چھ ملکوں کی طرف سے داعش کے مقابلے کا عزم

چھ ملکوں کی طرف سے داعش کے مقابلے کا عزم

پاکستان، چین، روس، ترکی، ایران اور افغانستان کی پارلیمانوں کے سپیکروں نے داعش کو مشترکہ خطرہ قرار دیتے ہوئے اس سے مل کر نپٹنے پر اتفاق کیا ہے سپیکرز کانفرنس میں علاقائی سالمیت کے تحفظ کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا ہے پاکستان اور بھارت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل نکالیں مسئلہ کشمیر کو حل کئے بغیر خطے پر جنگ کا خطرہ ختم نہیں کیا جا سکتا افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ممنون حسین کا کہنا تھا کہ دہشت گردی پوری دنیا کا مشترکہ مسئلہ ہے، پاکستان کے اقدامات سے دہشت گردی کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کے فروغ میں بیرونی طاقتیں ملوث ہیں، کانفرنس سے خطاب میں چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ امریکہ اپنے ہتھیاروں کی فروخت اور دوسرے ملکوں کے قدرتی وسائل پر قبضہ کرنے کے لئے تنازعات کو ہوا دے رہا ہے یہی وجہ ہے کہ آج مشرقِ وسطیٰ اور خطے میں دہشت گردی، فرقہ واریت اور لسانی بنیادوں پر مسائل کا سامنا ہے بدلتی صورتِ حال کے پیش نظر ضروری ہے کہ ایشیائی قیادت سر جوڑ کر بیٹھے اور مسائل کا حل خود ہی ڈھونڈے امریکہ بھارت کو علاقے کا تھانیدار بنا رہا ہے جو ہمیں کسی صورت بھی قابل قبول نہیں۔

جن چھ ملکوں کے پارلیمانی سپیکروں کی کانفرنس کا انعقاد اسلام آباد میں ہوا یہ سب آپس میں مربوط ہیں اور کئی ایک علاقائی تعاون کی تنظیموں میں بھی اکٹھے ہیں ان چھ میں سے تین ایٹمی طاقتیں ہیں اور اگر یہ ملک دہشت گردی کے خلاف متحدہ اقدامات کریں تو بڑی آسانی سے اس کا قلع قمع کر سکتے ہیں۔ وسیع آبادی کی وجہ سے یہ ایک بڑا بلاک بننے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں، روس اور چین نہ صرف بین الاقوامی اور علاقائی طاقتیں ہیں بلکہ عالمی امور میں ایک موثر اور جاندار آواز ہیں۔ جس فورم پر یہ دونوں ملک اکٹھے ہوں اس کی افادیت میں کیا کلام ہو سکتا ہے چین روس اور پاکستان افغانستان میں استحکام پیدا کرنے کے لئے بھی کوشاں ہیں، انہیں ادراک ہو گیا ہے کہ امن و استحکام میں علاقے کے ملکوں کو جتنی دلچسپی ہو سکتی ہے باہر سے آنے والے کسی ملک کو نہیں ہو سکتی۔

داعش نے اپنی تشکیل کے بعد شام اور عراق میں جو کامیابیاں حاصل کی تھیں اور ان دونوں ملکوں کے معدنی وسائل پر قبضہ کر کے ان کا جو استعمال دہشت گردی کے فروغ کے لئے شروع کر رکھا تھا اب اس کا دَور لد گیا ہے اس کی پسپائی کا عمل تو کئی ماہ پہلے ہی شروع ہو گیا تھا اب مکمل شکست ہو گئی ہے اس لئے یہ اپنی تتر بتر ہونے والی قوت کو افغانستان میں ٹھکانے بنا کر مجتمع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اگر یہ چھ ملک مل کر افغانستان میں اس کے قدم نہ جمنے دیں تو کسی دوسرے علاقے میں اس کے ٹھکانے آسانی سے نہیں بن سکتے، شام اور عراق میں داعش نے جو تباہی و بربادی پھیلائی ہوئی تھی اب وہاں اس کا باب مکمل طور پر بند ہو چکا ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ اس نڈھال قوت کو جس کا سب سے بڑا ہتھیار دہشت گردی رہا ہے خطے کے کسی ملک میں مضبوط ہونے سے پہلے ہی اس پر کاری وار کر کے اس کا خاتمہ کر دیا جائے افغانستان میں دہشت گردی کی جو وارداتیں حالیہ مہینوں میں ہوتی رہی ہیں اور جن میں بڑی تعداد میں جانی نقصان ہوا ہے اس کے ذریعے داعش نے اپنا وجود ثابت کرنے کی کوشش کی تھی،کہا جاتا ہے کئی دہشت گرد گروپ اس کے نیچے جمع ہورہے ہیں امریکی اور نیٹو افواج نے ان کے خلاف موثر کارروائی نہیں کی اور افغان افواج بھی بظاہر اس کے قدم روکنے میں ناکام نظر آئیں ان حالات میں چھ ملکوں کا دہشت گردی کے خلاف نیا اور متحدہ عزم روشنی کی ایک کرن ہے جس پر عمل کر کے خطے کو دہشت گردی سے پاک کیا جا سکتا ہے۔

