با ئیوماس انرجی پراجیکٹس توانائی کے حصول میں معاون ثابت ہونگے

با ئیوماس انرجی پراجیکٹس توانائی کے حصول میں معاون ثابت ہونگے

  



لاہور(کامرس رپورٹر)پنجاب حکومت کے با ئیوماس انرجی پراجیکٹس فصلوں کی باقیات کے کارآمد استعما ل اور توانائی کے حصول میں معاون ثابت ہوں گے۔ یہ بات صوبائی وزیر زراعت ڈاکٹر فرخ جاوید نے انڈین وفد کے بائیو ماس انرجی ماہرین سے گفتگو کے دوران بتائی۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے انڈین پنجاب کے دورے اور مختلف بائیو ماس انرجی پراجیکٹس کے معائنے کے بعد بائیو ماس انرجی کے انڈین ماہرین کو پاکستان آنے کی خصوصی دعوت دی گئی تاکہ ان کے تجربات سے استفادہ حاصل کیا جا سکے۔ انڈین وفد میں ڈائریکٹرانڈین پنجاب انرجی ڈویلپپمنٹ ایجنسی بلور سنگھ، پون پیرسنگھ ،مسٹر سکھبیر سنگھ آولا، پرممبن سنگھ رومانا، کنور جیت سنگھ اور ہارش آولا شامل ہیں۔ وفد اور محکمہ زراعت کے زرعی ماہرین کے درمیان اجلاسوںاور معلوماتی دوروں کا سلسلہ جاری ہے۔ وفد نے محکمہ زراعت کی زیر نگرانی لاہور میں ایک نجی بائیو ماس پاور پلانٹ کا دورہ بھی کیا۔ اس موقع پر وزیر زراعت نے انڈین وفد کو بتایاکہ پنجاب حکومت بائیوماس کے بھرپور استعمال کے لئے صوبہ میں مختلف پلانٹس لگانے کا ارادہ رکھتی ہے۔جس کے لئے ابتدائی سروے اور بائیوماس کے تخمینہ کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ وزیر زراعت نے کہا کہ ابتدائی طور پر62میگاواٹ بجلی کی پیدا واری صلاحیت کے مختلف منصوبے شروع کئے جا رہے ہیںجن کے تحت ملتان میں 20میگاواٹ ، کالا شاہ کاکو میں 20میگاواٹ، فیصل آباد میں 10میگاواٹ، رحیم یار خان میں 10میگاواٹ جبکہ ڈسکہ میں 2میگاواٹ کے بائیوماس پاور جنریشن پلانٹ لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ صوبہ میں کپاس، گندم، دھان ، مکئی و دیگر فصلوں کے 10.942ملین ٹن کے بائیوماس سے 1277میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے ۔ ڈاکٹر فرخ جاوید نے کہا کہ پنجاب حکومت کی کسان دوست پالیسیوں کا تسلسل جاری ہے۔ وزیراعلیٰ کی انڈیا سے بائیوماس انرجی ماہرین کو دورے کی دعوت سے توانائی بحران کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔تونائی بحران کے خاتمے سے کاشتکاروں کو فائدہ ہو گا۔

مزید : کامرس


loading...