قا نون کہاں ہے؟

قا نون کہاں ہے؟
 قا نون کہاں ہے؟

  


جمہوریت کا پیمانہ تو قانون کی حکمرا نی بھی ہے!۔۔۔ مگر ہمارے ملک میں مدتوں سے جمہوریت بھی ہے، پیمانہ بھی ہے اور حکمرانی بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے، مگر جس دن اس ملک میں با قی بلو چ کے ساتھ ضمیر کو گولی مار دی گئی تھی، اس دن سے قانون بھی اپنا توازن کھو چکا ہے۔ اپنی اصلی حالت میں قانون نے اس ملک میں ایک بھی دن نہیں گزارا، مدت ہوئی ہے اجتماعی اور قومی ضمیر کے ساتھ قانون بھی لاپتہ ہوچکا ہے۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر انتہائی جمہوریت پسند (اسٹیبلشمنٹ کے بڑ ے مخالف) ہیں۔ بزرگِ موصوف نے تازہ شرارت میں چیئرمین سینٹ کے نظریہ جمہورت کا امتحان لینے کے لئے سوال اٹھایا کہ آرمی چیف ایرانی صدر اور اعلیٰ ترین سیاسی قیادت سے مل کر آئے ہیں تو کون ایون کو بتائے گا کہ دورے کے اصل مقاصد کیا تھے؟۔۔۔چیئرمین سینٹ نے بھی کچی گولیاں نہیں کھیلیں، فوری کہا کہ میں نے لاپتہ ہونا ہے کہ اس شجر ممنوعہ کی طرف اگر ہاتھ بھی بڑھاؤں! مگر صورت حال اس کے برعکس ہوگئی، جب آرمی چیف اور عسکری قیادت نے سینیٹ میں اراکین سینٹ کو قومی سلامتی پر بریفنگ دی۔ خارجہ پالیسی اور دہشت گردی کے خلاف فوج کے لیڈنگ کردار پر نظر رکھنے والوں کو بریفنگ کی اصل وجہ سمجھ نہیں آرہی، آیا کہ نئی امریکی قومی سلامتی کے بعد سویلین کے پاس فوج آئی ہے یا رضا ربانی اور فرحت اللہ بابر کے درمیان نوک جھونک کا کمال ہے۔۔۔ بہرحال یہ بہت باریک لطیفہ ہے اور اپنے اِردگرد قانون ڈھونڈنے کی دعوت عمل دے رہا ہے۔ آئے روز جمہوریت پسند اور آزادئ اظہار رائے کے لئے سرگرم کارکن غائب ہو رہے ہیں اور چیئرمین سینیٹ بھی ڈر رہے ہیں تو ہمیں سمجھنا پڑے گا کہ خطرہ اس مقام تک پہنچ چکا ہے، جہاں سے ملک کی نظریاتی سرحدوں کو بھی خطرہ درپیش ہے۔ اب اس ساری بات میں قانون کہاں ہے؟ اجتماعی ضمیر کے ساتھ قانون کہیں مل جائے تو ہمیں بھی مطلع فرمائیں!

سینیٹ کی دفاعی کمیٹی نے کچھ عرصہ پہلے فوج سے دہشت گردی کے امور پر بریفنگ لینے کا پلان بنایا تو فوج نے یہ جواب دیا کہ معاملہ نہایت سنگین ہے، جس نے بریفنگ لینی ہے، وہ جی ایچ کیو آجائے، پار لیمنٹ تک آتے ہوئے اس معاملہ کو شدید خطرات پیش آسکتے ہیں۔

ضرور پڑھیں: ایک اورکاوش!!!

اس خبر میں احتیاط ہے، سکریسی ہے، صورت حال کی نزاکت کا احساس بھی ہے، سب کچھ ہے، مگر قانون کہاں ہے؟’’بابا‘‘ نے اپنا آپ پوری قوم کو فیصلوں کے ذریعے دکھا دیا ہے، دباؤ کا تاثر بھی مسترد کر دیا ہے اور ناموافق فیصلوں پر نکتہ چینی کے رجحان کی خوب خبر لی ہے، مگر اچھا ہوتا چیف جسٹس اس ساری گفتگو کو آف دی ریکارڈ قرار دے دیتے اور معاملہ میڈیا میں نہ اچھلتا، کیونکہ ہم نے تو سن رکھا ہے کہ ججز خود نہیں ان کے فیصلے بولتے ہیں، اب پاکستان میں کوئی یہ بحث آگے بڑھائے گا کہ قانون سیاسی مقدمات میں لب کشائی کی اجازت دیتا ہے؟ اگر دیتا ہے تو کس حد تک؟

اس معاملے سے جڑے کچھ ٹویٹ آئے، جن میں بابے کو براہ راست مخاطب کرکے پوچھا گیا کہ کیا آپ کے بابے نے واٹس ایپ کالز بھی کیں؟ معصومانہ سوال کرنے والی بھول گئیں کہ اس بابے کو ان کے انکل ٹیلی فون کال پر من پسند سزائیں سنانے کی فرمائشیں کرتے پائے گئے تھے، اس سارے معاملے میں قانون کے ساتھ کب،کس نے، کیسے کھیلواڑ کیا؟ لکھنے کا مطلب محض صفحے کالے کرنا ہے، ورنہ لوگ خوب جانتے ہیں۔

ملک میں الیکٹرونک میڈیا کے جد امجد سنگین غداری کیس میں کمر درد کا بہانہ بناکر ملک سے چلے گئے، ملک کے وزیر خزانہ بیمار ہوکر ملک سے تقریباً فرار ہیں، اشتہاری کا اعزاز پاکر انٹر پول کے ریڈ وارنٹ ان کا پیچھا کرنے کو تیار ہیں۔ وزیر اعظم نااہل ہوکر نظریہ بن چکے ہیں۔

منی لانڈرنگ کا پرانا حوالہ حدیبیہ کیس کھل کر بند بھی ہوچکا ہے اور عدالتیں آرٹیکل 184/3 کے تحت سیاسی دلدل میں کمر تک دھنس چکی ہیں، تو ان تمام معاملات میں قانون کے علاوہ سب کچھ موجودہے۔

نواز شریف نظریہ کے لئے میدان عمل میں آکھڑے ہوئے ہیں۔ اس نظریے پر کافی نقدونظر ہو رہی ہے اور اس کی تشریح سیاسی سمجھ بوجھ رکھنے والے لوگ اپنے اپنے انداز میں کر رہے ہیں، مگر یہ بھول رہے ہیں کہ انداز اپنا اپنا۔۔۔

میاں صاحب اپنے انداز حکمرانی و سیاست سے جلنے والوں کا منہ مزید کالا کرنے کے لئے ووٹ کے تقدس اور حرمت کے لئے ایک بار پھر اپوزیشن کا رول سنبھال چکے ہیں، کیونکہ یہ ایک ایسا بھاری پتھر ہے، جو میاں صاحب ہمیشہ اقتدار سے باہر نکلنے کے بعد اٹھاتے ہیں، اپوزیشن کا نواز شریف میموگیٹ پر فوج کے اشارے پر عدالت میں فریق بن جاتا ہے اور جب نواز شریف اقتدار میں آجائے تو ڈان لیکس کے ذریعے حملہ آور ہوتا ہے، میاں جی نے چار سال ناکام خارجہ پالیسی دی اور وزیر خارجہ تک سے محروم رکھا، مگر ان کے ناقدین یہ مت سمجھیں کہ اس سے ووٹ کا تقدس مجروح ہوا! ووٹ لینے کے بعد اگر کوئی حاکم بن جائے تو’’تمہیں کیا‘‘ جو جی میں آئے کرتے پھریں! ہر بیرونی دورے کا اختتام اگرلندن جاکر ہوتا تھا تو اس میں جلنے اور منہ کڑوا کرنے کی کیا ضرورت ہے؟

میاں صاحب اگر اپوزیشن میں ہوں تو ہوں، چیئرمین اوگرا توقیر کی تقرری اور او جی ڈی سی میں عدنان خواجہ کی تقرری پر خوب شور مچاتے ہیں، مگر اپنے اقتدار کی سکھا شاہی میں سب جائز ہے اور اگر بابا رحمت کا کوئی فیصلہ ان پر برق بن کر گرا ہے توقانون کی خیر نہیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...