”یہ توبہ توبہ کا مقام ہے کیونکہ۔۔۔“ کلبھوشن کی والدہ اور اہلیہ سے ملاقات کے دوران ایسا کام ہو گیا کہ نجی ٹی وی کا رپورٹر ٹی وی پر بار بار کان پکڑ کر توبہ کرتا رہا، ویڈیو نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی

”یہ توبہ توبہ کا مقام ہے کیونکہ۔۔۔“ کلبھوشن کی والدہ اور اہلیہ سے ملاقات کے ...
”یہ توبہ توبہ کا مقام ہے کیونکہ۔۔۔“ کلبھوشن کی والدہ اور اہلیہ سے ملاقات کے دوران ایسا کام ہو گیا کہ نجی ٹی وی کا رپورٹر ٹی وی پر بار بار کان پکڑ کر توبہ کرتا رہا، ویڈیو نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان نے سزائے موت پانے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گزشتہ روز والدہ اور اہلیہ سے ملاقات کرائی تو بھارتی میڈیا نے اس معاملے پر بھی سازش کرنے کی کوشش کی اور زہر اگلنے کا کوئی موقع بھی ہاتھ نہ جانے دیا۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔”اگلا قربانی کا بکرا بھی تیار ہے اور وہ کوئی اور نہیں بلکہ۔۔۔“ عارف نظامی نے تہلکہ خیز دعویٰ کر دیا، ایسا نام لے لیا کہ جان کر ہی شہباز شریف کے پیروں تلے سے زمین نکل جائے گی

پاکستانی میڈیا نے اس معاملے کو خوب کوریج دی لیکن ایسے میں ایک صحافی ٹی وی سکرین پر باقاعدہ ”توبہ توبہ“ کرتے بھی نظر آئے جن کا کہنا تھا کہ ایک دہشت گرد کو پاکستان میں پروٹوکول دیا جا رہا ہے اور اس پر حکومت پاکستان ہی نہیں بلکہ ریاستی ادارے بھی مکمل خاموش ہیں۔

نجی ٹی وی کے صحافی نے ٹی وی سکرین پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ”یہ توبہ توبہ کا مقام ہے کہ ایک سزائے موت کا قیدی کلبھوشن یادیو، جو ایک دہشت گرد ہے اور جس کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، اس کی جیل میں ملاقات کرنے کی بجائے فارن آفس میں ملاقات کرائی جا رہی ہے۔

یہ توبہ توبہ کا مقام ہے کہ حکومت پاکستان نے فارن آفس کو سب جیل بھی قرار نہیں دیا اور اس کے بغیر ہی اس کی ملاقات کرائی گئی جبکہ کلبھوشن یادیو نے ایک قیدی کا لباس بھی نہیں پہنا ہوا، یہ توبہ توبہ کا مقام ہے کہ حکومت پاکستان پر اس پر خاموش ہے اور ریاستی ادارے بھی خاموش ہیں۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔”یہ دیکھو! کلبھوشن پر تشدد کیا گیا ہے اور۔۔۔“ والدہ اور اہلیہ سے ملاقات کی تصاویر جاری ہوتے ہی بھارت نے واویلا شروع کر دیا، کیا چیز دیکھ کر تشدد کا الزام لگایا؟ جان کر آپ غصے سے لال پیلے ہو جائیں گے

یہ توبہ توبہ کا مقام ہے کہ سزائے موت کا قیدی جس کی جیل قوانین کے تحت جیل کے اندر ملاقات ہوتی ہے، اس کی جیل سے باہر فارن آفس میں ملاقات کرائی جا رہی ہے جبکہ فارن آفس کو حکومت پاکستان نے سب جیل بھی قرلار نہیں دیا۔“

۔۔۔ویڈیو دیکھیں۔۔۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -علاقائی -پنجاب -لاہور -