2017سکولز ایجوکیشن کی حالت سدھر نہ سکی،منصوبے دھرے کے دھرے

2017سکولز ایجوکیشن کی حالت سدھر نہ سکی،منصوبے دھرے کے دھرے

  

ملتان(جنرل رپورٹر)سال 2017ء میں سکولز ایجوکیشن کی حالت دگرگو ں رہی۔گھروں سے دور دراز علاقوں کے سکولوں میں پڑھانے والے جنوبی پنجاب کے 8ہزار سے زائد اساتذہ بالخصوص خواتین اساتذہ کے تبادلے انکے گھروں کے قریب نہ ہوسکے اور وہ گزشتہ سالوں کی طرح اس سال میں بھی محروم رہے تاہم وزیراعلیٰ ڈائریکٹوز پر محکمہ تعلم نے متعدد تبادلے کئے اور سفارش نہ رکھنے والے پیچھے رہ (بقیہ نمبر63صفحہ12پر )

گئے۔اس سال میں ضلع ملتان وزیراعلیٰ روڈ میپ کی رینکنگ میں پیچھے رہا اور ٹاپ ٹین میں نہ آسکا۔حکومت کے اعلان کے مطابق ہر یونین کونسل میں ایک ہائی سکول کھولنے پر تو عملدرآمد نہ ہوسکا تاہم ہر یونین کونسل میں کسی ایک مڈل سکول کو زبردستی اپ گریڈ ظاہر کرکے اسے نہم کلاسز کے داخلوں کی اجازت دے دی گئی تاکہ حکومت کا اعلان غلط ثابت نہ ہوسکے۔جنوبی پنجاب کے 100ہائی و ہائر سیکنڈری سکولز پرنسپلز سے محروم رہے ان میں ملتان میں پانچ ہائی سکولز گورنمنٹ پائیلٹ سیکنڈری سکول،گورنمنٹ مسلم ہائی سکول،گورنمنٹ سی ٹی ایم ہائی سکول ملتان،گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری سکول چاہ بوہڑ والا اور گورنمنٹ بوائز نصرت الاسلام ہائی سکول ملتان پرنسپلز سے تاحال محروم ہیں۔ مڈل و ہائی سکولوں میں آئی ٹی لیبز قائم کرنے کے اعلان پر بھی عملدرآمد نہ ہوا۔تعلیمی بورڈ ملتان میں ملٹی پرپلز ہال کے منصوبے پر بھی کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔اگست 2017ء میں بھرتی ہونے والے نئے مرد و خواتین ایجوکیٹرز کو سال2017ء دسمبر تک بھی تنخواہ نہ مل سکی ہے۔اس سال میں سکولوں کو جاری کروڑوں روپے کے نان سیلری بجٹ(این ایس بی) کے فنڈز کا آڈٹ نہ ہوسکا اور سکولوں میں اس فنڈ کا بے دریغ استعمال ہوا۔سال 2017ء میں ہی صوبہ بھر میں ایجوکیشن اتھارٹیز تو قائم ہوئیں مگر ڈائریکٹوریٹس آف سکولز کے قیام کا فیصلہ خواب ہی رہ گیا۔اس سال میں پرائیویٹ سکولوں کا تعلیمی سیشن مکمل ہوگیا ہے مگر سرکاری سکولوں کا تعلیمی سیشن سابقہ سالوں کی طرح مکمل نہیں ہو سکا ۔اس سال نہم دہم میں نیا ٹیکنیکل گروپ بنانے کے کام پر بھی عملدرآمد نہ ہوسکا۔سال 2017ء میں ضلع ملتان کے100سکولوں میں واٹرفلٹریشن پلانٹس نصب کئے گئے مگر ضلعی انتظامیہ کو نیب ملتان کی انکوائری کا بھی سامنا رہا۔اس کے علاوہ سال بھر میں مانیٹرنگ سیل کے چھاپوں کے دوران صوبہ بھر میں58 سو اساتذہ غیر حاضر پائے گئے جنکی تنخواہوں سے کٹوتیاں ہوئیں۔ اس سال میں ملتان سمیت صوبہ بھر کے سکولوں میں 8ہزار نئے کلاس رومز کی تعمیر ہوئی۔مزید برآں پرائیویٹ سکولوں کو بلڈنگ سرٹیفکیٹس کے اجراء میں بھاری رشوت لئے جانے کا بھی انکشاف ہوا جسے روکا نہ جاسکا۔

سکولز ایجوکیشن

مزید :

ملتان صفحہ آخر -