حوثی باغیوں کی اہم دستاویزات یمنی فوج کے ہاتھ لگ گئیں

حوثی باغیوں کی اہم دستاویزات یمنی فوج کے ہاتھ لگ گئیں

 صنعاء(این این آئی)یمن کی مسلح افواج کو جنگ کے دوران ایران نواز حوثی باغیوں کی تیار کردہ خفیہ دستاویزات ہاتھ لگی ہیں۔ ان دستاویزات میں بتایا گیا ہیکہ حوثیوں کی صفوں میں شکست، پھوٹ اور جنگجوؤں کے فرار کے اسباب معلوم کرنے کے لیے باغیوں نے ایران اور حزب اللہ کی مدد سے تحقیقات کی تھیں۔ان دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ حوثیوں میں شکست وریخت سے باغیوں کی قیادت بہت پریشان ہے۔ محاذ جنگ پر حوثیوں کا جانی نقصان ظاہر کردہ نقصان سے کہیں زیادہ ہے۔ ہزاروں مقتولین کو سینکڑوں میں بتایا جاتا ہے۔ حالیہ عرصے کے دوران بیحان اور نھم کے دو محاذوں پر ہزاروں تربیت یافتہ حوثی باغی ہلاک ہوچکے ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق یہ تحقیقات حوثیوں کے جہادی مرکز کیزیراہتمام کی گئیں اور ان کی نگرانی پر ایرانی فوجی اور لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے عسکری ماہرین مامور تھے۔یہ خفیہ دستاویزات یمن کی مسلح افواج کے ملٹری انٹیلی جنس شعبے کی جانب سے شائع کی گئی ہیں۔ ان دستاویزات سے پتا چلتا ہیکہ ان تحقیقات کا خود خوثیوں کو بھی علم نہیں۔ ان کے بارے میں مخصوص اور محدود حوثی قیادت کو آگاہ کیا گیا تھا۔ یہ تحقیقات انتہائی راز داری میں کی گئیں اور ان کے نتائج کو خفیہ رکھا گیا۔ایرانی اور حزب اللہ کے ماہرین نے عسکری فیلڈ کی صورت حال کا جائزہ لیا جس کے بعد حوثی لیڈر عبدالملک الحوثی کے قریبی ساتھ بو زینب اور دیگر کی نگرانی میں ان اسباب کا تعین کرنے کی کوشش کی گئی کہ آیا حوثیوں کی صفوں میں تیزی سے شکست کے آثارکیوں پھیل رہے ہیں۔ان دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ حوثیوں میں شکست وریخت سے باغیوں کی قیادت بہت پریشان ہے۔ انہیں اندازہ ہے کہ محاذ جنگ پر جنگجو استقامت کے ساتھ نہیں لڑر ہے ہیں بلکہ انہیں پے درپے شکست کا سامنا ہے۔یمنی فوج کے ہاتھ لگنے والی یہ دستاویز 22اگست 2017ء کو جاری کی گئی۔ اس میں اعتراف کیا گیا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے باقاعدہ عسکری تربیت کے بعد جن جنگجوؤں کو میدان میں اتارا گیا تھا۔ ان کی اکثریت مختلف محاذوں میں ہلاک ہوچکی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ محاذ جنگ پر حوثیوں کا جانی نقصان ظاہر کردہ نقصان سے کہیں زیادہ ہے۔ ہزاروں مقتولین کو سینکڑوں میں بتایا جاتا ہے۔ حالیہ عرصے کے دوران بیحان اور نھم کے دو محاذوں پر ہزاروں تربیت یافتہ حوثی باغی ہلاک ہوچکے ہیں۔تحقیقاتی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ جنگجوؤں کی بددیانتی، آپس میں لڑائی جھگڑے، اہم کمانڈروں کے لڑائی کے دوران مارے جانے، یا زخمی ہونے، بد انتظامی، ناہل افراد کو فیلڈ کمانڈر مقرر کیے جانے یا ان پڑھ اور ناخواندہ لوگوں کو اہم ذمہ داریاں سونپے جانے جیسے اقدامات حوثیوں میں شکست کا سبب بن رہے ہیں۔

دستاویزات میں فیلڈ کمانڈروں اور محاذ پر موجود حوثیوں کی عسکری قیادت کی تنظیم کے سربراہ کے ساتھ ملاقاتوں کا بھی ذکر ہے اور کہا ہے کہ اعلیٰ قیادت کی طرف سے مختلف محاذوں پر تعینات کیے گئے افراد کو شکست خوردگی سے بچنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کی تاکید کی جاتی رہی ہے۔

مزید : عالمی منظر


loading...