خواتین میں تعلیم کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ،جاوید میمن

خواتین میں تعلیم کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ،جاوید میمن

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ریجنل ڈائریکٹرجاوید میمن نے کہاہے کہ ملک میں گذشتہ پندرہ برس کے دوران خواتین میں تعلیم کی شرح میں اڑتالیس فیصد کی رفتار سے بڑھی ہے ہماری جامعات میں استفادہ کرنے والے نوجوانوں کی تعداد ساڑھے تین کروڑ تک جاپہنچی ہے یہ باتیں انہوں نے ڈاؤ یونیورسٹی کے اوجھا کیمپس کرکٹ گراؤنڈ میں منعقدہ تیسری آل پاکستان ڈائس ڈ ی یو ایچ ایس ہیلتھ انوویشن ایگزی بیشن دو ہزار سترہ DICE DUHS HEALTH INNOVATION EXHIBITION 2017 3RD ALL PAKISTAN کی افتتاحی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پر ہائر ایجوکیشن کمیشن کے پندرہ برس مکمل ہونے کی خوشی میں کیک بھی کاٹاگیا جبکہ تقریب سیڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد سعید قریشی،ڈائس یوایس اے کے چیئرمین ڈاکٹر خورشید قریشی، پرووائس چانسلرز پروفیسرڈاکٹر خاورسعید جمالی، پروفیسر ڈاکٹر محمد مسرور،ڈاکٹر سہیل حسن، ڈاکٹر صنم سومر و،ڈاکٹر رملہ اور دیگر نے خطاب کیا۔ ڈاکٹر جاوید میمن نے اپنے خطاب میں کہاکہ پاکستان میں دوہزار دو کے بعد تعلیم کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جو بھارت افریقہ روس چین کے اتحاد میں شامل برکس مما لک میں سب سے زیادہ ہے۔ پاکستان کی جامعات سے رواں سال کے اختتام تک پی ایچ ڈی کرنے والوں کی تعداد گیارہ ہزارہوجائے گی جسے جلد ہی اڑتیس ہزار تک لے جائیں گے، اب تعلیم کے ساتھ ساتھ تحقیق اور ایجادات کی ضرورت ہے،وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد سعید قریشی نے کہاکہ نوجوانوں کے نئے آ ئیڈیاز اور ایجادات کے رجحانات کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی کیلیے ڈاؤ یونیورسٹی نے تیسری ڈائس منعقد کی ہے ،اگلے برس یہ نمائش دسمبر سے پہلے منعقد ہوگی انہوں نے کہاکہ ایسی نمائشوں کو انعقاد سے ملک کو نئے سائنس دان اور موجد ملیں گے انہوں نے نمائش میں پروجیکٹس پیش کرنے والے طلبا کو نوجوان سائنس دان کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ کی کاوشوں کے نتیجے میں جدید ٹیکنالوجی ملک کے دور دراز علاقوں میں سستے داموں پہنچے گی اور کم قیمت دوا بھی غریب آدمی کوملے گی ڈائس یوایس اے کے چیئرمین ڈاکٹر خورشید قریشی نے کہاکہ ان کی تنظیم ڈائس فاؤنڈیشن امریکا کوپاکستان کے نوجوانوں سے بہت امیدیں وابستہ ہیں ملک کے حالات بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے باعث تشویش ہیں لگتاہے ہم بحیثیت قوم کھوکھلے ہوچکے ہیں انیس سو اسی کی دہائی تک ہم اسٹیتھ اسکوپ بھی درآمد کرتے تھے آج ہمارے نوجوان ہارٹ پیس میکر بنارہے ہیں یہی امید ہماری تشویش کم اوراطمینان کو بڑھاتی ہے انہوں نے کہاکہ ہم آج بھی سرجیکل گلوز امپورٹ کرتے ہیں مگر نوجوانوں سے امید ہے کہ جلد ہی ہم ایسی ساری امپورٹ بند کرکے صرف خام مال درآمدکریں گے۔ پروفیسر خاور سعید جمالی نے کہاکہ ملک کی بیس سے زائد یونیورسٹیز کے نوے پروجیکٹس لائے گئے ہیں ان میں سے ریسرچ بیس پروجیکٹ بھی ہیں اورمیڈیکل،کلینکل اور کمپیوٹر سائنس کے بھی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ دوہزار پندرہ سے ڈائس نمائش منعقد کی جارہی ہے اس کے ذریعے نوجوانوں کو آگے لانا ہے۔ ڈاکٹر محمد مسرور نے کہاکہ نوجوان نسل کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے ان کی سرپرستی کرکے ہی ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالا جاسکتاہے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -