پاک سعودی تعلقات  کے کچھ نشیب و فراز

پاک سعودی تعلقات  کے کچھ نشیب و فراز
پاک سعودی تعلقات  کے کچھ نشیب و فراز

  

پاکستان سعودی تعلقات جو کسی دور میں مثالی تھے  2017 ء میں اس نے بھی  کئی نشیب و فراز دیکھے- دنیا کے بدلتے حالات کے ساتھ مفادات بدلے اور علاقائی سالمیت کو لاحق خطرات نے جنم لیا  تو ہر کسی کو اپنا ہی آشیانہ نظر آیا – محفوظ پناہ گاہ  کی تلاش میں محفوظ خارجہ پالیسی وقت کی ضرورت بنی  - کون ہے جو اپنے ہاتھوں ہی اپنا گھر جلاتا ہے-جب جنگوں کے مہیب سائے ہم پہ لہرائے تو کچھ فیصلے ایسے بھی ہوئے جنہیں سعودی شاہی خاندان  میں کچھ  سراہا نہیں گیا- ہماری سرحدیں جل رہی تھیں اور ہمیں ان کا دفاع اپنے خون سے کرنا تھا – ایسے میں دوسروں کی جنگ میں کود جانا شاید ایک خود کشی کے مترادف تھا-

 سعودی حکمرانوں کو صرف یس باس سننے کی عادت تھی لیکن اس دفعہ یمن  اور قطر کی جنگ میں دیوانہ وار کودنے کی بجائے ہم نے  جب ہوش سے کچھ فیصلے کئے تو شاید  ان پہ ناپسندیدگی کی ایک مہر ثبت کردی گئی  تھی اور  یہ دیرینہ تعلقات سرد مہری کا شکار ہوگئے تھے -  اسی سال صدر ٹرمپ اپنے  لاؤ لشکر کے ساتھ   ریاض میں ظہور پذیر بھی ہوئے تھے اور  خوب  اسلحہ کی فروخت بھی  ہوئی تھی – ناز نخرے بھی اٹھائے گئے  تھےاور خوب تحائف بھی نظر عنائت کئے گئے تھے ۔.

 شاہ عبداللہ کا روسی دورہ بھی دفاعی ہتھیاروں کی خرید  کے لئے   ہی انجام پایا تھا- اگر دیکھا جائے تواسی سال مودی جی اور بھارت سے سعودی  قرابت داری بھی بڑھی – اعزازات سے بھی نوازا گیا – بھارت سے  باہمی معاہدات نے بھی ایک تاریخ لکھی- ان حالات میں تجزیہ نگاروں نے یہ بھی لکھا کہ  اگر پاکستان نے خلیجی بحران میں سعودی اور ان کے اتحادیوں کا ساتھ نہ دیا تو سعودی عرب کے ساتھ پاکستانی  تعلقات پہلے جیسے نہیں رہیں گے بلکہ پاکستان کو متحدہ عرب امارات، مصر اور بحرین سے محروم ہونا پڑے گا اور پھر صدر ٹرمپ کے دورہ ریاض کے دوران پاکستانی وزیراعظم کو تقریر کرنے کا موقع نہ دینے سے یہ بات عیاں ہوگئی تھی کہ سعودی عرب ہم (اسلام آباد) سے خوش نہیں ہے یعنی ہماری علاقائی  مجبوریوں کو کسی نے نہیں دیکھا اور خودغرض زمانہ قیامت کی چال چل گیا تھا اور ہم بے بس تھے۔ ہمیں تنہا کرنے کی کوششوں میں کامیاب ہونے والوں نے خوب بغلیں بجائیں تھی اور  ہم نے تنہا دہشت گردی کی جنگ لڑی نقصانات اٹھائے  اور ہر زخم خندہ پیشانی سے سینے پہ سہا – اب جب  ہم بہت سے بحرانوں پہ قابو پا چکے ہیں تو پھر محبتیں جاگ رہی ہیں-

 مشرقِ وسطیٰ کے دگرگوں حالات میں ہمارے کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا- جب جب  عالم ِ اسلام پہ سختی آئی ہے تو  ان دشواریوں سے  نبرد آزما ہونے کے لئے ان کی نظریں ہماری طرف ہی اٹھی ہیں اور ہم نے بھی کبھی مدد کو پکارتی صدا ؤں کو مایوس نہیں کیا ہے- حالیہ یروشلم  پہ پڑتی باطل نگاہوں سے پناہ کے لئے یر وشلم  کی گلیوں کوچوں  میں   پاک آرمی سے رہنمائی کی پکار اس کا بین ثبوت  اور ہمارے خلوص وجذبہ ء اخوت پہ مسلم بھائیوں کے اعتماد کی  ایک  زندہ مثال  ہے-

لائیو ٹی وی پروگرامز، اپنی پسند کے ٹی وی چینل کی نشریات ابھی لائیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سعودی عرب سے ہمارے تعلقات  میں ایک دفعہ پھر  گرمجوشی محسوس کی جا رہی ہے- جس کے جواب میں پاکستانی وزیر خارجہ نے  سعودی نائب وزیر دفاع  محمد بن عبداللہ سے گفتگو کرتے ہوئے دفاعی  تعاون کی پیش کش کی ہے- یہ حقیقت بھی سب پہ عیاں ہے کہ پاکستان سعودی تعلقات ہمیشہ سے  ہی قابل ِ تعریف حد تک قابلِ رشک رہے ہیں- دونوں نے قدرتی آفات اور ماضی  کے ناگزیر حالات میں  ایک دوسرے کا ساتھ نبھایا ہے- سعودی عرب نے پاکستان کی دل کھول کر مالی مدد کی ہے اور پاکستان نے بھی ہر آڑے وقت میں  سعودی حکومت کے لئے پر خلوص خدمات سر انجام دی ہیں- مسلم دنیا کے سروں پہ منڈلاتے خطرات کے پیشِ نظر سعودی پاک دفاعی معاہدہ   وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ ایسا کوئی بھی با ضابطہ معاہدہ پہلے سے موجود نہیں ہے- دفاعی تعلقات میں مضبوطی کے ساتھ ساتھ پاکستان نے  سعودی نائب وزیر دفاع محمد بن عبداللہ سے سرحدوں پہ بھارتی جارحیت کا بھی ذکر کیا  گیاہے  - پاکستان کے ہوتے جانی اور مالی نقصانات کو بھی  زیرِ بحث لایا گیا ہے اور سعودی عرب کو سفارتی سطح پہ  اپنا کردار ادا کرنے کی درخواست بھی کی  گئی ہے- جہاں سعودی عرب کا اثرو رسوخ اپنا  کام دکھا سکتا ہے تو  وہیں  سعودی عرب بھی پاکستانی دفاعی  صلاحیتوں سے فیض یاب ہونے کی خواہش کو عملی جامہ پہنا سکتا ہے-

سعودی عرب نے اپنی مسلح افواج کی   جدید خطوط پہ تربیت کےلئے پاکستان کا   تعاون چاہا ہے- پاکستان نے جس طرح دہشت گردی کی جنگ میں اپنے آپ کو منوایا ہے  اس سے  اس امر میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاک فوج دنیا کی بہترین صلاحیتوں سے مالا مال ایک تجربہ کار سپاہ ہے-  پہاڑوں اور میدانوں میں  جس ثابت قدمی سے پاک مسلح افواج نے کارکردگی دکھائی ہے اس کا زمانہ معترف ہے- سعودی  نائب وزیر دفاع نے آرمی چیف  جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات میں ان ہی  خیالات کو دہرایا ہے اور اسٹریٹجک تعاون بڑھانے کے لئے  دونوں ممالک میں یونیورسٹیز  کی تشکیل  کے لئے بات چیت  کی ہے- گمان غالب ہے کہ پاکستان سعودی تعلقات میں ہوتے ہوئے یہ معاہدے ایک  اہم سنگِ میل ثابت ہوں گے-  سرد مہری سے گرمجوشی کا یہ سفر  ضرور دونوں ممالک  میں دیرینہ رشتوں کی پختگی  کے ساتھ ساتھ مسلم دنیا کی حفاظت کی ضمانت  بھی بنے گا- سعودی عرب میں  موجود محنت کشوں کے لئے بھی اس سے ملازمتوں کے  نئے در کھلیں گے  کیونکہ  معاشی طور پہ مضبوط پاکستان ہی اصل میں مستحکم پاکستان ہے – ہماری خارجہ پالیسی میں ایڈ کی بجائے ٹریڈ  کا رجحان اور دوسرے ممالک سے برابری کی سطح پہ قائم ہوتے یہ  اچھے تعلقات خوش آئند ہیں-

 .

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