سڑکوں پر سفر کیسے محفوظ ہوا؟

سڑکوں پر سفر کیسے محفوظ ہوا؟

  

پنجاب ہائی وے پٹرول اپنے قیام سے ابتک شاہرات کو محفوظ بنانے اور دوران سفر کسی بھی قسم کی مشکلات کے سلسلے میں عوام کو مفید خدمات مہیا کررہی ہے۔ اس کے قیام سے قبل شاہرات پر سفرکرناخصوصاً رات کے وقت خطرات سے بھرپور ہوتا تھا۔ ڈاکو ناکے لگا کر کئی بسیس اور گاڑیاں لوٹ لیتے تھے۔ بعض علاقوں میں تو پولیس اپنی نگرانی میں آٹھ آٹھ دس دس بسیں لیکر روانہ ہوتی تھی اور اپنی حدود پار کراتی تھی۔ خدانخواستہ کسی کی کار، بس یا موٹر سائیکل خراب ہوجاتی یا انہیں کچھ مشکل پیش آتی تو انکا کوئی مددگار اور پرسان حال نہ ہوتا تھا۔ آپ ذرا تصور کریں کہ آپ اپنی فیملی کے ہمراہ کسی سنسان سڑک پر سفر کررہے ہیں اور آپکی گاڑی خراب ہوجاتی ہے ، پنکچر ہوجاتی ہے یا فیول ختم ہوجاتا ہے اس صورت میں آپ کیا کریں گے۔ مکینک کے پاس جائیں گے یا فیملی کی حفاظت کیلئے گاڑی کے پاس رُکیں گے اور اگر یہ تمام ماجرا رات کے وقت ہوجائے تو کس قدر تکلیف دہ صورتحال ہوگی۔ لیکن پنجاب ہائی وے پٹرول کے قیام کے بعد نہ صرف شاہرات دن رات سفر کیلئے محفوظ ہوگئی ہیں بلکہ کسی بھی مشکل میں پی ایچ پی آپکی ہر ممکن مدد کرتی ہے اور باحفاظت آپکو منزل تک پہنچاتی ہے۔اگر آپ کسی بھی قسم کی مشکل میں مبتلا ہیں تو ہیلپ لائن 1124پر کال کریں تو قریب ترین گاڑی فوری طور پر آپکی مدد کیلئے پہنچے گی۔ ہائی وے پٹرول ایک ایڈیشنل آئی جی اور ڈی آئی جی کی سربراہی میں کام کررہی ہے۔ تمام ریجنوں میں ایس پی تعینات ہیں جبکہ ایک ایس پی ہیڈکوارٹرز ہیں۔ ضلع کی سطح پر ڈی ایس پی سربراہ ہوتا ہے۔ اور پٹرولنگ پوسٹ پر ایس آئی یا اے ایس آئی انچارج ہوتا ہے۔ ہر پٹرولنگ پوسٹ کا ایریا 30سے35 کلومیڑ تک ہے۔ ہر پٹرولنگ پوسٹ پر آٹھ آٹھ گھنٹے کی تین شفٹوں میں کام کرتی ہیں۔ اس طرح علاقے میں 24 گھنٹے گاڑی گشت کرتی ہے۔ بوقت ضرورت ناکے بھی لگائے جاتے ہیں اور پیدل گشت بھی کیا جاتا ہے۔ 42پٹرولنگ پوسٹوں پر ٹریفک منجمنٹ کا کام بھی ہورہا ہے۔ ان پوسٹوں کے علاقے میں ٹریفک منجمنٹ کی وجہ سے حادثات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پٹرولنگ پولیس تجاوزات کے خاتمے کیلئے بھی کام کر رہی ہے سوشل سروس کے حوالے سے گمشدہ بھولے بھٹکے اور اغوا شدہ بچوں کو بھی تلاش کر کے انکے ورثاء تک پہنچایا جاتا ہے۔ ہر ریجن میں ایک موبائل ایجوکیشن یونٹ کام کر رہا ہے جو عوامی مقامات ، سکول، کالجز اور دیگر اداروں میں جاکر حفاظت، خود اختیاری، قوانین پر عمل درآمد اور محفوظ سفر کے حوالے سے لیکچرز کا انعقاد کرتا ہے۔ روڈ شوز، روڈ کیمپ لگاتا ہے اور آگاہی کیلئے پمفلٹ اور ہینڈبلز تقسیم کرتا ہے۔اس وقت پنجاب ہائی وے پٹرول میں ایڈیشنل آئی جی امجدجاوید سلیمی، ڈی آئی جی غلام محمود ڈوگر، ایس پی ہیڈکوارٹرزشازیہ سرورتعینات ہیں جبکہ ایس پی گو جرانوالہ شجات علی رانا، ایس پی فیصل آباد اُم سلمیٰ، ایس پی ملتان سجاد حسین، ایس ایس پی لاہور بابر بخت قریشی،ایس ایس پی راولپنڈی ملک یوسف،ایس پی سرگودھا حسن جمیل حیدر، ایس ایس پی ڈی جی خان محمد باقر اور بہاولپور ایس پی ہما نصیب تعینات ہیں۔پنجاب ہائی وے پٹرول نے نومبرسال 2017تک اشتہاری مجرمان 850عدالتی مفروران اور 16355 دیگرجرائم میں ملوث افراد گرفتار کئے ہیں۔ جبکہ مجموعی طور پر 16592 مقدمات درج کئے جن میں سے 13831 پاکستان پینل کوڈ کے تحت، 1669 اسلحہ آرڈیننس اور1092امتناع منشیات کے تحت درج کئے گئے۔ اسی دوران 19 کلاشنکوفیں، 48 رائفلیں، 66 کاربین، 520 پسٹل برآمد کئے علاوازیں 4557 فسٹ ایڈ، 1779ایکسیڈنٹ، 288 لاسٹ، 129741 متفرق اور 46615 انکرونچمنٹ ہٹا کے مسافروں کے لیئے ٹریفک کے نظام کو یقینی بنایا اور اسی نظام کے تحت 713240 موٹر سائیکلوں کو بند کیا گیا۔

پنجاب ہائی وے پٹرول پو لیس کے افسران نے روز نامہ پا کستان کے سا تھ ایک خصوصی نشت کے دوران بتایا کہ ایڈیشنل آئی جی پنجاب ہائی وے پٹرول امجد جاوید سلیمی بنیادی طور پر ایک اچھے اور منجھے ہوئے منتظم ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کا زیادہ تر عرصہ ملازمت فیلڈ پوسٹنگ پر محیط ہے۔ وہ ہمیشہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کے بہترین کمانڈر رہے ہیں۔ 1960 ء میں ٹوبہ ٹیک سنگھ کی سرزمین پر جنم لینے والے اس سپوت نے جیالوجی میں ماسٹر ڈگری حاصل کرنے کے بعد سول سروس میں بحیثیت اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس شمولیت اختیار کی اور1986ء میں 14ویں کامن ٹریننگ گروپ میں تربیت حاصل کی پھر نیشنل پولیس اکیڈمی میں زیر تربیت رہے۔ ان کی پہلی پوسٹنگ 1988 میں اے ایس پی یوٹی سرگودھا ہوئی اور 1989 کا تمام سال انہوں نے ایف سی میں گزارا۔ جبکہ بحیثیت سب ڈویژنل پولیس آفیسرسب سے پہلے 1990 ء میں نارووال میں تعینات ہوئے اور اے ایس پی ہیڈ کوارٹر سیالکوٹ، ایس ڈی پی او چنیوٹ اور ایس ڈی پی او صدر فیصل آباد تعینات رہے۔ 1992 ء میں سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے عہدے پرپروموشن کے بعد وہ ایس پی سی آئی اے گوجرانوالہ، ایڈیشنل ایس پی فیصل آباد، ایڈیشنل ایس پی بہاولپور، ایڈیشنل ایس پی گوجرانوالہ، اے آئی جی ٹریننگ، ایس پی میانوالی، ایس پی ساہیوال، ڈی پی او سیالکوٹ ، ایس ایس پی سپیشل برانچ پنجاب، ڈی پی او جھنگ و اضافی اچارج ڈی پی او بھکر اور اے آئی جی فنانس رہے۔ اس دوران انہوں نے 2001ء سے 2002 تک اقوام متحدہ کے امن مشن میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی اور 2004ء سے 2006ء تک صوبہ بلوچستان میں بھی خدمات سرانجام دیں۔ 2008 ء میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس کے عہدے پر ترقی پانے کے بعد ڈی آئی جی ایلیٹ پولیس فورس، ڈی آئی

جی آپریشن لاہور، آر پی او ساہیوال، ڈی آئی جی آر اینڈ ڈی، پولیس ہیڈ کوارٹر، آر پی او سرگودھا، سی سی پی او لاہور اور ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ تعینات رہے۔ 2014ء میں ایڈیشنل آئی جی کے طور پر پروموشن کے بعدوہ بحیثیت ایڈیشنل آئی جی آر پی او ملتان اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں خدمات انجام دینے کے بعد اب پنجاب ہائی وے پٹرول کی سربراہی کر رہے ہیں۔

