موسمِ سرما کے تقاضے، رنگینیاں اور خواتین

موسمِ سرما کے تقاضے، رنگینیاں اور خواتین

  

موسم سرما ایک دم آگیا۔ خزاں کو اتنی مہلت بھی نہ ملی کہ درختوں کو پتوں سے یکسر محروم کرسکے۔ قدرت نے مہر بانی کی اور اس بار بارش بھی اپنے وقت پر ہوئی یوں لوگ خشک سردی سے پیدا ہونے والے مسائل سے بچ گئے۔ بالائی علاقوں میں ہونے والی برف باری نے صرف ماحول اور فضا ہی کو بہتر نہیں کیا بلکہ لوگوں کو سیرو تفریح کے مواقع بھی مہیا کئے۔ شہروں میں خشک پھلوں کی قیمتیں چڑھ گئی اور شادیوں کی گہما گہمی اور رونق میں اضافہ ہوگیا۔ ایسی ہی سردیوں میں کھانوں کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے اور گرم کپڑوں کے فیشن میں نت نئی اُپج دیکھنے کو ملتی ہے موسم گرما میں میک اَپ اور پہناوے دونوں ہی تپش اور حدت سے متاثر ہوتے ہیں جبکہ موسمِ سرما میں میک اَپ اپنا رنگ جماتااور لباس اپنی شان دکھاتا ہے۔ معیاری گرم کپڑے نہ صرف جسم کو ڈھانپتے ہیں بلکہ اپنے شوخ اور جاذبِ نظر رنگوں سے موسم کی سُرمئی پن سے پیدا ہونے والی یاسیت کو کم کرتے ہیں۔

اس بار شادیوں کی تقاریب ٹریفک کی بدنظمی کے باعث خاصی متاثر ہورہی ہیں۔ لوگ بدقت جائے تقریب میں پہنچتے ہیں اور چند گھڑیاں خوشگوار ماحول میں گزارنے کے بعد واپس گھروں کو اس کیفیت کے ساتھ لوٹتے ہیں جو صرف ذہنی اذیت اور جھنجھلاہٹ لئے ہوتی ہے۔ بہر حال تقریب میں شمولیت ضروری ہوتی ہے اس لئے اس میں درپیش دیگر مشکلات کے حوالے سے لوگ اب عادی ہوتے جارہے ہیں۔ خواتین کے لئے ایسی تقاریب ہمیشہ خوشی کا باعث ہوتی ہیں اس لئے کہ وہ مسائل کی صرف توجہ نہیں دیتیں اور خود کو رونق اور شوروغل میں مصروف رکھتی ہیں۔

موسمِ سرما کا دورانیہ اور اس کی شدت میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے زیر اثرکمی واقع ہورہی ہے اس لئے لوگ اس کے فیوض سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ پھر شادیوں کی تاریخیں بھی اسی موسم میں پکی ہوتی ہیں لہٰذا وقت پر بہت سارے معاملات کی خبر گیری ضروری ہو جاتی ہے۔ درزی خانے، شادی گھر اور بیوٹی پارلرز کی فعالیت ان کی رونقیں بڑھا دیتی ہے۔ لڑکیاں، عورتیں اور دلہنیں ان آرزوؤں اور اُمنگوں کو پورا کرتی ہیں جو ایسی سماجی تقریبات سے وابستہ ہوتی ہیں۔ ایک بات بہرحال خوشی کی ہے کہ لوگوں میں نمود و نمائش کا عنصرکسی طور کم ہوتا جارہا ہے اور وہ اسراف سے اجتناب کررہے ہیں۔

صحافیانہ پیشے سے ایک طویل تعلق کے باعث موسمِ سرما کے ہنگاموں کا مشاہدہ میرے لئے ایک ضروری امر ہے۔ اس موسم سے متعلق ہر اس تقریب سے میں استفادہ کرتی ہوں جس میں شمولیت کی مجھے دعوت ملتی ہے۔ کچھ باتیں میرے لئے اچنبھا لئے ہوتی ہیں جبکہ بیشتر روٹین سے متعلق ہوتی ہیں۔ خوشیاں البتہ ایک سی ہوتی ہیں، تقریب چاہے غریب خاندان کی ہو یا صاحبانِ ثروت کی۔

بہر حال بات ہورہی تھی موسمِ سرما اور شادیوں اور پہناوؤں کی اور پھر اس موسم میں خشک پھلوں کے استعمال کی جن میں مونگ پھلی کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔ اگرچہ مہنگائی کے زور میں اس کی قیمت بھی چڑھ چکی ہے۔ شادیاں البتہ زوروشور سے منعقد ہورہی ہیں اور خواتین اپنے لباس کا پہلے سے کہیں زیادہ شعور رکھتی ہیں۔ ٹیلی ویژن ڈراموں اور سوشل میڈیا کی بھرمار کے باوجود خواتین کپڑوں کے ڈیزائن کے بارے میں اپنے من کی پسند کو زیادہ ترجیح دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ روایتی پہناوؤں کے ساتھ ساتھ نئی نئی تراش خراش دیکھنے کو مل رہی ہے۔ گرم اُونی ٹوپیاں اور گرم شالیں دوبارہ مقبولیت پارہی ہیں۔ گرم شالیں انسانی شخصیت میں بالخصوص ایک دبدبہ پیدا کرتی ہیں۔ ساڑھیوں، لہنگوں اور بھاری کڑھائی والے کپڑوں کا استعمال اب اتنا نہیں رہا جتنا کبھی ہوا کرتا تھا۔ اب زمانہ چونکا دینے والا ہے۔ سادگی میں ایسی ندرت پیدا کی جارہی ہے کہ دیکھنے والا متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ لباس اپنے موسم کی کیفیت کی چغلی کھاتا ہے البتہ یہ پہننے والے پر انحصار کرتا ہے کہ وہ اس کا استعمال کس طرح کرتا ہے۔

افسوس کی بات ہے کہ موسمِ سرما گرمیوں کے مقابلے میں خاصا مختصر ہوگیا ہے، تاہم اس مختصر سے عرصہ میں بھی لوگ اس موسم کی اچھی باتوں سے پوری طرح لطف اُندوز ہونے کا احساس ضرور رکھتے ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -