کرنسی کا غیر قانونی کاروبار کرنیوالے افراد ملکی معیشت کو نقصان پہنچا رہے ہیں

کرنسی کا غیر قانونی کاروبار کرنیوالے افراد ملکی معیشت کو نقصان پہنچا رہے ہیں

ایک کروڑ سے زائد پاکستانی دنیا کے مختلف ممالک میں بسلسلہ روزگار مقیم ہیں جو سالانہ اربوں ڈالرز قانونی طریقے سے پاکستان بجھواتے ہیں جبکہ ہنڈی اور حوالہ سے بھی رقم پاکستان بجھوائی جاتی ہے پاکستان کی ایکسپورٹ جو دن بدن کم سے کم ہوتی جا رہی ہے اور امپورٹ کرنے کی شرح خوفناک حد تک بڑھ چکی ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف سے قرضے لینے پر مجبور ہو جاتا ہے اور بعض اوقات اس پر اس قدر سود ادا کیا جاتا ہے کہ دوبارہ قرضے لیکر صرف سود کی رقم ادا کی جاتی ہے بیرون ملک مقیم پاکستانی وطن آتے ہوئے اپنے خون پسینے کی کمائی غیر ملکی کرنسی میں ساتھ لے آتے ہیں اور پھر اسے اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پاکستان میں تبدیل کراتے ہیں گجرات جیسے اہم ضلع سے لاکھوں افراد بیرون ملک مقیم ہیں جن میں سے اکثریت یورپی ممالک میں نہ صرف اپنا کاروبار کر رہی ہے بلکہ محنت مزدوری کر کے رقم پاکستان بجھواتے ہیں ایک سروے کے مطابق گجرات میں سب سے زیادہ کرنسی ڈیلرز ہیں قانونی طور پر کرنسی کا کاروبار کرنیوالے افراد کی تعداد ایک درجن سے زائد نہیں جنہوں نے لائسنس حاصل کر رکھے ہیں مگر غیر قانونی طور پر کرنسی کا کاروبار کرنیوالوں کی تعداد سینکڑوں میں نہیں بلکہ ہزاروں میں ہے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی غفلت اور بااثر افراد کی پشت پناہی کی وجہ سے غیر قانونی کرنسی کا کاروبار کرنیوالوں میں ایسے دوکاندار بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنی دوکانوں کے باہر غیر ملکی کرنسی کی معلومات حاصل کریں کے بورڈز آویزاں کر رکھے ہیں جب کہ بعض نے پرائز بانڈ کے بورڈ ز لگا کر کرنسی کا کاروبار شروع کر رکھا ہے ایف آئی اے آٹے میں نمک کے برابر ان کے خلاف کاروائی کرتی ہے جبکہ باقی کو کھلی چھٹی ہے جو کرنسی تبدیل کرنے والوں کو اوپن مارکیٹ سے زائد ریٹ سنا کر اس میں سے پانچ فیصد کمیشن کا دھوکہ دینے کے بعد انہیں بینک ریٹ سے بھی کم رقم فراہم کرتے ہیں چوک پاکستان میں ایسے درجنوں افراد سڑکوں پر میز لگا کر بیٹھے ہوئے ہیں جن پر غیر ملکی کرنسی کی معلومات حاصل کریں کے بورڈز لگے ہوئے ہیں ایف آئی اے کچھ عرصہ قبل باقاعدگی کے ساتھ کرنسی ڈیلروں کو چیک کرتی تھی مگر بعد ازاں یہ سلسلہ نامعلوم وجوہات کی بنا پر ترک کر دیا گیا اسٹیٹ بینک اس ساری صورتحال سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق گجرات میں روزانہ غیر ملکی کرنسی کا اربوں روپے کا لین دین ہوتا ہے کیونکہ ہر گھر کا کوئی نہ کوئی فرد کسی نہ کسی ملک میں مقیم ہے جب اس سلسلہ میں سروے کیا گیا تو معلوم ہوا کہ گجرات کے متعدد کرنسی ڈیلروں کے پارسل ائیر پورٹ پر پکڑ ے گئے کرنسی ڈیلر غیر ملکی کرنسی کے لین دین کیلئے کوڈ ورڈ استعمال کرتے ہیں اور روزانہ کی بنیادپر لاہور اور اسلام آباد ائیر پورٹ سے غیر ملکی زرمبادلہ کو دوبئی بجھواتے ہیں دوبئی غیر ملکی کرنسی کا سب سے بڑا مرکز ہے اس مرکز کو چلانے میں پاکستانی بالخصوص گجرات کے کرنسی ڈیلروں کا بہت بڑا ہاتھ ہے چاہیے تو یہ تھا کہ اسٹیٹ بینک منظور شدہ کرنسی ڈیلروں کو اس امر کا پابند بناتا کہ وہ غیر ملکی کرنسی کی خریداری کرنیوالوں کے پاسپورٹ پر ایک حد تک رقم فراہم کرتے اور اسکا باقاعد ہ اندراج کیا جاتا مگر جس کا جی چاہتا ہے وہ پاکستانی رقم دیکر غیر ملکی کرنسی خرید لیتا ہے اگر حکومت پاکستان آنیوالے زرمبادلہ پر چیک اینڈ بیلنس رکھے تو