پنجاب رواں سال جرائم کی شرح میں تشویشناک اضافہ، 6ہزار سے زائد مر دو خواتین اور بچے قتل ، سرچ آپریشن کاغذی کارروائیوں تک محدود

پنجاب رواں سال جرائم کی شرح میں تشویشناک اضافہ، 6ہزار سے زائد مر دو خواتین ...

  

لاہور(رپورٹ، یونس باٹھ)رواں سال کے دوران صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھر میں جرائم کی شرح میں تشویشناک اضافہ ہواہے۔پولیس کے پنجاب میں جاری سرچ آپریشن کا غذی کاروائیوں تک محدود‘تھانوں میں کم نفری‘ محدود وسائل‘6 ہزار سے زائدمردو خواتین اور بچوں کا قتل‘3100سے زائد پرُاسرار ہلاکتیں‘مبینہ پولیس مقابلوں میں375 افراد کی ہلاکت‘ڈکیتی مزاحمت پر4پولیس اہلکاروں سمیت299مردوخواتین کا قتل‘3500سے زائد خود کشیاں‘ ٹریفک حادثات میں4000سے زائد ہلاکتیں‘آتشزدگی کے واقعات میں500سے زائد ہلاکتیں‘ خون میں ڈوبے سال2017کا سورج غروب ہو نے میں چند دن باقی۔ پنجاب پولیس نے 10 ہزار سے زائد ملزمان کو گرفتار بھی کیا گیا، مختلف کارروائیوں میں 35 ہزار سے زائد گولیاں بھی برآمد کی گئیں۔سال دو ہزار سترہ میں پولیس کے چھاپے اور کارروائیاں پنجاب کے شہروں میں جرائم کی شرح میں کمی تو لائیں مگر کوئی واضح فرق نہ آسکا۔ 2017 کے دوران سر کی قیمت والے109دہشتگردوں اور500اشتہاریوں کے ساتھ‘11بڑے اشتہاری گروپوں اور76ہزار سے زائد اشتہاریوں نے لا ہور سمیت پنجاب بھر میں ادھم مچائے رکھا جبکہ پولیس انہیں گرفتار کرنے میں بری طرح نا کام رہی۔صرف لا ہور میں35ہزار سے زائد اشتہاریوں کی گرفتاری پولیس کیلئے چیلنج بنی رہی۔پنجاب بھر میں ڈاکوؤں‘ چوروں‘ منشیات فروشوں اور ناجائز اسلحہ کے خلاف چلائی جانے والی پولیس کی خصوصی مہم بھی کاغذی کارروائیوں تک محدود رہی۔پولیس 2جرمن باشندوں جیوانی سپاٹو اور برڈ سمیت پنجاب سے اغوا ہونے والے27اہم افراد کا پتہ لگانے نیز اغوا کے بعد قتل ہونے والی بھارت نژاد کینیڈین بینکار رجوند کور گل کی لاش بھی برآمد کرنے میں ناکام رہی۔ پنجاب میں34ہزارسے زائد مقدمات درج ہو ئے جبکہ10لاکھ 80ہزارسے زائد درخواستوں پر مقدمات کا اندراج مختلف وجوہات کی بنا پر التوا کا شکار رہا۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال پنجاب میں اغوا اور اغوا برائے تاوان کے مقدمات پچھلے سا ل کی نسبت کم درج ہوئے لیکن پنجاب میں اغوا کی21ہزار سے زائد درخواستیں زیر التوا رہیں۔اغوا کے واقعات میں زیادہ تر جواں سال لڑکیوں کے اغوا رپورٹ ہو رہے ہیں۔لا ہور میں قتل کے485مقدمات درج ہوئے جبکہ پنجاب میں اقدام قتل کے20202سے زائد مقدمات رپورٹ ہوئے ہیں۔2017 خواتین کیلئے بھی کچھ اچھانہیں گزرا‘ پنجاب میں بداخلاقی کے1725مقدمات‘ اجتماعی بداخلاقی کے195 مقدمات رپورٹ ہوئے جبکہ4ہزار سے زائدبداخلاقی اور اجتماعی بداخلاقی کے واقعات میں پولیس نے مقدمات درج کرنے کی بجائے مدعیوں اور ملزمان میں صلح کروائی۔لا ہور میں خواتین کے ساتھ بداخلاقی کے335جبکہ اجتماعی بداخلاقی کے31واقعات رپورٹ ہوئے۔لا ہور ٹریفک پولیس کی کارکردگی بھی ضلع پولیس سے مختلف نہ رہی ، سڑکوں پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتی ہوئی گاڑیو ں نے 220 ا فراد کو ہمیشہ کے لئے ابدی نیند سلا دیا جبکہ3ہزارسے زائد افراد عمر بھر کے لئے معذور ہو گئے۔پنجاب میں رواں سال کے دوران ٹریفک حادثات میں2500سے زائد افراد ہلاک جبکہ45ہزار سے زائد زخمی ہو ئے۔پنجاب میں روزانہ500سے زائد ٹریفک حادثات رپورٹ ہو رہے ہیں جن میں روزانہ7کے قریب افراد ہلاک جبکہ600کے قریب زخمی رپورٹ ہو رہے ہیں۔ سال 2017 میں سٹریٹ کرائم میں بھی تشویشناک حد تک اضافہ ہوااور ڈکیتی اور چوری کے واقعات کا بازار بھی گرم رہا۔سال 2017میں پنجاب میں ڈکیتی اور راہزنی کے41000ہزارسے زائد مقدمات درج جبکہ ڈیڑھ لاکھ سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے۔ریسکیو ٹیموں کی ناقص کارکردگی کے باعث پنجاب میں ہونے والے آتشزدگی کے واقعات میں500سے زائد افراد لقمہ اجل بنے۔صرف لا ہوار میں روزانہ6 سے 10آ تشز دگی کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔اندھے قتل کی درجنوں وارداتیں پولیس کیلئے چیلنج بنی رہیں جبکہ لا ہور میں لڑکیوں کی ملنے والی بوری بند لاشوں کے باعث شہری سہمے رہے۔لا ہور سمیت پنجاب بھر میں نوسر بازی کی وارداتوں نے بھی خوف و ہراس پھیلائے رکھا، صرف لا ہور میں روزانہ نوسربازی کے باعث ایک ہلاکت رپورٹ ہو رہی ہے۔ پنجا ب پو لیس کے تر جما ن کا مو قف ہے کہ پنجا ب میں امن وامان کی صورتحا ل بہتر ہے اور جرائم کی شر ح ہر سال بتد ریج کم ہو رہی ہے۔ پہلے کی نسبت شکایات میں کمی ہوئی ہے۔

مزید :

علاقائی -