محکمہ تعلیم کیساتھ مدارس کی رجسٹریشن کیلئے کوئی معقول راستہ نہیں،مفتی سراج الحسن

محکمہ تعلیم کیساتھ مدارس کی رجسٹریشن کیلئے کوئی معقول راستہ نہیں،مفتی سراج ...

پشاور(سٹاف رپورٹر) محکمہ تعلیم کے ساتھ مدارس کی رجسٹریشن کے لیے کوئی معقول راستہ اختیار نہیں کیا گیا۔ہم بھی تعلیم کے ساتھ رجسٹریشن چاہتے ہیں ۔مدارس رجسٹریشن صرف بورڈ میں فارم تقسیم کرنے کا نام نہیں ۔ بلکہ اس کے لیے وسیع پیمانے پر قانون سازی کی ضرورت ہے ۔ ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ بورڈ کے ذمہ صرف بچوں کا امتحان لینا اور انہیں سرٹیفکٹ جاری کرنا ہے وہ رجسٹریشن کا ادارہ نہیں بن سکتا ۔ علاوہ ازیں وہ صرف ایف اے کی سطح تک امتحان لے رہا ہے ہمارے مدارس ایلمنٹری سطح سے لے کر یونیورسٹی تک ہیں ۔ ہم رجسٹریشن کے معاملے میں حکومت کے ساتھ ہرقسم کی تعاون کے لیے تیار ہیں تاہم اس کے لیے مشاورت کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس معاشرہ کوا علی تربیت یافتہ افراد دے رہے ہیں ۔ ریکارڈ سے یہ ثابت ہے کہ دینی مدارس کا فارغ التحصیل کوئی نوجوان اخلاقی جرائم میں ملوث نہیں رہا۔ وہ گزشتہ روز صحافیوں کے اعزاز میں دیے گئے ظہرانے سے بات چیت کررہے تھے۔ائمہ کرام کو تنخواہ لینے کے معاملے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ وفاق المدارس کا مسئلہ نہیں اس لیے میں وفاق المدارس کے صوبائی ناظم کی حیثیت سے اس پر کوئی رائے تو نہیں دے سکتا ہوں تاہم ذاتی رائے یہ ہے کہ یہ ائمہ کرام کو مشکل اور پھنسانے کے لیے حکومت کی ایک چال ہے ۔ کیونکہ بجٹ میں ان کے لیے کوئی حصہ مقرر نہیں اور نہ قانون سازی ہوئی ہے توکس مد سے یہ اعزازیہ دیا جارہاہے ۔ اگر حکومت واقعی ائمہ کرام کے ساتھ مخلص ہے توپھر باقاعدہ قانو ن سازی کرکے ائمہ کرام کو مستقل کرے ۔ تاکہ پھر یہ تنخواہ بند نہ ہو۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...