اسے آئی ایم ایف سے قرضے لینے کی ضرورت نہ پڑے لاہور ‘ اسلام آباد ائیر پورٹ پر دوبئی جانیوالے مسافروں کی خصوصی نگرانی کر کے کروڑوں اور اربوں روپے کا زرمبادلہ روزانہ کی بنیاد پر اسمگل کرنیکی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے ان مسافروں کی اس طرح تلاشی لی جائے جس طرح سعودی عرب جانیوالے عمرہ زائرین کی لی جاتی ہے ایف آئی اے اکا دکا کاروائی کر کے غیر قانونی طور پر کاروبار کرنیوالوں کو گرفتار کرتی رہتی ہے مگر وہ واپس آتے ہی اس کاروبار کو دوبارہ شروع کر دیتے ہیں ملکی معیشت اور روپے کی قدر میں زوال ‘ فارن کرنسی پر کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے اثر انداز ہو رہا ہے بینکوں میں غیر ملکی کرنسی کے اکاؤنٹس میں لوگوں کا کثیر سرمایہ پڑا ہوا ہے ایف بی آر جس کے پاس بینکوں میں موجود لوگوں کے اکاؤنٹس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے ذرائع موجود ہوتے ہیں کو غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس کے بارے میں بھی معلومات حاصل کرنی چاہیے کہ بینکوں میں جو غیر ملکی کرنسی پڑی ہے وہ کس طریقے سے پاکستان بجھوائی گئی پاکستانی سرمایہ دار جن کے پاس وافر مقدار میں دولت موجود ہے کو یہ بخوبی علم ہے کہ پاکستان کی کرنسی ہمیشہ زوال پذیر رہتی ہے اور وہ مارکیٹ سے غیر ملکی کرنسی خرید کر اپنے اکاؤنٹس میں جمع کرتے رہتے ہیں قیمت بڑھنے پر فروخت کر کے لاکھوں کی دہاڑیاں لگا لیتے ہیں ہنڈی اور حوالے کا کاروبار بھی اپنے عروج پر ہے جب تک ایف آئی اے غیر قانونی طور پر کرنسی کا کاروبار کرنیوالوں کا گھیرا تنگ نہیں کرتی پاکستانی روپے کی قدر ومنزلت میں اس طرح کمی واقع ہوتی رہے گی اور پاکستان کے زرمبادلہ کے زخائر جو قرض لیکر ایک سطح پر رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے کم ہوتے رہیں گے سروے کے مطابق اگر گجرات جیسے اہم ضلع میں ایف آئی اے اپنے فرائض ایمانداری سے ادا کرے اور روزانہ کی بنیادوں پر کرنسی ڈیلروں کے حساب کتاب کو چیک کیا جائے تو پاکستان میں زرمبادلہ کے زخائر تارکین وطن کی بجھوائی ہوئی خون پسینے کی کمائی سے اس قدر بڑھ سکتے ہیں کہ حکومت کو آئی ایم ایف کے آگے کشکول پھیلانے کی ضرورت نہ پڑے گی بیسویں صدی کے آغاز میں دنیا میں کالے دھن کو سفید کرنیوالے افراد کیخلاف قانون سازی کا فیصلہ کیا گیا اس وقت یہ کام منشیات کے اسمگلرز ہی کرتے تھے 1989میں جی سیون ممالک نے منی لانڈرنگ کیخلاف مشترکہ طور پر پراونشل ایکشن ٹاسک فورس آف منی لانڈرنگ قائم کی تاہم نائن الیون کے بعد دنیا بھر میں منی لانڈرنگ کے ذریعے دہشت گر دتنظیموں کو ہونیوالی فنڈنگ کیخلاف قانون سازی پر زور دیا گیا2002کے آغاز میں دنیا بھر کی حکومتوں نے مالیاتی لین دین کی نگرانی کیلئے منی لانڈرنگ کے قانون کو مزید بہتر بنایا دنیا بھر کے اسمگلرز‘ سیاستدان‘ مالیاتی ادارے ناجائز طریقے سے کمائے گئے پیسے کو قانونی شکل دینے کیلئے منی لانڈرنگ کا طریقہ استعمال کرتے ہیں قانون کی نظروں سے اوجل ہونے کے لیے یہ غیر قانونی رقم ٹیکس حکام کی نظروں میں بھی نہیں آتی منی لانڈرنگ دو قسم کی ہوتی ہے پہلا طریقہ ٹیکس چوری کا ہے جس میں پہلے سے چلتے ہوئے کاروبار سے ملنے والے منافع سے ٹیکس ادا نہ کی ہوئی رقم سے کوئی چلتا ہوا کاروبار خرید لیا جاتا ہے ایک طرح سے یہ بھی کالا دھن سفید کرنے کے مترادف ہے دوسرا طریقہ کریمنل پروسیڈ کا ہے جس میں مختلف جرائم کا سہارا لیکر حاصل کی گئی رقم سے جائیداد خریدی اور پھر فروخت کر کے اس کا منافع حاصل کیا جاتا ہے جو منی لانڈرنگ کی بدترین شکل ہے ریاست کے نزدیک منی لانڈرنگ سب سے بڑا جرم تصور کیا جاتا ہے جبکہ فرضی ناموں سے بنائی گئی جعلی کمپنیوں میں خریدوفروخت اور چندا لینا بھی منی لانڈرنگ کے زمرے میں آتا ہے منی لانڈرنگ کا سب سے مقبول طریقہ ہنڈی یا حوالے کے ذریعے ہے جس میں کسی کاغذی کاروائی کے بغیر بھاری رقم کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر دیا جاتا ہے مالیاتی اداروں کے علم میں نہ ہونے کی وجہ سے اس رقم پر ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑتا اور کرنسی کی اسمگلنگ سے ملکی معیشت کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے غیر قانونی طریقے سے رقم کی منتقلی سے دنیا بھر میں دہشت گردی کو بھی فروخت حاصل ہو رہا ہے کیونکہ کرنسی کا چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے دہشت گرد تنظیموں کو بھاری رقم کی منتقلی ہو سکتی ہے پاکستان میں مختلف طریقوں سے منی لانڈرنگ کی جاتی ہے جس میں ایک مقبول طریقہ یہ بھی ہے کہ رقم بجھوانے والے پے آرڈر ‘ ٹریول چیک اور منی آرڈر کے ذریعے چھوٹے چھوٹے حصوں میں رقم کو تقسیم کر کے مختلف وصول کنندگان کو بجھواتے ہیں جورقم حاصل کرنے کے بعد ایک جگہ اکٹھی کر لیتے ہیں دوسرے طریقے میں نقد رقم کو آف شور بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر دیا جاتا ہے بعد میں اس رقم کو قانونی شکل دیدی جاتی ہے منی لانڈرنگ کی تیسری شکل میں رقم کا لین دین بلوں میں ہوتا ہے جس میں ایک روپے قیمت والی چیز کی قیمت کو دو سو روپے تک لے جایا جاتا ہے چوتھی قسم میں ٹرسٹ اور شیل کمپنیز دوسرے کے سرمایہ کو اپنی ملکیت ظاہر کرتے ہوئے کم کرتی ہیں لیکن اس سرمایہ کار ی کے پس منظر کوئی اہم شخصیت ہوتی ہے پانامہ پیپرز میں انہی شیل اور آف شورکمپنیز میں چھپ کر سرمایہ کاری کرنیوالوں کو بے نقاب کیا گیا پانچویں طریقے میں کالے دھن سے خریدی گئی جائیداد کو فروخت کر کے حاصل ہونیوالی آمدن کو قانون شکل دی جاتی ہے چھٹے طریقے میں مختلف کمپنیاں اپنے ملازمین کو بغیر کسی تحریری معاہدے کے کالے دھن سے تنخواہیں دیتی ہیں ساتویں طریقہ میں کالا دھن رکھنے والے انشورنس کمپنیوں سے میچور ہونیوالی پالیسوں کو زیادہ قیمت پر خرید کر کے کلیم کر لیتے ہیں اور یہ رقم سفید دھن میں تبدیل ہو جاتی ہے پرائزبانڈ میچور ہونیوالے شخص کو بھی لاکھوں روپے اوپر دیکر اپنی کالی کمائی کو سفید میں تبدیل کیاجاتا ہے آٹھویں اور مقبول قسم تحفہ کے ذریعے منی لانڈرنگ کی ہے جس میں کالا دھن رکھنے والے تحفہ کی شکل میں اپنا سرمایہ دوسرے تک منتقل کرتے ہیں تحفہ پر ٹیکس مستثی ہونیکا بھر پور فائدہ اٹھایا جاتا ہے منی لانڈرنگ کی روم تھام کیلئے کام کرنیوالے ایک ادارے باطل انسٹیٹیوٹ آف گورنس کے مطابق منی لانڈرنگ کی روک تھام کے حوالے سے بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنیوالے50ممالک میں سے پاکستان 46ویں نمبرپر ہے کرنسی اسمگلنگ ایک سنگین جرم ہے جس کی آج کے دور میں بین الاقوامی تجارت کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے معاشی ماہرین اسے معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہیں کوئی بھی ملک اس میں شمولیت کے بغیر خوشحال نہیں رہ سکتادوسری طرف بین الاقوامی تجارت زیادہ تر ڈالر کے ذریعے کی جاتی ہے اس لیے اکثر ممالک کی معاشی پالیسی یہ ہوتی ہے کہ ان کے خزانے میں ڈالر کی ایک بڑی مقدار موجود رہے اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ڈالر کی بیرون ملک منتقلی کی ایک حد مقررکی جاتی ہے مقررہ مقدار سے زیادہ ڈالر بیرون ملک لے جانے کی صورت میں ٹیکس لاگو ہوتاہے۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...