پروین شاکر کو مداحوں سے بچھڑے 19اور منیرنیازی کو سات سال بیت گئے

پروین شاکر کو مداحوں سے بچھڑے 19اور منیرنیازی کو سات سال بیت گئے
پروین شاکر کو مداحوں سے بچھڑے 19اور منیرنیازی کو سات سال بیت گئے

  



اسلام آباد،لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) نامور شاعرہ پروین شاکر کو مداحوں سے بچھڑے انیس سال اور بے باک شاعر منیر نیازی کے انتقال کوسات سال بیت گئے ہیں ۔ چوبیس نومبر 1954 ءکو کراچی میں پیدا ہونے والی پروین شاکر کی شاعری میں احساس کی جو شدت ہے وہ ان کی ہم عصر شاعرات کے کلام میں نہیں۔ اسی انفرادیت نے پروین شاکر کو بہت کم عرصے میں شہرت کی ان بلندیوں پر پہنچا دیا جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہیں۔ خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکار اور ماہ تمام جیسے شعری مجموعے پروین شاکر کی شناخت بن گئے۔ جامعہ کراچی سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے والی پروین شاکر نے درس و تدریس سے پیشہ وارانہ کیریئر کا آغاز کیا۔ 1986ء میں وہ کسٹم ڈیپارٹمنٹ میں سیکنڈ سیکرٹری بن گئیںاور26 دسمبر 1994 ءکو ایک حادثے کے نتیجے میں شاعری میں محبت کو موضوع بنانے والی پروین شاکر اپنے چاہنے والوں کو روتا چھوڑ گئیں۔ دوسری طرف اردو اور پنجابی ادب کو نیا اسلوب عطا کرنے والے بے باک شاعر منیر نیازی کے انتقال کو 7 برس بیت گئے لیکن آج بھی منیر نیازی اپنے مداحوں میں زندہ ہیں۔منیر نیازی نے جنگل، ہوا، شام اور دھند جیسی علامات سے انسانی جذبات کی ترجمانی کی، تخلیق کا منفرد اسلوب اور انداز بیان کی بے نیازی اردو ادب میں صرف منیر نیازی کا خاصہ ہے۔منیر نیازی بیک وقت شاعر، ادیب اور صحافی تھے، انکا بلند پایہ کلام کبھی کسی نظرئیے کے زیر اثر نہیں رہا، اس کے علاوہ منیر نیازی نے اپنی غزلوں سے سلور سکرین پر بھی ہجر و وصال کے جذبات کی ترجمانی باکمال انداز میں کی۔منیر نیازی کا تخلیقی سرمایہ 13 اردو اور 3 پنجابی مجموعوں پر محیط ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس