جوہری جنگ کی ہوائیں(1)

جوہری جنگ کی ہوائیں(1)
 جوہری جنگ کی ہوائیں(1)

  

جناب منیراکرم جو اقوام متحدہ میں پاکستان کے ایک سابق سفیر ہیں ان کا کالم روزنامہ ’’ڈان‘‘ میں (تقریباً) ہر اتوار کوشائع ہوتا ہے۔ پرسوں 24دسمبر 2017ء کو ان کے شائع شدہ کالم کا اُردو ترجمہ قارئین کی معلومات کے لئے پیشِ خدمت ہے۔جس کا عنوان تھا:

’’The Winds of Nuclear War‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے پیش کی گئی ناقص ’نیشنل سیکیورٹی پالیسی‘ اور افغانستان اور جنوبی ایشیا کے بارے میں اس کا غلط تجزیہ اور نادرست مقاصد، کی پاکستان کی طرف سے جو مذمت کی گئی ہے وہ بالکل صحیح اور مبنی برصداقت ہے۔

تاہم تفنن برطرف اس دستاویز میں ایک دعویٰ ایسا بھی کیا گیا ہے جو اس کے باقی ماندہ مواد کے تمام لب و لہجے کی تکذیب کرتا ہے۔ وہ دعویٰ یہ ہے: ’’پاک بھارت فوجی تنازعہ کا ایک تناظر ایسا بھی ہے جس سے ان دو ملکوں میں جوہری جنگ چھڑ سکتی ہے اور وہی ہماری تشویش کا بڑا سبب ہے‘‘۔

اس فقرے کو موضوعِ زیرِ بحث کی شدت کی کم بیانی (Understatement) ہی کہا جائے گا، کیونکہ جنوبی ایشیاء میں جوہری جنگ روکنا اس خطے میں سیکیورٹی سٹرٹیجی کا اولین فوکس ہونا چاہئے۔ چند برس پہلے ڈاکٹر کسنجر نے جوبات کہی تھی وہ بالکل درست تھی۔ انہوں نے کہا تھا:’’آئندہ کسی بھی پاک بھارت جنگ میں جوہری ہتھیاروں کا استعمال تقریباً ناگزیر ہوگا!‘‘

ماضی میں پاکستان اور انڈیا بہت سے ایسے بحرانوں سے بچ نکلتے رہے ہیں جن پر جوہری پرچھایاں مسلط تھیں۔۔۔ 1971ء کی جنگ میں چین، پاکستان کی طرف سے اس لئے مداخلت سے باز رہا تھا کہ سوویت یونین نے بیجنگ پر جوہری حملے کی دھمکی دے دی تھی۔۔۔1987ء میں انڈیا نے براس ٹاکس نامی ملٹری ایکسرسائز میں پاکستان پر یلغار کی جب کھلی دھمکی دی تھی تو صدر ضیا الحق ایک کرکٹ میچ دیکھنے نئی دہلی چلے گئے تھے جس میں انہوں نے بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا تھاکہ ہم نے جو نئے ایف۔

16 امریکہ سے حاصل کئے ہیں وہ ٹرومبے (Trombay) میں آپ کی سب سے بڑی جوہری تنصیب تک جاسکتے ہیں۔۔۔ 1990ء میں جب پاک بھارت کشیدگی بہت بڑھ چکی تھی اور ساتھ ہی کشمیری حریت پسندوں کی کارروائیاں بھی عروج پر جاپہنچی تھیں تو تب بھی انڈیا نے پاکستان پر حملے کی دھمکی دی تھی۔

ایسے میں امریکی جاسوس سیاروں نے یہ دیکھ لیا تھا کہ پاکستان اپنے ایف۔16 طیاروں پر جوہری ہتھیارلوڈ کر رہا ہے۔ یہ دیکھ کر اس وقت کےCIA کے ڈائریکٹر مسٹر گیٹ بھاگم بھاگ جنوبی ایشیا آئے تھے اور کشیدگی کومزید آگے بڑھنے سے روک دیا تھا۔

اوائل مئی 1998ء میں جب انڈیا نے پانچ جوہری دھماکے کئے تھے تو بھارتی رہنماؤں نے بڑہانکنا شروع کردی تھی کہ ہمارے پاس جو یہ ’’عظیم بم‘‘ آگیا ہے اس نے خطے میں طاقت کی مساوات تبدیل کرکے رکھ دی ہے۔

اس کے جواب میں پاکستان کو مجبوراً چھ جوہری دھماکے کرکے بھارتیوں کے ذہنوں سے وہ غلط فہمی اور ابہام دور کرناپڑا تھا جو ان کی طرف سے کسی تباہ کن مہم جوئی کا سبب بن سکتا تھا۔

پاکستان نے اواخر مئی1998ء کو جب یہ دھماکے کئے تھے تو اس سے ایک رات پہلے بھی دونوں ملکوں میں جنگ ہوتے ہوتے رہ گئی تھی۔ پاکستانی راڈاروں نے اُن طیاروں کا سراغ لگالیا تھا جن کا پروفائل (عکس/ خاکہ) امریکی ایف۔

15سے ملتا جلتا تھا اور جو انڈیا کے مغربی ساحل کی طرف سے پاکستان پر حملہ کرنے آرہے تھے۔ پاکستان کو شک گزرا تھا کہ انڈیا اور اسرائیل دونوں مل کر پاکستان کو جوابی جوہری دھماکوں سے باز رکھنا چاہتے ہیں (اس وقت یہ امریکی ایف۔

15طیارے بھارت کے پاس نہیں تھے اور صرف اسرائیل کے پاس تھے) پاکستان نے فوراً نئی دہلی، تل ابیب اور واشنگٹن کو ہنگامی وارننگ ایشو کردی تھی۔ وہ تو خوش قسمتی تھی کہ راڈاروں کی ریڈنگ درست نہ نکلی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب دو حریفوں کے مابین باہمی گفت و شنید کا کوئی بندوبست نہ ہو تو کسی بھی وقت کسی بھی غلط فہمی یاکوتاہ اندیشی کے سبب جنگ چھڑ سکتی ہے۔

1999ء میں کارگل وار کے بعد امریکی صدر بل کلنٹن نے کشمیر کو دنیا کا اولین جوہری فلیشن پوائنٹ قرار دیا تھا۔۔۔ اور آج بھی ان کی کہی ہوئی یہ بات درست ہے۔

2002ء میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک طویل ملٹری سٹینڈ آف کے دوران کم از کم دوبار پاکستان کو پتہ چلا تھا کہ انڈین طیارے پاکستان پر حملے کی تیاریاں کررہے ہیں۔

پاکستان نے ببانگ دہل اس وقت بیان دیا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو پاکستان اپنی جوہری اہلیت کو آزمانے کا فیصلہ کرسکتا ہے۔ یہ سن کر انڈیا نے محسوس کیا تھا کہ اگر ان حالات میں جنگ ہوگئی تو اس کی قیمت ناقابل قبول حد تک بہت زیادہ ہوگی۔۔۔ چنانچہ امن کے مذاکرات شروع کئے گئے۔

آج پاکستان اور بھارت ایک ایسے پیچیدہ تصادم میں جکڑے ہوئے ہیں جس سے کسی بھی وقت جنگ چھڑ سکتی ہے اور جو بہت جلد بڑھ کر جوہری لیول تک جاپہنچے گی۔ لیکن معلوم ہوتا ہے ماضی کے بحرانوں کو فراموش کردیا گیا ہے۔

آج انڈیاپر ایک کٹر بنیاد پرست ہندو وزیر اعظم کی حکمرانی ہے جس کی نس نس میں مسلمانوں کے خلاف نفرت بھری ہوئی ہے اور اس کا علم سب لوگوں کو ہے۔ مودی صاحب پاکستان مخالف نعروں کو بڑی کامیابی سے اپنی انتخابی مہم میں استعمال کررہے ہیں اور بھارت کا سوادِ اعظم بھی اسی مسلم مخالف انتہا پسندی کا شکار ہے۔ جب 2019ء میں انڈیا میں اگلے قومی الیکشن ہوں گے تو انہی پاکستان مخالف نعروں کا مزید ڈھنڈورہ پیٹا جائے گا۔

دوسری بات یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگ اور بالخصوص نوجوان کشمیری، دل و جان سے بھارت کے خلاف بغاوت پر آمادہ ہوچکے ہیں۔ ماضی کے برعکس یہ بغاوت حریت رہنماؤں اور پاکستان کے کنٹرول سے باہر نکل چکی ہے اور باوجود اپنے سفاکانہ ہتھکنڈوں کے انڈیا اس بغاوت کو دبانے میں ناکام ہے اور جیسا کہ اس کا معمول ہے اس ناکامی کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے اور دعوے کررہا ہے کہ یہ سب کچھ سرحد پار سے کیا جارہا ہے۔

تیسری بات یہ کہ یہ امر اب ناگزیر ہو چکا ہے کہ کشمیری حریت پسند اب نہ صرف مقبوضہ کشمیر کے اندر بلکہ اس سے باہر نکل کر بھی بھارتی اہداف پر حملے کریں گے اور ساتھ ہی یہ امر بھی ناگزیر ہے کہ انڈیا ان حملوں کا الزام پاکستان اور پاکستان کے اندر موجود کشمیری حریت پسندوں کے حمائتیوں پر لگائے گا۔

چوتھی بات یہ کہ انڈیا نے پاکستان کو دھمکی دے رکھی ہے کہ اس پر اگر کوئی دہشت گردانہ حملے ہوئے تو وہ پاکستان کے خلاف ’’سرجیکل سٹرائک‘‘ لانچ کرے گا۔ اور یہ جو کشمیر کی لائن آف کنٹرول پر انڈیا کی طرف سے پاکستان پر آئے روز حملے کئے جا رہے ہیں یہ انڈیا کی ’’سرجیکل سٹرائکوں‘‘ کو آڑ فراہم کر سکتے ہیں۔

دوسری طرف پاکستان نے بھی کہا ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول پر ان بھارتی حملوں کو اکا دکا گوریلا طرز کے حملے نہیں بلکہ باقاعدہ روائتی جنگ کے آپریشن تصور کرے گا اور ان کا منہ توڑ جواب دے گا۔۔۔ اس صورت حال میں ایک ایسی جنگ چھڑ سکتی ہے جو بہت جلد اور بہت شدت سے پھیل جائے گی۔

پانچویں بات یہ کہ باوجود 2002ء کے سٹینڈ آف کے، بھارتیوں کے دلوں میں پاکستان پر ایک ’’محدود حملے‘‘ کے ارمان مچلتے رہتے ہیں۔ اپنے خود ساختہ ’’کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرین‘‘ کے پیش نظر انڈیا نے اپنی ساری سٹرائیک فورسز (آرمی کوریں اور ایئر فورس سکوارڈرن) پاک بھارت سرحد کے اگلے مورچوں میں لگا رکھی ہیں جن سے اس نے پاکستان پر کسی بڑے ناگہانی حملے کا پلان بھی بنایا ہوا ہے۔

اس کے جواب میں، پاکستان نے بھی اپنا ڈیٹرنس ڈاکٹرین طے کیا ہوا ہے جس میں پاکستان اپنے دشمن انڈیا کی بڑی بڑی حملہ آور فارمیشنوں (ڈویژن، کور اور آرمی) کا اجتماعی مومنٹم توڑنے کے لئے اپنے شارٹ رینچ نیو کلیئر میزائل استعمال کرے گا (ان کو ٹیکٹیکل بیٹل فیلڈ نیو کلیئر وار ہیڈز بھی کہا جاتا ہے)

