۔ ( اس سے) ہندوﺅں اور سکھوں کا مقصد مسلم اکثریتی صوبوں میں بھی مسلمانوں پر خوف و ہراس طاری کر نا ہے ۔ اور نیا آئین کچھ ایسا ہے کہ مسلم اکثریتی صوبوں میں بھی مسلمانوں کا (یعنی مسلم حکومتوں کا ) تمام تر انحصار غیر مسلموں پر ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلاہے کہ ان صوبوں میں مسلم وزارت کو ئی مناسب کارروائی نہیں کر سکتی بلکہ اسے تو مسلمانوں ہی کے ساتھ نا انصافی کر نی پڑتی ہے تاکہ وہ لوگ جن کی امداد سے وزارت قائم ہے خوش رہ سکیںاور دوسروں پر ظاہر ہو سکے کہ وزارت قطعی طور پر غیر جانبدار ہے۔ ۔۔۔ ہندواکثریت کے صوبوں میں ہندوﺅں کو قطعی اکثریت حاصل ہے اور وہ مسلمانوں کو بالکل نظرانداز کر سکتے ہیں۔ جبکہ مسلم اکثریت کے صوبوں میں مسلمانوں کو ہندوﺅں کا مکمل طور پر دست نگر رکھا گیا ہے۔ ۔۔۔ آپ کو اپنے خطبے میں کم از کم اس طریق عمل کی طرف اشارہ ضرور کر دینا چاہیے جو شمال مغربی ہند کے مسلمانوں کو انجام کا ر اختیار کر نا ہی پڑے گا ۔ ۔۔۔ شمال مغربی ہنداور بنگال کے مسلمانوں کو ہندو ستان اور بیرون ہندوستان کی دیگر اقوام کی طرح حق خود اختیاری کیوں نہ دیا جا ئے“۔

اقبال کے انتقال پر قائد اعظم نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا: ” مجھے سر محمد اقبال کی وفات کی خبر سن کر سخت رنج ہوا ۔ وہ عالمی شہرت کے ایک نہایت ممتاز شاعر تھے۔ ان کی شہرت اور ان کے کام ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ ملک اور مسلمانوں کی انہوں نے اتنی زیادہ خد مات انجام دی ہیں کہ ان کے ریکارڈ کا مقابلہ عظیم تریں ہندوستانی کے ریکارڈ سے کیا جا سکتا ہے۔ ابھی حال ہی تک وہ پنجاب کی صوبائی مسلم لیگ کے صدر تھے جب کہ غیر متوقع علالت نے انہیں استعفیٰ پر مجبور کر دیا ۔ وہ آل انڈیا مسلم لیگ کی پا لیسی اور پروگرام کے حامی تھے۔ میرے لیے وہ ایک رہنمابھی تھے، دوست بھی اور فلسفی بھی ۔ تاریک ترین لمحوں میں جن سے مسلم لیگ کو گزرنا پڑا وہ چٹان کی طرح قائم رہے اور ایک لمحے کے لیے بھی متزلزل نہیں ہو ئے ۔ اور اسی کا نتیجہ تھا کہ صرف تین دن قبل انہوں نے اس کا مل اتحاد کاذکر پڑھایا سناہو گا جو کلکتہ میں پنجاب کے مسلم قائد ین کے مابین ہو گیا۔ اور آج میں فخر ومباہات کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ مسلمانان پنجاب مکمل طور پر مسلم لیگ کے ساتھ ہیں اور اس کے جھنڈے تلے آچکے ہیںجو یقینا سر محمد اقبال کے لیے عظیم ترین اطمینان کا واقعہ تھا ۔ اس مفارقت میں میر ی نہا یت مخلصانہ اور گہری ہمدردیا ں ان کے خاندان کے ساتھ ہیں۔اس نازک و قت میں ہندوستان کو اورخصوصاًمسلمانوں کو ایک عظیم نقصان پہنچا ہے“۔

4دسمبر1938ءکو دہلی میں آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کا ایک اجلاس قائد اعظم محمد علی جناح کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں علامہ محمد اقبال کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا اور مندرجہ ذیل تعزیتی قرارداد منظور کی گئی: آل انڈیا مسلم لیگ کا یہ اجلاس ایک فلسفی اور عظیم قومی شاعر کی خدمات کا اعتراف کرتا ہے ۔ انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے مستقبل کی تعمیر اپنے ماضی کی روایات کو سامنے رکھ کر کریں۔ اگرچہ وہ آج ہم میں موجود نہیں لیکن اپنی لاثانی شاعری کے ذریعے وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے اور ان کا کلام تمام دنیا کے مسلمانوں کو گرماتا رہے گا۔ کونسل کا یہ اجلاس ان کی وفات پر انتہائی رنج و غم کا اظہار کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے کہ مرحوم کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے۔

26دسمبر1938ءکو آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس پٹنہ میں قائدِ اعظم نے علامہ اقبال کی وفات پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا: علامہ اقبال میرے ذاتی دوست تھے۔ ان کا شمار دنیا کے عظیم شعرا میں ہوتا ہے۔ان کی عظیم شاعری ہندوستانی مسلمانوں کی خواہشات کی صحیح عکاسی کرتی ہے۔یہ ہمارے لیے اور ہماری آئندہ نسلوں کے لیے مشعلِ راہ کا کام دے گی۔

اس میں کوئی شک نہیںکہ مسلمان قوم نے اسلام کی بنیاد پر پاکستان حاصل کیا۔ مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر اس کا تصور علامہ اقبال نے پیش کیا اور قائدِ اعظم کی قیادت میں مسلم لیگ یہ وطن حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔یہ ملک نظریاتی بنیادوں پر قائم ہوا اور انشاءاللہ ان ہی بنیادوں پرقائم رہے گا۔

حوالے

1۔عطیہ بیگم:56

2۔ پروفیسر شمیم حنفی(مرتب):34

3۔والپرٹ:336

4۔ خالد محمود ربانی:1

5۔والپرٹ:47-46؛مینن:15-14؛چوہدری محمد علی:15؛کمار بندوپادھیا:29-28

6۔کمار بندوپادھیا:28

7۔فقیر وحید الدین:2،180؛رحیم بخش شاہیں:171

8۔م

مزید : کالم