انصاف کا جنازہ

انصاف کا جنازہ
 انصاف کا جنازہ

  


کراچی کے سیشن جج جنوبی نے شاہ زیب قتل کیس کے ملزم شاہ رخ جتوئی اور دیگر ملزمان کی ضمانت منظور کرلی۔عدالت نے تمام ملزمان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ملزمان کو 5، 5 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ۔

عدالت میں موجود ایک وکیل نے فوری طور پر نقد رقم کی صورت میں جمع کرا دی تھی ۔شاہ رخ جتوئی کی غیر قانونی اسلحے کے کیس میں بھی ضمانت منظورکرلی گئی۔ عدالت کے فیصلے کے بعد 24 دسمبر 12کے قاتلوں کو 23 د سمبر 17 کو ضمانت پر رہائی کا حکم مل گیا۔

ملزمان کو کسی قسم کی ندامت نہیں ہے بلکہ شاہ رخ تو رہائی کے موقع پر وکٹری کا نشان بناتے ہوئے ہسپتال سے باہر آئے۔ مبینہ قاتلوں کے گھر والوں کے لئے بھی انتہائی خوشی کا موقع ہے۔

بیس سالہ مقتول شاہ زیب اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔ مقدمہ کی ازسر نو سماعت میں مقتول شا ہ زیب کے والد نے صلح سے متعلق حلف نامہ جمع کرایا تھا۔ اورنگزیب خان محکمہ پولیس میں ڈی ایس پی کے عہدے پر کام کرتے ہیں۔

انہوں نے عدالت میں بیان دیا کہ بیٹے کے قتل کے بعد ملزمان کے اہلخانہ سے صلح ہوگئی تھی ،قاتلوں کو اللہ کی رضا کے لیے معاف کیا۔ اس معافی کے باوجود مقتول کے والدین کو اپنے جوان سال اکلوتے بیٹے کی موت کا قلق تو زندگی بھر رہے گا۔

دولت مند لوگوں کے بیٹے جو چاہیں کریں، قانون میں ایسی گنجائش ڈھونڈ لی جاتی ہے کہ وہ اپنے کئے کی سزا سے محفوظ رہتے ہیں۔ ایک نہیں، کئی مقدمات ابھی بھی زیر سماعت ہیں جن میں یہ لوگ سزاؤں سے ہنوز محفوظ ہیں۔ مصطفے کانجو کیس، مجید اچکزئی کیس بھی ہمارے سامنے ہیں۔

سابق وزیر مملکت صدیق کانجو کے بیٹے مصطفیٰ کانجو نے موٹر سائیکل سوار نوجوان طالب علم زین کو صرف اس وجہ سے قتل کر دیا تھا کہ زین اس کی گاڑٰ ی کے سامنے آگیا تھا۔ 12 اپریل 2015ء کو پیش آنے والے اس واقعہ میں زین کو ایک گولی لگی تھی اور زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے اس کی موت واقعہ ہو گئی تھی۔

کوئٹہ میں صوبائی اسمبلی کے رکن اور خانوادہ اچک زئی کے مجید اچک زئی نے دن دھاڑے ڈیوٹی دینے والے سڑک موجودپولیس اہل کار کو کچل دیا تھا۔ سپاہی کی موت کے بعد ان کے گھر والوں سے مصالحت کے لئے رجوع کیا گیا، ان کے بیٹے اور بیوہ نے انکار کر دیا۔ ایسے واقعات پر لوگ خصوصا نوجوان سوشل میڈیا پر اپنے غصے کا ا ظہار کر لیتے ہیں۔

کانجو کیس کے بارے میں اس طرح کے تبصرے پڑھنے کو ملتے ہیں۔ ’’کب ہو گا پاکستان کا نظام ٹھیک۔ یہ بد دیانت سیاستدانوں کی بگڑی ہوئی اولاد لوگوں کے گھروں کے چراغ گل کرتی رہے گی ۔ بے شرم بگڑی ہوئی سیاسی مافیا کی اولاد ‘‘ ۔ ’

’یہ حرام کے مال پر پلی ہوئی اولاد ہے، ان کے کرتوت ہی بیان کرتے ہیں کہ ان کے والدین نے ان کی پرورش لوٹ مار سے کمائے مالِ حرام پر کی تھی‘‘ ’’وہی ہو گا جو شاہ زیب کیس میں ہوا ، انصاف کہتا ہے اسے پھانسی ہو لیکن ایسا نہیں ہو گا کیونکہ مرنے والا عام آدمی کا بچہ تھا ‘‘۔

شاہ زیب قتل کیس پر کراچی میں نوجوانوں نے قاتلوں کے خلاف کارروائی کے لئے مظاہرے کئے تھے۔ واقعہ کا پس منظر تکلیف دہ تھا۔ شادی کی ایک تقریب سے واپسی پر شاہ زیب کی نوجوان بہن نے اپنی ماں سے شکایت کی کہ لاشاری نے اسے تنگ کیا ہے اور بدتمیزی کی ہے۔

غلام مرتضے لاشاری نواب امداد علی تالپور کے گھر پر باورچی کی حیثیت سے کام کرتا تھا۔ جب شاہ زیب کو واقعہ کا علم ہوا تو اس کی لاشاری سے منہ ماری ہوگئی جس پر شاہ زیب کی والدہ نے دونو ں کے درمیاں معافی تلافی کرائی لیکن نواب امداد کے بیٹے سراج اور سجاد صلح کے لئے تیار نہیں تھے بلکہ ان کا مطالبہ تھا کہ لاشاری شاہ زیب کے منہ پر چانٹہ مارے گا۔ اس پر شاہ زیب کی والدہ نے اپنے بیٹے کو موقع سے چلے جانے کے لئے کہا۔

وہ چلا گیا۔ تالپور برادران نے شاہ رخ جتوئی کے ساتھ شاہ زیب کا پیچھا کیا۔ مقتول کے دو دوستوں محمد شاہ اور محمد احمد زبیری، نے اپنے عدالتی بیان میں بتایا تھا کہ شاہ رخ نے پستول نکالا اور شاہ زیب پر فائر کیا۔ جب گولی لگنے کے بعد شاہ زیب تڑپنے لگا تو سجاد تالپور اور لاشاری اس کی کار کے قریب گئے اور انہوں نے شاہ رخ سے کہا کہ یہ ابھی زندہ ہے۔ شاہ رخ نے شاہ زیب کو اور گولیاں ماریں اور وہ ہلاک ہوگیا۔

شاہ رخ سکندر جتوئی کا چہیتا بیٹا ہے۔ دولت مند پاب کے بیٹے نے جیل میں جس طرح کا وقت گزارا ہے، لوگ اسے شاہانہ اسٹائل قرار دیتے ہیں۔ کیا پولیس ، کیا جیل کا عملہ، کیا وکلاء، پاکستان میں سب ہی برائے فروخت ہیں۔

سکندر جتوئی ایک بڑے ٹھیکیدار ہونے کے ساتھ ساتھ صنعتکار بھی ہیں۔ یہ وہ ہی سکندر جتوئی ہیں جنہیں جنرل سعید قادر کی سربراہی میں کام کرنیو الے نجکاری کمیشن نے پاکستان کی ایک اہم سیمنٹ فیکٹری کوڑیوں کے داموں فروخت کر دی تھی۔ سکندر جتوئی کو ذیل پاک سیمنٹ فیکٹری دلانے میں غوث علی شاہ کا بھی اہم کردار تھا۔ یہ نواز شریف کا دور تھا اور غوث علی شاہ نواز شریف کے قریب تھے۔

سکندر جتوئی مالی طور پر بہت مستحکم پارٹی ہیں۔ انہوں نے مقدمہ چلنے کے بعد ایک مرحلے پر مقتول کے والدین کو رضامند کر لیا کہ وہ قصاص لے کران کے بیٹے کو معاف کردیں۔ اس سلسلے کی پہلی خبر یہ تھی کہ مقتول کے والدین نے 35 کروڑ روپے لئے ہیں ، بعد میں دوسری خبر یہ تھی کہ انہوں نے 25کروڑ روپے لئے ہیں۔

قصاص کی رقم کیا تھی، کیا نہیں تھی، بحث طلب بات یہ نہیں ہے۔ بلکہ بات یہ ہے کہ انہیں یہ ہی کرنا چاہئے تھا۔ جس ملک میں وکلاء ضروت سے زیادہ فیس وصول کرتے ہوں، قانونی نکات کا سہارا لے کر ملزمان کو بچاتے پھرتے ہوں، جس ملک میں اثر و نفوذ کے نتیجے میں سب ہی بااثر ملزمان کے حلیف بن جاتے ہوں، جس ملک میں متاثرہ فریق اگر کمزور ہے تو کوئی اس کا ساتھ نہ دیتا ہو اور جس ملک میں والدین کو یہ خوف کھائے جائے کہ ان کی جوان بیٹیاں ہیں، انہیں کون تحفظ دے گا ، اس ملک میں یہ ہی ہوتا ہے کہ کمزور قصاص لے کر سمجھوتہ کر لیتا ہے یا جس طرح مقتول کے والد نے کہا کہ انہوں نے اللہ کی رضا کے لئے قاتلوں کو معاف کیا۔ مالی طور پر کمزور شخص کر بھی کیا سکتا ہے۔ قتل کا ملزم شاہ رخ واردات کے تیسرے روز دبئی فرا ر ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔

واقعہ کے خلاف مسلسل احتجاج کے بعد جب اس وقت کے چیف جسٹس جناب افتخار محمد چوہدری نے یکم جنوری 2013ء کو از خود نوٹس لیا تھا تو پولیس نے اس کی گرفتاری کے لئے ریڈ وارنٹ جاری کیا تھا، 17جنوری کو ملزم کو دبئی سے گرفتار کرکے واپس لائی تھی۔ 26جنوری 2013ء کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے شاہ رخ کو کم عمر قرار دیتے ہوئے بچوں کی جیل روانہ کر دیا تھا ۔

سیشن عدالت نے اس نکتہ پر کہ شاہ رخ جتوئی واردات کے وقت کم عمر تھا، تمام ملزمان کی ضمانت کا حکم دے دیا حالانکہ دیگر تین ملزمان تو کم عمر نہیں تھے۔ 7فروری کو شاہ رخ کا کم عمری کا ٹیسٹ ہوا تھا، اس ٹیسٹ میں وہ کم عمر ثابت نہیں ہو سکے تھے۔ 7 جون 13ء کو ا ے ٹی سی نے شاہ رخ اور سراج تالپور کو موت کی سزا سنائی تھی جبکہ دیگر دو ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ 9ستمبر 13ء کو شاہ رخ اور دیگر کو مقتول کے والدین نے معاف کردیا تھا۔

28 نومبر 17ء کو ہائی کورٹ نے مقدمہ کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا تھا اور 23 دسمبر کوملزمان کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ یوں کھیل پورا ہوا۔ ایک دو پیشی کے بعد مقدمہ اس بنیاد پر خارج ہو جائے گا کہ مقتول کے والدین نے قاتلوں کو معاف کردیا۔ دہشت گردی کی دفعات جو صلح اور قصاص میں مانع تھیں، پہلے ہی خارج کر د ی گئی تھیں تاکہ ملزمان کی رہائی کا راستہ بنایا جا سکے۔ مملکت کو کوئی سرو کار نہیں کہ ایک نوجوان کو بلا وجہ کیوں قتل کیا گیا، ملزمان کس حد تک ذمہ دار تھے ؟ جو کچھ ملزمان نے کیا تھا ، کیا وہ دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا؟ بڑے ملزم کے وکیل فاروق نائک نے جو پیپلز پارٹی کے رہنماء ہیں، سینٹ کے چیئر مین رہ چکے ہیں، عدالت میں نکتہ اٹھایا کہ ملزم واردات کے وقت کم عمر تھا۔ ملزم کے بارے میں وہ ٹیسٹ رپورٹ جس میں ملزم کو کم عمر قرار نہیں دیا گیا، کہاں گم ہو گئی؟کوئی ہے جو جواب دے کہ اس ملک میں قانون کو موم کا گڈا کیوں بنادیا جاتا ہے؟ اس تماش گاہ میں یہ ہی کہا جا سکتا ہے کہ انصاف کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔

مزید : رائے /کالم


loading...