دہشت گردی پوری دنیا کا مسئلہ بن چکی ہے اور اس کا مقابلہ بھی کسی نہ کسی انداز میں کیا جا رہا ہے لیکن پاکستان نے جس انداز میں اس کے خاتمے کی جدوجہد کی ہے سپیکرز کانفرنس میں اسے تحسین کی نگاہ سے دیکھا گیا، روس نے تو پاکستان سے مل کر دہشت گردی کے خلاف دو مشقیں بھی کی ہیں اور عالمی کانفرنسوں میں ڈنکے کی چوٹ پر یہ بات کہی ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے مقابلے کے لئے موثر حکمتِ عملی اپنائی ہے امرتسر کانفرنس میں جب بھارت نے پاکستان کے خلاف یہ شور مچایا کہ وہ ریاستی سطح پر دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے تو روسی مندوب نے کھل کر پاکستان کی حمایت کی اور کہا کہ ان کے ملک نے ابھی چند روز پہلے ہی پاکستان سے مل کر مشقیں کی ہیں اور اس ضمن میں پاکستان کا کردار قابلِ تعریف پایا ہے۔ نریندر مودی اس کانفرنس میں موجود تھے جنہیں کھسیانا ہو کر کہنا پڑا کہ پرانے دوست نئے دوست سے اچھے ہوتے ہیں اب ایک بار پھر روس نے اس سلسلے میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی۔

پاکستان کے اندر اس وقت جو دہشت گردی ہو رہی ہے اس میں بھارت کے کردار کو کسی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جو افغان سرزمین استعمال کر کے پاکستان کے اندر تربیت یافتہ دہشت گرد بھیج رہا ہے۔ صدر مملکت نے اپنے خطاب میں جن غیر ملکی طاقتوں کا ذکر کیا ہے ان میں بھارت ہی نمایاں ہے۔ افغان سرزمین پر بھی وہ دہشت گرد موجود ہیں جو طورخم یا چمن کے راستے پاکستان میں داخل ہو کر کارروائیاں کرتے ہیں افغانستان کی توجہ اس جانب دلائی جاتی رہی ہے اور توقع ہے کہ حکام افغان سپیکر کی پاکستان میں موجودگی کا فائدہ اٹھا کر یہ مسئلہ ان کے علم میں بھی لائے ہوں گے اگر افغانستان باقی ملکوں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف اپنا کردار ادا کرتا ہے تو اس کا نہ صرف پورے خطے کو فائدہ پہنچے گا بلکہ افغانستان خصوصی طور پر استحکام کے میدان میں قدم رکھ پائے گا جس کے لئے پاکستان، چین اور روس کے ساتھ مل کر پہلے ہی کوشاں ہے کشمیر کا مسئلہ ایسا ہے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی بنیادی وجہ ہے کانفرنس نے دونوں ملکوں پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کے ذریعے یہ مسئلہ حل کر لیں، اصولی طور پر یہ بات درست ہے لیکن بھارت مذاکرات سے مسلسل گریز کی پالیسی پر گامزن ہے۔ روس یا چین اگر اس سلسلے میں کوئی بڑا کردار ادا کریں تو شاید بھارت کو یہ بات سمجھانے کے قابل ہو سکیں کہ مذاکرات سے ہی کشیدگی کا خاتمہ ممکن ہے بصورت دیگر پورے خطے کا امن داؤ پر لگا رہے گا۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...