چھٹی بات یہ کہ یہ ثابت کرنے کے لئے کہ انڈیا، پاکستان کے شارٹ رینج نیوکلیئر ہتھیاروں کی کوئی پروا نہیں کرتا اس کے ایئر چیف نے حال ہی میں یہ دعویٰ بھی کر دیا ہے کہ بھارتی فضائیہ پاکستان کی جوہری تنصیبات کی نشاندہی کر کے ان کو برباد کر سکتی ہے۔

پاکستان کو معلوم ہے کہ انڈیا اکیلا ایسا نہیں کر سکتا۔ اس لئے انڈیا کے اس دعوے سے سوال ابھرتا ہے کہ کیا امریکہ نے پاکستان کے جوہری ڈلیوری نظاموں کو کسی بحرانی عرصے میں پہلے سے طے شدہ حملہ کر کے یا اس پر قبضہ کر کے ناکارہ بنانے کا فیصلہ کر لیا ہوا ہے (اس تناظر میں امریکہ کی وہ رپورٹیں ایک چشم کشا منظر پیش کرتی ہیں جن میں شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کو قابو کرنے کے پلان شامل ہیں)

ماضی میں امریکہ دونوں ملکوں کے درمیان بہت سے بحرانوں کی شدت کم کرنے میں ایک فعال کردار ادا کرتا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اور اس کے بعد بھی پاکستان اور انڈیا میں مذاکرات کروانے کی پیشکش کی تھی جسے انڈیا نے مسترد کر دیا تھا لیکن پاکستان نے آمادگی ظاہر کر دی تھی۔ وہ پیشکش بعد میں کبھی نہ دہرائی گئی اور امریکہ نے جس ’’نیشنل سیکیورٹی سٹرٹیجی‘‘ کا ذکر کیا ہے اس میں بھی کہیں اس کا ذکر نہیں ملتا۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کو اب ایک غیر جانبدار ثالث کی حیثیت حاصل نہیں رہی۔ اب وہ انڈیا کا سٹرٹیجک پارٹنر بن چکا ہے۔ اس کی نیشنل سیکیورٹی سٹرٹیجی، مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے تشدد کو کراس بارڈر ٹیررازم کا نتیجہ قرار دیتی ہے۔ اس سٹرٹیجی میں کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی، بنیادی انسانی حقوق کے ان کے مطالبات اور انڈین فورسز کی طرف سے ان پر بہیمانہ ظلم و ستم کا کہیں ذکر نہیں۔

اندریں حالات پاکستان کو چاہئے کہ وہ ایک متبادل سفارتی میکانزم کی تلاش کرے تاکہ یہ کشیدگی بڑھ کر جوہری جنگ کی شکل اختیار نہ کر سکے۔ اس قسم کا ایک میکانزم ’’چین، روس، یورپی یونین اور امریکہ‘‘ پر مشتمل ایک چہارگانہ فورم ہوسکتا ہے جس میں پاکستان اور بھارت دونوں کو شرکت کی دعوت دے کر بات چیت پر آمادہ کیا جا سکتا ہے، موجودہ بحران کی شدت کم کی جا سکتی ہے، جنگ کو روکا جا سکتا ہے اور کشمیر تنازعہ کا کوئی پر امن حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔ ان مذاکرات میں سلامتی کونسل کی ایک ایسی قرارداد کی منظوری حاصل کی جا سکتی ہے جسے ویٹو کرنا امریکہ کے لئے مشکل ہوگا۔

جنوبی ایشیاء میں چلنے والی جوہری جنگ کی ان ہواؤں سے چشم پوشی کی گئی تو ایک ایسی عالمگیر جوہری تباہی جنم لے سکتی ہے جس کی انسانی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملے گی!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قارئین کرام! میں نے منیر اکرم صاحب کے کالم کا ترجمہ آپ کی خدمت میں پیش کر دیا ہے۔ اس پر مزید گفتگو اور تجزیہ انشاء اللہ اگلے کالم میں ۔۔۔ (جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -