شہبازشریف کا ویژن

شہبازشریف کا ویژن
 شہبازشریف کا ویژن

  


مسلم لیگ (ن) سے محبت کرنے والے میرے ایک دوست کا خیال ہے کہ عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ، طاہرالقادری، خادم حسین رضوی، ق لیگ،پی پی پی،پی ٹی آئی،ختم نبوت کے تمام جماعتوں میں موجود پروانے بریلوی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے پیر سیالوی اور دیگر گدی نشین ملکر بھی مسلم لیگ (ن) کو نہیں توڑ سکے۔وہ جب مسلم لیگ (ن) کے حق میں جذباتی تجزیہ فرماتے ہیں تو ساتھ ساتھ اپنی آستینیں بھی چڑھانا شروع کر دیتے ہیں ۔اس بار میاں نواز شریف نے 2018ء کے انتخابات سے بہت پہلے اپنے چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف کو ایڈوانس وزیر اعظم نامزد کر کے جہاں اپوزیشن کو حیران کر دیا، وہاں پارٹی میں جو اختلافات کی باتیں ہو رہی تھیں ایسی تمام باتوں اور کہانیوں کو وقتی طور پر ختم کر دیا ہے۔جس کا ترجمہ ہر شخص اپنے اپنے انداز میں کر رہا ہے۔بعض صاحبان کا خیال ہے کہ میاں نواز شریف نے میاں شہباز شریف کو اگلا وزیراعظم نامزد کر کے اپنے سیاست سے مائنس ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج کی مسلم لیگ (ن) ماضی کی مسلم لیگوں سے مختلف نظر آرہی ہے، نہ صرف آمریت کا مقابلہ کرنے کے بارے میں پر عزم ہے بلکہ میاں نواز شریف کی قیادت میں ابھی تک متحد بھی ہے۔اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ مسلم لیگ ن کی آنے والے وقت میں شکل کچھ بھی ہو لیکن یہ میاں نواز شریف کی قیادت میں ہی آگے بڑھے گی اور اس پارٹی کو طاقت اگر کسی شخصیت سے ملے گی تو وہ میاں نواز شریف ہونگے۔ یہ کہا جا رہا تھا کہ میاں نواز شریف کے پاس آپشن ختم ہوچکے ہیں۔لیکن میاں نواز شریف نے میاں شہباز شریف کو اگلا وزیراعظم نامزد کرکے اپوزیشن کے ساتھ ساتھ مقتدر حلقوں کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیاہے اور جب ہم شہباز شریف کے ساتھ وزیراعظم مریم نواز کے نعرے لگتے ہوئے دیکھتے ہیں تو بات آسانی کے ساتھ سمجھ آجاتی ہے کہ میاں نواز شریف نے مریم نواز کو بھی اپنی سیاسی وارث کے طور پر سامنے لانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ اگر میاں نواز شریف نے کسی ڈیل کے نتیجہ میں یہ فیصلہ کیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ میاں نواز شریف نے مزاحمت کی سیاست سے جو راستہ نکالنا تھا وہ نکال چکے ہیں،لیکن اگر خاندان اور پارٹی کو متحد رکھنے کے لیے یہ فیصلہ کیاگیا ہے تو پھر بھی فیصلہ بُرا نہیں ہے۔آپ اس فیصلے کے ن لیگ کے حق میں اثرات کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ جب سے میاں نواز شریف نے یہ اعلان کیا ہے عمران خان بھی خاموش ہیں ،مشاورتی اجلاسوں میں مصروف ہیں آصف علی زرداری بھی منظر سے غائب ہیں۔ن لیگ کے اندر بھی جو اختلافات کی خبریں آرہی تھیں، وہ کم ہوئی ہیں ۔عدالتی کارروائیوں میں بھی ٹھہراؤ کی کیفیت ہے۔

جو جنوری کے پہلے ہفتے سے ہونے جا رہا ہے اور یہ بہت بڑے بڑے چیلنجز ہونگے جن کا مقابلہ اب اکیلے میاں نواز شریف نہیں کرینگے بلکہ میاں نواز شریف کی لڑائی میں شہباز شریف بھی براہ راست ایک اہم ترین سٹیک ہولڈر کے طور پر سامنے آئے ہیں ۔ جو لڑائی میاں نواز شریف ایک عرصے سے اکیلے لڑ رہے تھے اب شہباز شریف کو فرنٹ فٹ پر لڑنی ہوگی ۔شہباز شریف کو اگرمستقبل میں میاں نواز شریف اور ان کے نظریاتی ساتھیوں کی حمایت چاہیئے تو پھر ان کو مفاہمت چھوڑکر میاں نواز شریف کے مزاحمت کے فیصلے کو اپنانا پڑے گا۔لیکن اس بات کا بھی فیصلہ کسی اور قوت نے کرنا ہے کہ ان کو میاں نواز شریف کے اعلان کے ساتھ کس حد تک اتفاق یا اختلاف ہے؟ بہرحال میاں نواز شریف کا حالیہ اقدام اگر ڈیل کا نتیجہ ہے یا نہیں تو دونوں صورتوں میں اب شہباز شریف کو ثابت کرنا ہوگا کہ 2018ء کے انتخابات میں وہ ملک کی سب سے بڑی عدالت سے صادق اور امین کے سرٹیفکیٹ کے حامل عمران خان کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں ۔یہ میاں شہباز شریف کے لیے اس لیے بھی ضروری ہے کہ ان کو میاں نواز شریف کی نا اہلی کے بعد پہلی بار موقع ملے گا کہ وہ قومی سطح کے لیڈر کے طور پرانتخابی مہم چلائیں گے، دوسری پارٹیوں کے قائدین کے مقابلے میں کھڑے ہوکر سیاست کر سکیں گے، ورنہ اس سے قبل ان کا موازنہ وزیراعلیٰ سندھ، وزیر اعلی خیبرپختونخوا کے ساتھ کیاجاتا رہا ہے جو انکے ساتھ سرا سر زیادتی ہے۔ ان کا سڑکیں،پل بنانے اور دوسرے صوبوں کی نسبت پنجاب میں زیادہ ترقیاتی کام کئے جانے کے حوالے سے تو موازنہ کیا گیا مگر قومی سطح کی قیادت کے مقابلے میں ان کے ویژن کو سامنے لانے کے حوالے سے کام نہیں ہوا۔ اس بات کا احساس میاں شہباز شریف ، انکے خیر خواہوں اور میڈیا مینجرز کو بھی ہوچکا ہے کہ شہباز شریف کے پولیٹیکل ویژن کو سامنے لا کر ہی ان کو قومی سطح کا لیڈر بنا یا جا سکتا ہے،کیونکہ قومی سطح کا لیڈر بننے کے لئے ملک اور قوم کو آگے بڑھانے کے لیے ایک لائحہ عمل، پالیسی اور ویژن پیش کرنا پڑتا ہے۔ میاں شہباز شریف کو اب ملکی سطح کے کرائسزکے حل کے لیے ویژن دینا چاہیئے۔ورنہ میٹرو بس ،اورنج لائن،سڑکیں اور انڈر پاس بنانے سے شہباز سپیڈکا خطاب تو مل سکتا ہے یہ کام تو انکی نگرانی میں ڈی جی ایل ڈی اے بھی کر سکتا ہے۔ اب پاکستان کو انکی شکل میں قومی لیڈر کی ضرورت ہے جن کے پاس تجربہ بھی ہے اور اداروں کے ساتھ مل کر چلنے کا ایک لائحہ عمل بھی ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ ان کو بڑے بھائی وزیراعلیٰ پنجاب سے قومی لیڈر بننے میں کتنی سپورٹ کرتے ہیں؟ فی زمانہ یہ مشکل کام ہے،لیکن اگر مشکلات میں گھرے میاں نواز شریف نے اپنی ذات کی نفی کر کے شہباز شریف کو آگے کر دیا تو یہ ملک وقوم اور ان کی اپنی ذات کے لئے بہتر ہوگا۔

)

مزید : رائے /کالم


loading...