پاک ترک تعلقات میں وسعت کی کوششیں

پاک ترک تعلقات میں وسعت کی کوششیں

  



پاکستان اور ترکی نے انسداد دہشت گردی، تعلیم، توانائی، شہری ترقی ،سٹرکوں اور گھروں کی تعمیر میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کی ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان خصوصی تعلقات قائم ہیں جن کی جڑیں مذہب،ثقافت اور تاریخ سے جڑی ہوئی ہیں۔ دونوں جمہورتیوں کے مقاصد اور تشخص ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں میں اعلیٰ سطحی سٹرٹیجک تعاون کونسل کی صدارت کرنا ہمارے تعلقات میں ایک اور سنگ میل ہے۔ 2014ءکی پہلی سہ ماہی میں دونوں ملکوں کے درمیان ترجیحی تجارت کے معاہدے کو حتمی شکل دے دی جائے گی، جس سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی سہولتوں میں اضافہ ہو گا۔ دونوں ملکو ں نے مفاہمت کی کئی دستاویزات پر دستخط کئے ہیں، جن میں اسلام آباد ، تہران ، استنبول ای ، سی ، او،کنٹینر ٹرین کو آپریشنل کرنا بھی شامل ہے۔اس سے نہ صرف خطے میں بلکہ اس سے آگے تک عظیم معاشی یکجہتی پیدا ہو گی۔ ترک وزیراعظم نے کہا کہ آنے والے دنوں میں دونوں ملکوں کے تجارتی اور اقتصادی تعلقات میں اہم پیشرفت ہو گی۔ نجی شعبے میں شراکت کو بھی فروغ دیا جائے گا۔ پاکستان ہمارا بھائی اور پاکستانی عوام برادر عوام ہیں۔ پاکستان سے گہرے تعلقات ہماری اولین ترجیح ہیں۔

ترک وزیراعظم کے پاکستان اور پاکستانی عوام کے متعلق برادرانہ جذبات لائق تحسین ہیں۔ موجودہ حکومت کی طرف سے ترکی اور چین کے ساتھ زیادہ سے زیادہ قریبی تعلقات کی پالیسی پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے، دونوں ملکوں سے ہمارے ابتدا ہی سے گہر ے دوستانہ تعلقات ہیں۔ ترکی سے بلا شبہ ہم مذہب، ثقافت اور تاریخ کے رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ترکی ہمارا برادر ملک اور ترک عوام ہمارے بھائی ہیں۔ اس وقت اگر ہم مشکل حالات سے گزر رہے ہیں تو ترکی معاشی اور سیاسی استحکام کی نعمتوں سے ہمکنار ہے۔ ترکی سے تجارتی اور معاشی تعلقات بڑھانے اور ای، سی او، کے پرانے معاہدے کو تازہ کرنے سے ہم اقتصادی ترقی کی ایک روشن شاہراہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔ ہمارا ہمسایہ برادر ملک ایران بھی اب مغربی ممالک سے تعلقات بہتر بنانے اور ہمسایوں سے تجارت بڑھانے کی طرف آ چکا ہے۔ ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کے معاہدے پر موثر انداز میں عمل درآمد کے بعد ہم اس سے مواصلاتی رابطے بڑھا سکتے ہیں۔ اسلام آباد سے استنبول تک ریلوے ٹریک آپریشنل کرنے سے نہ صرف علاقے کی تجارت کو فروغ ملے گا، بلکہ پاکستان سے یورپ تک زمینی راستے بھی کھل جائیں گے۔ ریلوے کا سفر محفوظ اور سستا ہے۔ ریلوے کے ذریعے سامان تجارت بھی بہت مناسب کرایہ پر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو سکتا ہے۔ ایک بار عام پاکستانیوں کو بذریعہ ٹرین استنبول تک آنے جانے کی سہولت مل گئی تو اس سے ہماری ثقافت اور عوامی اذہان کی وسعت پر بہت مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ دوسری طرف بھارت سے اچھے تعلقات اور تجارت کھلنے سے بھی ہمارا تجارتی سامان اور عوام برصغیر کے مشرقی کنارے تک باآسانی آجاسکیں گے۔ ایک دوسرے کے شہروں اور علاقوں کو دیکھنا اور مختلف ثقافت اور طور اطوار رکھنے والوں سے میل جول اذہان کے اندھیروں کو دور کرنے کا باعث ہوتا ہے۔ اس سے پسماندگی، جہالت ، انتہا پسندی اور تنگ نظری کا خاتمہ اور ترقی پسندی، روشن خیالی اور اپنی حالت بہتر بنانے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ ترکی سے ہمارے تعلقات کا بڑھنا بالآخر ہم پر دنیا کے دروازے کھول دے گا۔ برادر ملک ہونے کے ناتے اس کے ماہرین اور اس کے تاجروں اور صنعتکاروں سے ہمیں اہل مغرب کے لوگوں کی طرح کے کسی استحصال ااور غلبہ و تسلط کا خدشہ بھی نہیں ہو سکتا، جس طرح بعض لوگوں کی طرف سے بھارت کے ساتھ ہمارے ماضی کے ناخوشگوار تجربات کی بنا پر اس سے تجارت بڑھانے کی مخالفت کی جاتی رہی ہے، اس طرح کی کوئی رکاوٹ ترکی کے ساتھ تعلقات میں وسعت اور گہرائی پیدا کرنے کی راہ میں حائل نہیں ہے۔ ترکی اب ایک اہم اقتصادی طاقت بن چکا ہے،اس کے سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے علاوہ ہمارے ملک میں نئی ٹیکنالوجی بھی لے کر آ سکتے ہیں ، ترکی کے عوام کی اکثریت اچھے مسلمان ہیں، لیکن وہ ہر طرح کے تعصبات اور انتہاءپسندی سے پاک ہیں۔ انہوں نے مذہب کو اپنے لئے رحمت بنایا ہے اور اسلام کے دیئے ہوئے رواداری، راست گفتاری اور دیانت داری کے اصولوں کو اپنایا ہے، جس طرح ہم اہل مغرب میں اسلام کی بہت سی اچھی اقدار کو موجود پاتے ہیں، ترک عوام مسلمان ہونے کے ناتے روشن خیالی کے ساتھ ساتھ اسلام کی تمام درخشندہ اقدار کی بھی پاسداری کرتے ہیں۔

اقتصادی اور تجارتی روابط کے علاوہ دونوں ملکوں میں اعلیٰ سطحی سٹرٹیجک کونسل بھی قائم کی گئی ہے، جس سے ہمارے دفاعی روابط بھی گہرے ہوں گے۔ ترکی اور چین جیسے مضبوط ملکوں سے دفاعی روابط کا قائم ہونا ملک دشمنوں اور ان کے آلہ کار دہشت گردوں کے لئے بھی مایوسی کا باعث ثابت ہو گا۔ امریکہ سے اس موقع پر اختلافات بڑھانے اور نئے مسائل کھڑے کرنے کے بجائے ہم اس کے افغانستان سے جانے تک دہشت گردی کے خلاف اس کے پارٹنر کا کردار ادا کرنے سے منحرف نہ ہوں تو اس طرح امریکہ اور یورپی طاقتیں دہشت گردی کے خلاف ہمارے ساتھ تعاون کریں گی، جس سے ہمیں اندرون ملک امن و امان کے مقاصد حاصل کرنے میں مدد ملے گی، جس کے بغیر ہم اپنے اقتضادی ترقی کے مقاصد حاصل نہیں کر سکتے۔

دہشت گردوں کی کارروائیوں میں اس وقت تک کمی ہونے کی کوئی توقع نہیں جب تک کہ ہم بھارت اور افغانستان سمیت دوسرے سب اہم ممالک سے اپنے تعلقات کو مثبت سمت نہیں دے لیتے۔ تعلقات کے سدھار میں سفارت کاری اور قریبی گہرے تعلقات میں تجارت کے فروغ اور عوام کے ایک دوسرے کے ملک میں آنے جانے کی سہولتوں کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔

اس پالیسی کی ہر صاحب نظر تحسین کرے گا کہ ہم اندرونی وقتی حالات کے درست ہونے کا انتظار کرنے کے بجائے مستعدی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اگر ہم بیرونی سرمایہ کاری اور تجارتی فروغ کے لئے باہمی سہولتوں پر توجہ دیں ، تو ہمارے یہ روابط ہمیں اندرونی اور بیرونی دونوں طرح سے مضبوط کرنے کا باعث ہوں گے اور ہماری اس مضبوطی کے سامنے اندرونی تخریبی قوتیں خود بخود دم توڑ جائیں گی۔ حالات پر قابو پانے اور امن و امان کی صورت حال بہتر کرنے کے بعد ہم اس پوزیشن میں ہوں گے کہ اپنے بارے میں منفی تاثر دور کر کے عوام کے آزادانہ ایک دوسرے کے ملک میں آنے جانے کی سہولتیں حاصل کر سکیں۔ یہی صورت کسی ملک کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اہم حیثیت رکھتی ہے۔ ای ، سی، او (تنظیم برائے اقتصادی تعاون) میں پاکستان ،ایران اور ترکی کے علاوہ وسط ایشیا کے بہت سے ممالک بھی شامل ہیں۔ افغانستان اور پاکستان میں امن قائم ہونے کے بعد اس پورے خطے میں زبردست اقتصادی سرگرمیاں شروع ہونے کی توقع ہے ،ایران اور ترکی کا راستہ ہمارے لئے اقتصادی خوشحالی کا راستہ ہے۔ ترکی کے ساتھ اپنے گہرے برادرانہ تعلقات کے سلسلے میں مفاہمتی یادداشتوں اور روڈ میپ تیار کرنے سے آگے تیزی سے بڑھنے کی ضرورت ہے تاکہ قوم اپنے برادر ملک سے باہمی تعاون اور تجارت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جلد خوشحالی کی منزل پر پہنچ سکے۔

مزید : اداریہ