بروقت عام انتخابات، بہتر نظام جمہوریت

بروقت عام انتخابات، بہتر نظام جمہوریت
 بروقت عام انتخابات، بہتر نظام جمہوریت

  


ملک میں نظام جمہوریت کے پُرامن تسلسل، سیاسی استحکام اور تعمیر و ترقی کے منصوبے جاری رہنے کے معاملات پر یہاں کے بیشتر سیاسی رہنما آئے دن اس خواہش پر مبنی اپنے مطالبات کا اعادہ کرتے رہتے ہیں۔

سیاسی نظام کو رواں رکھنے کے مسلمہ طریقوں، آئین، قانون، انصاف اور جمہوری اصول و اقدار پر خلوص نیت سے عمل کرنا ہر محب وطن اور ذمہ دار رہنما کے ساتھ، سیاسی کارکنوں اور عام لوگوں کی بھی بڑی اہم قومی ذمہ داری ہے۔ اس معاملے میں اگر کسی بد نیتی، بددیانتی اور چالبازی کو ترجیح دے کر اس پر اصرار کیا جائے، تو ایسا سوچنے، لوگوں کو راغب کرنے اور عمل درآمد پر، حتیٰ المقدور تگ و دو کرنے کی کارروائی، بلا شبہ غیر قانونی، غیر جمہوری اور نا مناسب قرار دی جا سکتی ہے۔

ظاہر ہے کہ ایسی منصوبہ سازی کرنے والے حضرات کے بارے میں یہ کہنا بجا لگتا ہے کہ وہ دانستہ طور پر آئین و قانون سے رو گردانی کی روش کو اختیار کرتے ہیں۔ قومی مفاد کا تقاضا یہ ہے کہ اپنے بعض مخصوص مفادات اور مخالفانہ حرکات کی اختراع سے لاکھوں اور کروڑوں لوگوں کے مسائل و مشکلات میں، اضافہ نہ کیا جائے۔متعلقہ قوانین اور اصولوں کا مہذب معاشروں کی طرح احترام کرتے ہوئے ان پر عمل کرنے کی ممکنہ کوششیں بروئے کار لانا ہی بہتر اندازِ کار ہے۔

اگر آج ایک سیاسی جماعت یا اتحاد برسر اقتدار ہے، تو کل دنیاوی خوش نصیبی کا یہ مرتبہکسی اورر سیاسی اتحاد کو بھی میسر آ سکتا ہے، ہر وقت بدلتے معمول حیات میں یہ امکان بھی یاد رہے کہ جو لوگ محض دوسروں کے لئے گڑھے کھودنے میں فخر محسوس کرتے ہیں، وہ خود بھی جلد یا بدیر اکثر ایسے ہی نتائج کے شکار ہو جاتے ہیں۔

فاٹاکے بارے میں چند روزقبل تک سیاسی جماعتوں کے مابین خاصی تلخ اور تنقیدی بیان بازی دیکھنے میں آتی رہی۔ ان علاقوں کو صوبہ خیبرپختونخوا میں شامل کرنے کی بھی کافی حمایت کی جا ری ہے، جبکہ بعض لوگ تجویز سے اختلاف رائے کرتے ہوئے وہاں کے تمام لوگوں کی خواہش پر ریفرنڈم کے انعقاد کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔

موجودہ وفاقی حکومت کے دورِ اقتدار کا چھ ماہ سے بھی کم کا عرصہ باقی رہ گیا ہے جس کے بعد قومی اسمبلی کے اراکین کے انتخاب کا مرحلہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پروگرام کے مطابق ملک بھر میں شروع ہو سکتا ہے۔ چاروں صوبوں کے اراکین کا انتخاب بھی اسی روز کیا جاتا رہا ہے، لہٰذا انتخابی مہم آئندہ چند ماہ کے دوران روایتی زور و شور سے چلنے کا امکان ہے۔

بعض مفاد پرست عناصر، ٹیکنو کریٹ عبوری حکومت کے قیام کا مطالبہ دہراتے رہتے ہیں، ایسا مطالبہ چونکہ سراسر غیر آئینی ہے، اس لئے جمہوریت کے فروغ اور تقویت کے لئے یہ رجحان جلد ختم اور ترک کرنا ضروری ہے، کیونکہ سیاسی امور آئین اور متعلقہ قوانین کے تحت ہی جاری رکھے جاسکتے ہیں۔

آرمی چیف کے ایک حالیہ بیان کے مطابق سیاسی سرگرمیوں میں غیر جمہوری حضرات کسی انداز کی مداخلت کرنے سے گریز کریں۔۔۔ اگر واقعی ایسا ہو جائے تو پھر یہ جمہوری نظام، عوامی منتخب نمائندوں کے آزادانہ اور منصفانہ انداز سے انتخاب کے بعد مزید مستحکم ہو سکتا ہے۔

نیز کسی امپائر کی انگلی کھڑی کرنے کے مطالبات اور امکانات بھی جلد دم توڑ سکتے ہیں۔ سیاسی سطح پر ایک اور اہم مسئلہ گزشتہ چند ہفتوں سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان زیر بحث تھا،جوحالیہ مردم شماری کے مطابق، نئی حلقہ بندیوں پر، سینٹ میں آئینی ترمیم کے حوالے سے تھا۔جو اتفاق رائے سے منظور ہوچکی ہے۔

یاد رہے کہ ملک بھر میں، کئی سال کی آئینی تاخیر کے بعد، مارچ سے مئی 2017ء کے دوران خانہ شماری اور مردم شماری کرائی گئی۔ اس عمل میں پاک فوج کے افسران اور جوان بھی شامل کئے گئے تھے۔ اس کارکردگی پر اعتراضات بعد میں یا آج کل کرنا مناسب نہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے اعتراضات مردم شماری کے دوران یا جلد بعد کئے جاتے،تاکہ بروقت اس کا سدباب کرلیا جاتا۔ اب موجودہ مردم شماری کے مطابق صوبہ پنجاب میں قومی اسمبلی کی 9 (نو) نشستیں کم ہو گئی ہیں۔ وہ خیبرپختونخوا، بلوچستان اور اسلام آباد میں منتقل کر کے بڑھا دی گئی ہیں۔

اہل پنجاب کی اس عالی ظرفی سے فیض یاب ہونے والے علاقوں کے راہنماؤں نے شکریہ تک ادا نہیں کیا۔ مندرجہ بالا امور کے علاوہ بھی یہاں کے سیاست کار حضرات کو اگر باہمی اختلافات پر مبنی، بعض دیگر معاملات، تا حال، زیر غور لانے کی ضرورت لاحق ہو، تو وہ بھی آئین، قانون اور جمہوری اصولوں کی حدود میں رہ کر ہی حل کر لئے جائیں۔

الیکشن کمیشن ایک خود مختار ادارہ ہے جو تمام ملک میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر انتخابات کے انتظامات کرنے اور ان کو مقررہ اوقات میں عملی طور پر منعقد کرانے کا ذمہ دار ہے۔

سیاسی راہنماؤں کو قومی مفاد کو ترجیح دے کر باہمی مذاکرات میں کوئی ایسی شرط یا پابندی عائد کرنے پر سخت یا غیر لچک دار موقف اختیار نہیں کرنا چاہئے جس پر قومی اور بین الاقوامی سطحوں پر ملکی وقار و مقام پر کوئی حرف گیری ہو سکے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان ایک بڑا اسلامی جمہوری اور ایٹمی ملک ہے۔

ہمیں اس کی شاندار اقدار اور درخشاں روایات پر فخر و نازکرنا چاہئے۔ اگر ہم اپنے آئین و قوانین پر عمل کرنے سے چشم پوشی اور پہلوتہی کرنے کے حیلے اور بہانے تراش کر اپنی عظیم قوم کا مزید قیمتی وقت ضائع کرنے کی منفی ڈگر پر ہی چلتے رہے تو دیگر ممالک کی تیز رفتار ترقی کے مقابلے میں ہم بد قسمتی سے پسماندگی اور تاریکی کی مشکل راہوں میں الجھتے اور بھٹکتے رہ سکتے ہیں۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم جوش سے آزاد ہو کر ہوش سے کام لیں۔ اپنے فروعی اختلافات، نفرتوں اور کدورتوں کو خیر باد کہہ کر احکام الٰہی سے روشنی اور رہنمائی حاصل کریں۔ فرقہ بندی، لسانی اور علاقائی تعصبات کو فراموش کر کے مخلص انسان اور سچے مسلمان بن جائیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ اپنی مدد سے ہمیں کامیابیاں اور کامرانیاں عطا فرمائیں گے۔

مزید : رائے /کالم


loading...