پی ایس اوکومالی سال 12-13میں 10ارب روپے کا نقصان

پی ایس اوکومالی سال 12-13میں 10ارب روپے کا نقصان

  



اسلام آباد(اے پی اے )پاکستان سٹیٹ آئل میں بے ضابطگیوں، قواعد کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں اور انتظامی امور میں سیاسی مداخلت کی وجہ سے مالی سال 13-2012 میں قومی خزانے کو دس ارب روپے کا نقصان پہنچا۔آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اس نقصان کی نشان دہی اپنی سو صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ میں کی۔رپورٹ میں مالی بے ضابطگیوں کے ساتھ ساتھ درجنوں بے قاعدہ ترقیوں اور سینیئر انتظامی عہدوں پر تقرریوں کی بھی نشان دہی کی گئی، جن میں براہ راست وزیر اعظم سیکریٹریٹ اور دیگر بیرونی دباو¿ پر مینیجنگ ڈائریکٹر اور ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹرز کی تقریریاں بھی شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق، ادارے میں موجود سینیئر عہدے داروں کی ڈگریوں کی مشکوک انداز میں تصدیق کی گئی۔آڈٹ رپورٹ میں 480 ارب روپے کے گردشی قرضے کے تصفیے کا معاملہ تو شامل نہیں تاہم رپورٹ میں اس حوالے سے کئے جانے والے انتظامات پر اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔

صرف ایک کیس میں ایک پاور کمپنی سے واجبات کی عدم وصولی سے پی ایس او کو ایک ارب چالیس کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔اپنے جواب میں پی ایس او انتظامیہ نے اس بے ضابطگی کو چیلنج نہیں کیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس نقصان کی وجہ وزارت پانی و بجلی کی جانب سے آئی پی پیز - بالخصوص صبا پاور اور ساو¿تھرن الیکٹرک - کو ادھار پر فرنس تیل فراہم کرنے کی ہدایات تھیں۔انتظامیہ کا مزید کہنا تھا کہ وہ اس رقم کی وصولی کی کوششیں کر رہے ہیں۔رپورٹ میں ادارے کے ایک سابق ایم ڈی کو چون لاکھ روپے کی زائد ادائیگی اور ڈپٹی مینجنگ ڈائریکٹر برائے فنانس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی خلاف ضابطہ تقرری کا حوالہ بھی شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق، پی ایس او میں ترقیوں اور تقرریوں کے لیے وزراءاور وزیر اعظم سیکریٹریٹ سے انتہائی سنجیدہ نوعیت کے بیرونی دباو¿ آتے رہے۔بعض کیسوں میں افسران نے فائلز پر احتجاجی نوٹ تک تحریر کیے لیکن انہیں جواب میں سیاسی مطالبات کا سامنا کرنا پڑا۔آڈٹ رپورٹ نے قیمتوں میں واضح فرق کے باوجود کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کو قدرتی گیس کے نرخوں پر فرنس آئل کی فراہمی کے نتیجے میں انتیس لاکھ روپوں کے بلاک ہونے کا ذکر کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق، پی ایس او کے کچھ ملازمین کو 541 ملین روپوں کی غیر منصفانہ پنشن ادا کی گئی۔پی ایس او کو موجودہ سال ایک ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر کو زائد ادائیگیوں کی وجہ سے ایک کروڑ اسی لاکھ روپے جبکہ ایک غیر شفاف کانٹریکٹ دینے پر ایک کروڑ دس لاکھ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایک مینیجنگ ڈائریکٹر کی جانب سے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کے دفاع کے لیے ایک وکیل کی غیر قانونی تقرری کی گئی۔اسی طرح قومی خزانے کو اس وقت مزید ایک ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا جب مقامی طور پر خریدے گئے ہائی سپیڈ ڈیزل پر بے قاعدہ امپورٹ ڈیوٹی عائد کی گئی

مزید : کامرس


loading...