اس سوال پر کہ پنچاب ہائی وے پٹرول اتنا کام ایک سال میں نہیں کرتی تھی جتنا آپ کے دور میں ایک ماہ میں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے آتے ہی تمام ریجنل ایس پی صاحبان اور ضلعی ڈی ایس پی صاحبان کی میٹنگ کال کر کے ان کی کارکردگی کا جائزہ لیا اور ہائی وے پٹرول کے کام کو مزید بہتر کرنے کے لیے ہدایات دیں۔ ایک واضح پالیسی دی کہ سپروائزری افسروں کی کارکردگی پٹرولنگ پوسٹوں کی کارکردگی سے مشروط ہو گی۔ اپنا احتساب خود کریں اس سے پہلے کہ کوئی اور کرے۔ آپ کی قابلیت کا انحصار پرفارمنس پر ہے۔ تمام افسران کو سخت محنت کرنے پر موٹی ویٹ کیا۔ اب تمام افسران اور ملازمین بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پنجاب ہائی وے پٹرول کو پنجاب پولیس کا کرائم فائٹر ونگ بنا دیا ہے۔ شاہرات پر جرائم پیشہ افراد کا گزر تنگ کر دیا ہے۔ ان کی مسلسل نگرانی ہو رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پٹرولنگ پولیس کے جوان تعلیم یافتہ اور مہذب ہیں وہ خوش اخلاقی سے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ باقی کالی بھیڑیں ہر جگہ موجود ہوتی ہیں۔ ان کے لیے میں نے وارننگ جا ری کی ہیں کہ محکمہ کی بدنامی کا باعث بننے والے اہلکار اپنے آپ کو درست کریں اور مستعدی اور دیانت داری سے کام کر یں۔ نہیں تو ان کے لیے محکمہ میں مشکلات پیدا ہونگی۔ اب ان کو ہر حال میں دیانتدارانہ کام کرنا ہو گا جو لوگ اچھا کام کررہے ہیں ان کو جزا ملے گی اور جو نہیں کر رہے وہ سزا سے نہیں بچ سکیں گے ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ میں نے تمام آفس ورک پیپر لیس کر دیا ہے۔ تمام رپورٹس اور ڈائریاں ای میل کے ذریعے فوراً مجھ تک پہنچ جاتی ہیں اور میں تمام معاملات خود دیکھتا ہوں۔ اس سے استعداد کار میں اضافہ ہوا ہے اور وقت کی بچت بھی ہوتی ہے۔ لوگ اپنے اپنے دفاتر میں بیٹھے کام کر رہے ہیں جبکہ پروگریس مجھ تک پہنچ رہی ہے۔ پٹرولنگ پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نے ہدایات جاری کی ہیں کہ تمام ملازمین اور افسران کی جسمانی تربیت کے لیے ہر سطح پر فزیکل فٹنس کا اہتمام کیا جائے اور پیشہ وارانہ مہارت میں اضافے کے لیے تمام ملازمین اور افسران کو فائر پریکٹس (چاند ماری) کروائی جائے۔ اس سلسلے میں تمام ریجنل ایس پی صاحبان اپنی نگرانی میں چاند ماری کرواتے ہیں۔اے ایس آئی اور ایس آئی کو 9 ایم ایم پسٹل جبکہ کانسٹیبل اور ہیڈ کانسٹیبل کو ایس ایم جی اور جی تھری سے فائر کرنے کی تربیت دی گئی ہے۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب ہائی وے پٹرول غلام محمود ڈوگر ایک پیشہ وارانہ اور محکمہ سے متعلق جدید مہارتوں کے حامل پولیس آفسر ہیں۔ پولیس ڈیپارٹمنٹ کو بہتر اور موثر طریقے سے چلانے کیلئے جدت پسند خیال کئے جاتے ہیں۔ لاہور ٹریفک وارڈن سروس کو کھڑا کرنے اور انکو موثر طریقے سے آپریشنل کرنے کا سہرہ انہیں کے سر ہے۔ لاس اینجلس سے انجیئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا اور پولیس سروس آف پاکستان میں اپنی خدمات کا آغاز کیا۔

انکا خیال ہے کہ آئی جی سے لیکر کانسٹیبل تک تمام پولیس افسران کو محکمہ کی عزت و وقار کو بروقت ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے اور افسران اور ماتحتان میں اعتماد کی فضاء ہونی چاہیے۔ ماتحتان کو چاہیے کہ اپنے مسائل اپنے افسران کو بیان کریں بجائے ادھر اُدھرکی سفارشات ڈھونڈنے کے اپنے مسائل براہ راست اپنے افسران کو بتائیں اور افسران کو بھی چاہیے کے اپنے ماتحتان کے مسائل ہر ممکن حد تک حل کریں۔ ایک ایسی فضاء ہونی چاہیے کہ پولیس ملازمین کوئی بھی غلط کام کرتے وقت یہ سوچے کہ میرے اس عمل سے محکمہ اور میرے آفسران کی عزت پر حرف آئے گا اور ایسے کاموں سے باز رہے۔ یہ اس وقت ممکن ہے کہ جب دونوں کا انسانی سطح پر ایک دوسرے سے رابطہ ہواورآفسران اپنے ماتحتوں کے ساتھ وقت گزاریں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ 23اپریل 1964 کو ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم آبائی علاقے سے حاصل کرنے کے بعد ایف ایس سی گورنمنٹ کالج لاہور سے امتیازی نمبروں میں کی پھر سول انجنیئرنگ کیلئے امریکہ چلے گئے، سول سروس کا امتحان پاس کرنے کے بعد 30 اکتوبر 1993میں پولیس سروس بطورِ اے ایس پی جائن کی اور 21ویں کامن ٹریننگ پروگرام میں تربیت حاصل کی۔ 1993میں سی ایس اے اکیڈمی جبکہ1994میں نیشنل پولیس اکیڈمی میں زیرِ تربیت رہے ۔ انکی پہلی پوسٹنگ 1995میں بطور اے ایس پی نواب شاہ ہوئی، 1996میں اے ایس پی پنو عاقل ر ہے ا ور پھر اے ایس پی خیرپور،1997میںیواین مشن پر روانہ ہوئے۔ 1998میں واپسی پر اے ایس پی جمشد کوارٹرزکراچی تعینات ہوئے، 1999ایس پی کے عہدے پر ترقی پانے کے بعد انکی پہلی پوسٹنگ ایس پی گلشن اقبال کراچی ہوئی پھر ایس پی سنٹرل ڈسٹرکٹ کراچی رہے۔2000میں اس پی ہیڈکوارٹرز گارڈن کراچی رہے۔

2002میں ایس ایس پی سیکورٹی کراچی رہے۔ 2004میں ڈی پی او نصیرآباد تعینات ہوئے، 2005میں ایس ایس پی آپریشن کوئٹہ رہے۔ 2006میں ایس پی لیگل ڈی اینڈ آئی لاہور جبکہ2007میں سی ٹی او لاہور تعینات ہوئے اسی دوران انکی گریڈ 19میں ترقی ہوئی۔ 2008میں ایس ایس پی، سی آئی ڈی پنجاب رہے۔ 2010میں اے آئی جی ٹریننگ رہے، اسی دوران آٹھویں سینئر مینجمنٹ کورس میں شرکت کی۔ 2011میں سی پی او گوجرانوالہ تعینات ہوئے اور انکے پاس آر پی او گوجرانوالہ کا بھی چارج رہا۔ پھر ڈی آئی جی آپریشن لاہور تعینات ہوئے۔ ڈی آئی جی کے رینک میں ترقی پانے پر 2013میں سی پی او ملتان اور ڈی آئی جی، آر اینڈ ڈی رہے اور نیشنل منجیمنٹ کورس میں شرکت بھی کی۔ 2015میں آر پی او ساہیوال تعینات ہوئے جبکہ 2016میں ڈی آئی جی پنجاب ہائی وے پٹرول تعینات ہوئے، انہیں بہترین کارکردگی کی بنا پر 2005اور 2006میں پریزیڈنٹ پولیس میڈل اور قائداعظم پولیس میڈل سے بھی نوازا گیا۔انہوں نے پنجاب ہائی وے پٹرول کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب ہائی وے پٹرول اپنے قیام سے ابتک شاہرات کو محفوظ بنانے اور دوران سفر کسی بھی قسم کی مشکلات کے سلسلے میں عوام کو مفید خدمات مہیا کررہی ہے۔ اس کے قیام سے قبل شاہرات پر سفرکرناخصوصاً رات کے وقت خطرات سے بھرپور ہوتا تھا۔ ڈاکو ناکے لگا کر کئی بسیس اور گاڑیاں لوٹ لیتے تھے۔ بعض علاقوں میں تو پولیس اپنی نگرانی میں آٹھ آٹھ دس دس بسیں لیکر روانہ ہوتی تھی اور اپنی حدود پار کراتی تھی۔ خدانخواستہ کسی کی کار، بس یا موٹر سائیکل خراب ہوجاتی یا انہیں کچھ مشکل پیش آتی تو انکا کوئی مددگار اور پرسان حال نہ ہوتا تھا۔ آپ ذرا تصور کریں کہ آپ اپنی فیملی کے ہمراہ کسی سنسان سڑک پر سفر کررہے ہیں اور آپکی گاڑی خراب ہوجاتی ہے ، پنکچر ہوجاتی ہے یا فیول ختم ہوجاتا ہے اس صورت میں آپ کیا کریں گے۔ مکینک کے پاس جائیں گے یا فیملی کی حفاظت کیلئے گاڑی کے پاس رُکیں گے اور اگر یہ تمام ماجرارات کے وقت ہوجائے تو کس قدر تکلیف دہ صورتحال ہوگی۔ لیکن پنجاب ہائی وے پٹرول کے قیام کے بعد نہ صرف شاہرات دن رات سفر کیلئے محفوظ ہوگئی ہیں بلکہ کسی بھی مشکل میں پی ایچ پی آپکی ہر ممکن مدد کرتی ہے اور باحفاظت آپکو منزل تک پہنچاتی ہے۔اگر آپ کسی بھی قسم کی مشکل میں مبتلا ہیں تو ہیلپ لائن 1124پر کال کریں تو قریب ترین گاڑی فوری طور پر آپکی مدد کیلئے پہنچے گی۔

ایس پی ہیڈکواٹرز کے عہدے کا چارج شازیہ سرورکے پاس ہے۔ انہوں نے 2014 میں بطورASPساہیوال سٹی سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔ا س کے بعدان کو ASP گارڈن ٹاؤن لاہور تعینات کیا گیا۔2015 میں انہوں نے PSO ٹو IG/FC کام کیا۔ اس کے بعد2016 میں ان کو SP گلگشت ٹاؤن، ملتان کا چارج دیا گیا۔ کچھ عرصہ کام کرنے کے بعد 2017 میں وہ SP ٹیلی کمیو نیکیشن لاہور میں تعینات ہوئیں اور اب وہ SP جینڈر کرائم CPO میں کام کر رہی ہیں۔ اور ان کے پاس SP ہیڈکواٹرز پنجاب ہائی وے پٹرول کا چارج بھی ہے۔

لاہور یجن میں ایس ایس پی بابر بخت قریشی اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں وہ 11 اگست 1977کو قصور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 28 کامن ٹریننگ پروگرام میں شرکت کی اور 2002 میں اے ایس پی یوٹی کوئٹہ میں تعینات ہوئے۔ 2003 میں ایس ڈی پی او صدر سبی رہے اور پھر انکی خدمات صوبہ پنجاب کے حوالے کر دی گئیں۔ 2003 میں وہ ایس ڈی پی او مٹھہ ٹوانہ تعینات ہوئے جبکہ 2004 میں انکا تبادلہ بطور ایس ڈی پی او اچھرہ لاہور ہو گیا۔2005 میں اے ایس پی انویسٹی گیشن باغبانپورہ لاہور تعینات ہوئے۔2009میں انکو ایس ڈی پی او نو لکھا لاہور لگا دیا گیا اسی دوران بطور ایس پی ترقی پا کر ایس پی انویسٹی گیشن ساہیوال تعینات ہوئے پھر ایس پی ڈپٹی ڈائریکٹر ای پی آر پنجاب تعینات ہوئے۔2008 میں ایڈیشنل ایس پی مجاہد سکواڈ لاہور کے فرائض انکے سپرد کئے گئے۔ 2009 میں ایڈیشنل ایس پی آپریشن سٹی ڈویژن تعینات ہوئے اور پھرایڈیشنل ایس پی ہیڈکواٹرز لاہور رہے۔2010 میں وہ ڈی پی او بہاولپور بنادیے گئے جبکہ ایس ایس پی رینک میں ترقی پاکر 2011 میں وہ ڈپٹی ڈائرکیٹر ای پی ایف پنجاب تعینات ہوئے۔ 2012 اے آئی جی ایڈمن پولیس ہیڈکواٹرز تعینات ہوئے پھر وہ ایس ایس پی آپریشنز لاہور رہے۔ پھر ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہوررہے۔ 2013 میں وہ اے آئی جی ڈویلپمنٹ سی پی او لاہور کے بعد ڈی پی او اوکاڑہ رہے۔ 2015 میں وہ ایس پی (پی ایچ پی) لاہور ریجن تعینات ہوئے اور ابھی تک اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 2 -