پاک بھارت فوجی حکام کی ملاقات

پاک بھارت فوجی حکام کی ملاقات

  



پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرلز ملٹری آپریشنزکے درمیان واہگہ کے سرحدی علاقے میں پاکستان کی حدود میں ملاقات ہوئی، جس میں دونوں ملکوں کے درمیان امن کوششوں اور موثر رابطوں پر اتفاق رائے کیا گیا۔ گارگل جنگ کے بعد دونوں ملکوں کے اعلیٰ فوجی افسروں کے درمیان یہ پہلی ملاقات تھی جو گذشتہ کچھ عرصہ کے دوران کنٹرول لائن پر کشیدگی کے بعد کی گئی ہے، کنٹرول لائن پر فائر بندی اور غلطی سے سرحد پار کرنے والوں کو اپنے وطن کو جلد واپس کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ امن برقرار رکھنے کے لئے ایل او سی پر بریگیڈئرز کمانڈز کی میٹنگ جلد منعقد کی جائے گی، اس ملاقات کو مثبت اور بامقصد قرار دیا گیا ہے۔ ملاقات کے دوران پاکستانی حکام نے کنٹرول لائن پر فائرنگ پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور فائر بندی معاہدے پر مکمل عمل کرنے کا مطالبہ کیا۔مذاکرات خوشگوار ماحول میں ہوئے، جس کے بعد امن کی بحالی اور باہمی تنازعات کے طے کرنے کے لئے مزید پیشرفت کی امید کی جا رہی ہے۔ دراصل اس دور میں صرف سیاست دان اور سفارت کار ہی قیام امن کے لئے کام نہیں کرتے ، ملکوں کو امن کے راستے پر آگے بڑھنے کے لئے اپنی عسکری قیادت کو بھی اعتماد میں لینا پڑتا ہے، اگر عسکری فورسز میں دوسری قوموں کے خلاف نفرت اور عداوت ہی کے جذبات پروان چڑھائے جاتے رہیں اور انہیں صرف یہی بتایا جائے کہ ان کا مفاد جنگ اور کشیدگی کی فضا قائم رکھنے ہی میں ہے تو پھر دنیا کے غریب اور پسے ہوئے عوام کو امن اور اس راستے سے ترقی و خوشحالی کبھی نصیب نہیں ہو سکتی۔ عسکری قیادت کے رابطے اور ایک دوسرے سے ملنا جلنا بھی اس وقت اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ سیاسی قیادت کا۔ اِسی سے عسکری قیادتوں کو دوسرے ملکوں کے عوام بھی اتنے ہی معصوم اور قابل توجہ معلوم ہوں گے جتنے کہ اپنے ملک کے عوام۔ بالخصوص جب دو ملکوں کے درمیان کشیدگی اور غلط فہمیاں موجود ہوں اس وقت معاملات کو بگاڑنے کے بجائے مذاکرات اور میل ملاپ کے ذریعے سدھارنا ہی خطے کے اربوں عوام کے مفاد میں ہوتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ امن کے راستے تلاش کرنے کی کوشش کی ہے اور بھارت سے کشمیر سمیت تمام تنازعات جامع مذاکرات کے ذریعے طے کرنے کے لئے پوری کوشش کر رہا ہے۔ امید کرنی چاہئے کہ بھارتی قیادت کی طرف سے پاکستانی کوششوں کا مثبت جواب ملے گا اور امن کے راستے مزید کشادہ ہوتے چلے جائیں گے۔

مزید : اداریہ