آئمہ مساجد کی تنخواہ این جی اوز کا اعزازیہ ہے : مولانا گل نصیب

آئمہ مساجد کی تنخواہ این جی اوز کا اعزازیہ ہے : مولانا گل نصیب

  

کرک ( بیورورپورٹ ) جمعیت علماء اسلام (ف) کے صو بائی امیر مولانا گل نصیب خان نے صوبائی حکومت کی طرف سے جاری کئے جا نے والے آئمہ مساجد کی تنخواہ کو این جی اوز کا اعزازیہ قرار دے دیا ‘ بچنے کی تا کیدجا ری کر دی گئی‘جمعیت علماء اسلام(ف) تحصیل تخت نصرتی کے فنانس سیکرٹری مفتی خالد عثمان نے مولانا گل نصیب کے نام ایک در خواست میں عرض کی کہ صو بائی حکومت نے آئمہ مساجد کے لئے ماہانہ اعزازئے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ناظمین ویلج کونسل نے آئمہ مساجد کے کوائف بھی جمع کئے ہیں ‘ اور جمعیت علماء اسلام(ف) سے تعلق رکھنے والے آئمہ مساجد نے کوائف دینے سے اس لئے انکارکیا ہے کہ جمعیت (ف) کے مر کزی و صوبائی قائدین نے منع کیاہے ‘ لیکن ان کی جگہ جمعیت (س) ‘ جماعت اسلامی ‘ یا تبلیغی جماعت سے وابسطہ افراد نے اپنے نام لکھوا کر فارم پر کئے ہیں ‘ اس سے یہ مسئلہ بنے گا کہ جو سر کاری طو ر پر امام بنا ‘ وہ امام رہے گا اور قوم بھی اس کے ساتھ معاون ہو گی ‘ جمعیت علماء اسلام ا(ف) کے کارکن کو مساجد کے امامت سے نکالا جا ئے گا‘ تو اسی صورت میں بہت سارے مساجد کے ممبر و محراب ہمارے جمعیت علماء اسلام کے ہاتھوں سے نکل جائیں گے اور جمعیت کا پیغام عوام تک پہنچا نا مشکل ہو جا ئے گا‘ اس سلسلے میں رہنما ئی فر مائی جا ئے‘ مفتی خالد عثمان کے اس تحریری در خواست کے جواب میں امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) خیبر پختون خواہ مولانا گل نصیب خان نے تحریری طور پر جواب عرض کر تے ہو ئے کہا ہے کہ این جی اوز کی طرف سے جو اعزازیہ ملنا ہے اس پر تنخواہ کا اطلاق نہیں ہو سکتا ‘ نہ اس میں گریڈ نہ کوئی قانونی حیثیت ہے ‘ لہٰذا جمعیت علماء اسلام اس سے بچنے کی پو ری تا کید کر تی ہے ‘ اور صبر و استقامت سے مقابلہ کر نے کی تلقین کر تی ہے ‘ انہوں نے مزیدکہاہے کہ اس اعزازیہ کو حاصل کر نے والوں کی مستقبل تا ریک ہے اور ہمارے طرف سے اس کو لینے کی اجازت نہیں ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -